Saturday , July 22 2017
Home / ہندوستان / یو پی میں 2019 تک تمام گاووں میں بجلی سربراہی یقینی بنائی جائیگی

یو پی میں 2019 تک تمام گاووں میں بجلی سربراہی یقینی بنائی جائیگی

مرکز کے ساتھ معاہدہ پر دستخط ۔ دیہاتوں میں 18 گھنٹے ‘ تحصیل میں 20 گھنٹے اور ضلع ہیڈ کوارٹرس پر 24 گھنٹے برقی سربراہی کا ریاستی کابینہ کا فیصلہ

لکھنو 11 اپریل ( سیاست ڈاٹ کام ) چیف منسٹر اترپردیش یوگی آدتیہ ناتھ نےآج حکم جاری کیا کہ ریاست میں گاووں میں 18 گھنٹے بجلی سربراہ کی جائے جبکہ تحصیل کی سطح پر 20 گھنٹے یومیہ برقی سربراہ کی جانی چاہئے ۔ بندیل کھنڈ میں بھی 20 گھنٹے برقی دی جانی چاہے ۔ انہوں نے کہا کہ وہ ریاست میں 2019 تک تمام گاووں میں برقی سربراہی کو یقینی بنانے کیلئے مرکز سے ایک معاہدہ کرنے والے ہیں۔ ریاستی کابینہ کا ایک اجلاس آج آدتیہ ناتھ کی صدارت میں منعقد ہوا جس میں فیصلہ کیا گیا ہے کہ تمام ضلع ہیڈ کوارٹرس پر 24 گھنٹے بجلی سربراہ کی جائیگی ۔ ریاستی وزیر برقی شریکانت شرما نے اجلاس کے بعد میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے یہ بات بتائی ۔ چیف منسٹر نے محکمہ برقی کو ہدایت دی کہ وہ دیہی علاقوں میں ناقص اور جلے ہوئے ٹرانسفارمرس کو تیزی کے ساتھ بدیل کرے تاکہ زرعی سرگرمیاں متاثر نہ ہونے پائیں ۔ شریکانت شرما نے کہا کہ سب کیلئے برقی معاہدہ پر چیف منسٹر آدتیہ ناتھ اور مرکزی وزیر برقی پیوش گوئل 14 اپریل کو لکھنو میں دستخط کرینگے تاکہ مرکزی حکومت کی جانب سے ریاست کو برقی کے معاملہ میں خود مکتفی بنانے کی سمت پیشرفت ہوسکے اور ریاست میں 2019 سے قبل تمام دیہاتوں میں برقی سربراہ کی جائے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر نے نوراتری کے دوران تمام شکتی پیٹھ کو برقی سربراہ کرنے کی ہدایت دی تھی اور ہم اس میں کامیاب رہے ہیں۔ اب ریاست میں امتحانات ہو رہے ہیں اور طلبا کو رات کے اوقات میں بھی برقی ملنی چاہئے تاکہ انہیں تکلیف نہ ہونے پائے ۔ چیف منسٹر نے عہدیداروں کو ہدایت دی کہ گاووں میں شام 6 بجے سے صبح 6 بجے تک بلاوقفہ برقی سربراہی کو یقینی بنایا جائے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بی جے پی سربراہ امیت شاہ اور چیف منسٹر اترپردیش آدتیہ ناتھ کا خواب ہے کہ ہر گھر کو ہر غریب کو اور ہر گاوں کو 2018 تک برقی مل جائے ۔ سابق چیف منسٹر اکھیلیش یادو کے ان ریمارکس پر کہ نوراتری اور رام نومی پر برقی سربراہی میں کوئی نئی بات نہیں ہے شریکانت شرما نے کہا کہ ماضی میں روسٹر سسٹم پر مناسب انداز میں عمل آوری نہیں کی گئی تھی اور برقی کو چیف منسٹر کی قیامگاہ تک محدود رکھا گیا تھا اور وی آئی پیز کو فراہم کی جاتی ہے ۔ انہوں نے ہمارے وی آئی پی غریب ہیں اور گاووں میں رہتے ہیں۔ ہم ان عہدیداروں کے خلاف کارروائی کرینگے جو روسٹر سسٹم پر عمل  نہیں کرتے ۔ انہوں نے کہا کہ اکٹوبر 2018 تک ریاست میں 24 گھنٹے برقی سربراہی کو یقینی بنانے اقدامات کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بھی فیصلہ کیا گیا ہے کہ ناقص ٹرانسفارمرس کو 72 گھنٹوں میں نہیں بلکہ 48 گھنٹے میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ اس کے علاوہ شہری علاقوں میں صرف 24 گھنٹوں میں ٹرانسفارمر تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔ انہوں نے برقی شعبہ میں ون ٹائم سٹلمنٹ اسکیم کا تذکرہ کرتے ہوئے کہا کہ حکومت نے گھریلو کنکشن پر سرچارچ معاف کردینے کا فیصلہ کیا ہے اور بقایہ جات کی صرف اصل رقم حاصل کی جائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ جو کسان 10 ہزار روپئے سے زیادہ برقی بقایہ جات ہیں انہیں چار قسطوں میں ادائیگی کی سہولت بھی دی جائیگی ۔ انہوں نے کہا کہ حکومت ریاست میں شکر کی ملوں کو بھی کارکرد بنانے کیلئے اقدامات کریگی اور اگر یہ ملیں بھی اپنے بقایہ جات ادا کرنے میں ناکام ہوجاتی ہیں تو ان کے خلاف بھی کارروائی کرنے سے گریز نہیں کیا جائیگا ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT