Wednesday , September 27 2017
Home / اداریہ / یو پی کی انتخابی مہم اور مودی

یو پی کی انتخابی مہم اور مودی

اترپردیش میں انتخابات کا موسم پورے عروج پر ہے ۔ تین مراحل کی رائے دہی ہوچکی ہے اور مابقی چار مراحل کیلئے انتخابی مہم پوری شدت کے ساتھ جاری ہے ۔ ایسا لگتا ہے کہ وزیر اعظم نریندر مودی ریاست میں اسمبلی انتخابات کو اپنے مستقبل سے جوڑ کر دیکھ رہے ہیں اور اسی لئے وہ ریاست کا تقریبا ہر دوسرے دن دورہ کر رہے ہیں اور انتخابی جلسوں سے خطاب کر رہے ہیں۔ اپنی پارٹی کیلئے سیاسی مہم کا حصہ رہنا اور اس کی انتخابی مہم میں بڑھ چڑھ کر رول ادا کرنا ان کا حق ہے لیکن انہیں یہ نہیں فراموش کرنا چاہئے کہ وہ کسی پارٹی کے علاقائی لیڈر نہیں ہیں اور نہ ہی وہ کسی ایک طبقہ یا فرقہ کی نمائندگی کرتے ہیں۔ انہیں یہ احساس ہوجانا چاہئے کہ وہ پہلے اس ملک کے وزیر اعظم ہیں اور اس کے بعد وہ بی جے پی کے لیڈر ہیں۔ بحیثیت وزیر اعظم ان کے عہدہ کا ایک وقار ہے اور اس اس وقار کو مجروح نہیں کیا جانا چاہئے ۔ تاہم ایسا لگتا ہے کہ نریندر مودی اس احساس سے عاری ہوگئے ہیں اور ان کے سر پر اترپردیش انتخابات کا بھوت ہی سوار ہے ۔ شائد یہی وجہ تھی کہ وہ پارلیمنٹ میں بھی اسپیکر کو مخاطب کرنے کی بجائے ’’ بہنو ۔ بھائیو ‘‘ کہہ کر مخاطب کر نے لگے تھے ۔ اترپردیش میں نریندر مودی ایک ریاستی لیڈر کی سطح پر اتر آئے ہیں اور وہ ایک ریاست کے چیف منسٹر اور ایک پارٹی کے نائب صدر پر نام لیتے ہوئے راست تنقیدیں کرنے سے بھی گریز نہیں کر رہے ہیں۔ وہ اپنی تقاریر کے وقت شائد یہ فراموش کررہے ہیں کہ وہ ہندوستان جیسے ملک کے وزیر اعظم ہیں اور انہیں عوام کو فرقوں میں یا تہواروں کے نام پر بانٹنا نہیں چاہئے بلکہ انہیں ایک دوسرے سے قریب لانا ان کا فریضہ ہے ۔ آج اترپردیش میں تقریر کرتے ہوئے مودی نے دبے دبے الفاظ میں فرقہ پرستی ظاہر کرنے کی کوشش کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ یو پی میں اگر کسی گاوں میں قبرستان بنتا ہے تو شمشان بھی بننا چاہئے اور اگر رمضان کیلئے برقی سربراہ کی جاتی ہے تو دیپاولی کیلئے بھی کی جانی چاہئے ۔ عید پر برقی دی جاتی ہے تو ہولی پر بھی دی جانی چاہئے ۔ یہ ایسی باتیں ہیں جو ملک کے وزیر اعظم کو ذیب نہیں دیتیں اور یہ کوئی مقامی لیڈر محض اپنے رائے دہندوں کو خوش کرنے کیلئے ہی کہہ سکتا ہے ۔ حالانکہ ایسا کرنا اس کیلئے بھی مناسب نہیں ہے ۔

مودی نے اپنی تقریر سے یہ اشارہ دینے کی کوشش کی ہے کہ اترپردیش میں رمضان المبارک کیلئے تو برقی سربراہ کی جاتی ہے لیکن دیپاولی کیلئے برقی نہیں دی جاتی ۔ عید کے موقع پر برقی فراہمی تو ہوتی ہے لیکن ہولی کے موقع پر نہیں ہوتی ۔ مودی کی یہ باتیں ان کی فرقہ پرستانہ اور متعصب ذہنیت کی عکاسی کرتی ہیں۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ اترپردیش کے اسمبلی انتخابات ان کیلئے بہت اہمیت کے حامل ہیں اور وہ ان انتخابات کو اپنے مستقبل سے جوڑ کر دیکھتے ہیں۔ سیاسی اعتبار سے انہیں اس کی اہمیت ضرور ہونی چاہئے لیکن انتخابات میں کامیابی کیلئے سماج کے دو اہم طبقات کے مابین اس طرح خلیج پیدا کرنے کی کوشش کرنا مناسب نہیں ہے اور خاص طور پر ملک کے وزیر اعظم کو اتنی نچلی سطح پر اتر کر تقاریر کرنے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔ وزارت عظمی ایک جلیل القدر عہدہ ہے ۔ اس عہدہ کی ذمہ داری ہے کہ وہ سماج کے مختلف طبقات کو ایک دوسرے سے قریب لانے کی کوشش کرے نہ کرے ان میں مزید خلیج پیدا کی جائے ۔ یہ اندیشے تو پہلے سے ظاہر کئے جا رہے تھے کہ اترپردیش کے اسمبلی انتخابات کے دوران سماج میں نفرت پیدا کرنے کی کوششیں اور بھی تیز ہوجائیں گی اور مختلف گوشوں سے یہ کوششیں ہو بھی رہی ہیں لیکن کسی کو بھی امید نہیں رہی ہوگی کہ ملک کے وزیر اعظم خود ایسی تقاریر کرینگے ۔ سماج کے ہر طبقہ اور فرقہ کو سہولیات پہونچانا حکومتوں کی ذمہ داری ہے لیکن ان کے نام پر ان فرقوںکے مابین دوریاں پیدا کرنا اور ماحول کو پراگندہ کرنا ایک وزیر اعظم کے شایان شان ہرگز نہیں کہا جاسکتا ۔ نریندر مودی سیاسی جلسوں اور تقاریر میں اپنے مخالفین کو نشانہ بنانے کے ہنر میں مہارت رکھتے ہیں لیکن اس معاملہ میں یہ فراموش نہیں کیا جانا چاہئے کہ وہ صرف کسی جماعت کے ذمہ دار نہیں بلکہ اس ملک کے وزیر اعظم ہیں اور اس کا ایک وقار ہے ۔

اس عہدہ کے کچھ تقاضے ہوتے ہیں اور ان کا خاص طور پر خیال رکھنے کی ضرورت ہے ۔ وہ اتر پردیش میں مخالف سیاسی قائدین کا مضحکہ اڑانے میں مصروف ہیں اور کئی قائدین کا نام لے کر بھی تنقیدیں کرنے سے گریز نہیں کر رہے ہیں۔ انہیں ایسا کرنے سے گریز کرنے کی ضرورت ہے ۔ نریندر مودی کو یہ احساس کرنے کی ضرورت ہے کہ وہ اب صرف ایک جماعت کے قائد نہیں بلکہ ملک کے وزیر اعظم ہیں اور اس کے کچھ تقاضے اور ذمہ داریاں ہوتی ہیں۔ ان ذمہ داریوں کو پورا کیا جانا چاہئے اور محض سیاسی فائدے کیلئے اس عہدہ کے وقار اور احترام کو ختم نہیں کیا جانا چاہئے ۔

TOPPOPULARRECENT