Wednesday , April 26 2017
Home / اداریہ / یو پی کی انتخابی مہم ‘ سبق لینے کی ضرورت

یو پی کی انتخابی مہم ‘ سبق لینے کی ضرورت

عکس خیال ہوتا ہے انداز گفتگو
انساں کو جانچ لیتے ہیں طرز کلام سے
یو پی کی انتخابی مہم ‘ سبق لینے کی ضرورت
اترپردیش کی انتخابی مہم پیر کو ختم ہو رہی ہے ۔ تمام سات مراحل کیلئے مہم کا اختتام ہوگا اور 8 مارچ کو یہاں ساتویں اور آخری مرحلہ کی رائے دہی ہوگی ۔ رائے دہی اور نتائج سے قطع نظر جہاں تک انتخابی مہم کا سوال ہے اس بار یہ دیکھنے میں آیا ہے کہ تقریبا تمام سیاسی قائدین نے ایک دوسرے کے تعلق سے جو ریمارکس کئے ہیں وہ ہندوستانی سیاست میں نئی نظیر قائم کر رہے ہیں۔ آزاد ہندوستان کی تاریخ کے سات دہوں میں ملک میں کئی انتخابات ہوئے ۔ عام انتخابات بھی ہوئے اور ریاستی اسمبلیوں کیلئے بھی ووٹ ڈالے گئے لیکن اترپردیش کیلئے اس بار جو انتخابی مہم چلائی گئی اس کی مثال شائد ہی پہلے مل سکے ۔ یہاں تقریبا تمام سیاسی قائدین نے اخلاقیات ‘ معیارات اور اپنی سطح اور وقار کو تک داؤ پر لگادیا ہے ۔ ملک کی وزارت عظمی کے وقار سے لے کر سیاسی قائدین کی ذمہ داریوں تک سبھی کو بالائے طاق رکھ دیا گیا اور ہر ایک کے سامنے صرف ایک مسئلہ تھا کہ کسی بھی حد تک کیوں نہ گرنا پڑے وہ گرنے کیلئے تیار ہیں تاکہ عوام کوراغب کرکے ان کے ووٹ حاصل کرسکیں۔ انتخابی عمل کے باضابطہ آغاز سے قبل یہاں ترقیاتی مسائل کو اجاگر کئے جانے کی امید کی جا رہی تھی ۔ یہ توقع تھی کہ برسر اقتدار سماجوادی پارٹی اب تک کے اپنے کئے گئے کاموں کو پیش کرنے کی کوشش کریگی اور دوبارہ عوام سے ووٹ طلب کریگی تو دوسری جانب بی جے پی اپنے نئے ترقیاتی عزائم اور منصوبوں کو پیش کرتے ہوئے عوام سے اپنے لئے اقتدار کی مانگ کریگی ۔ سماجوادی پارٹی کے ساتھ کانگریس کے اتحاد سے انتخابی مہم میں ایک نیا اثر پیدا ہوا تھا اور شائد یہی وجہ رہی کہ بی جے پی کے تقریبا تمام قائدین شخصی حملوں جیسے ریمارکس کرنے پر اتر آئے تھے ۔ حد تو یہ ہوگئی کہ خود وزیر اعظم نریندر مودی ملک کے ایک جلیل القدر دستوری عہدہ پر فائز رہتے ہوئے اپنے معیار کو برقرار رکھنے میں ناکام ہوگئے ۔ وہ کسی کارپوریشن کے انتخاب کی طرح قبرستان شمشان کی سیاست پر اتر آئے ۔ ہو لی اور دیوالی پر بجلی نہ ہونے کی شکایت اور رمضان اور عید پر برقی سربراہ کئے جانے جیسے فرقہ پرستانہ ریمارکس بھی کرچکے ہیں۔ ان کی پارٹی کے دوسرے قائدین نے تو مزید آگے بڑھتے ہوئے زہر آلود ریمارکس بھی کئے ہیں۔
جہاں شمشان ۔ قبرستان کی سیاست کو ہوا دینے کی کوشش کی گئی وہیں مسلمانوں کو دفن کرنے کی بجائے جلادینے کی تجویز بھی بی جے پی کے رکن پارلیمنٹ نے پیش کی ۔ بجلی کے تار چھونے کا کہیں مشورہ دیا گیا تو کہیں مخالفین کو برقی شاک لگنے کی بات کہی گئی ۔ کہیں گدھوں کے اشتہار کا مسئلہ چھڑ گیا تو کسی نے گدھوں کی محنت سے متاثر ہوکر اپنے لئے مثال پیش کرنے کی کوشش کی ۔ یہ سب ایسی باتیں ہیں جن کااترپردیش کی ترقی اور سیاست سے کوئی تعلق نہیں ہے ۔ یہ صرف زبانی اور لفظی تکرار تھی اور یہ ثابت کرنے کی کوشش تھی کہ ایسے جملوں اور بیان بازیوں میں ایک دوسرے پر کون سبقت لیجاتا ہے ۔ افسوس اس بات کا ہے کہ جہاں شمشان ۔ قبرستان کی سیاست وزیر اعظم کی جانب سے کی گئی تو وہیں ملک کی سب سے بڑی ریاست کے چیف منسٹر نے گدھوں کے اشتہار کو بھی انتخابی مہم کا حصہ بناڈالا ۔ اقتدار کی رسہ کشی میں ابتداء میں بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی کہیں پیچھے نظر آ رہی تھیں لیکن وزیر اعظم نے انہیں بھی اس لفظی تکرار میں گھسیٹ کر بی ایس پی کو بہن جی سمپتی پارٹی قرار دیا تو مایاوتی نے بھی جوابی وار کرتے ہوئے مودی کو مخالف دلت شخصیت قرار دیدیا ۔ کہیں کوٹہ سسٹم کو برخواست کئے جانے کے اندیشے ظاہر کئے گئے تو کہیں ذات پات کی سیاست کو فروغ دینے کیلئے کوئی اور شوشہ چھوڑنے سے بھی گریز نہیں کیا گیا ۔ کہیں رائے دہندوں کو دھمکانے کی کوششیں ہوئیں تو کہیں انہیں خریدنے میں بھی کوئی کسر باقی نہیں رکھی گئی ۔
الغرض یہ کہا جاسکتا ہے کہ اترپردیش کے اسمبلی انتخابات کو ہر سیاسی جماعت نے اتنی اہمیت دی کہ ان کے سامنے صرف ووٹ حاصل کرنا ہی ایک مسئلہ رہ گیا اور سیاسی اخلاقیات اور اقدار کو اس حد تک پامال کردیا گیا کہ اس کی ماضی میں کوئی نظیر شائد ہی مل سکے ۔ سیاسی قائدین کے تعلق سے یہ امید رہتی ہے کہ وہ عوامی زندگی میں اخلاقیات کو فروغ دینگے ۔ اقدار کی پاسداری کرینگے ۔ یہ قائدین عام دنوں میں عوام کے درمیان اسی طرح کا زبانی درس دینے سے بھی گریز نہیں کرتے اور عوام میں اپنے آپ کو مثال بنا کر پیش کرنے کی کوشش بھی کرتے ہیں لیکن جیسے ہی انتخابات کا موسم آجاتا ہے ان کا اصلی چہرہ اور اصلی روپ سامنے آجاتا ہے ۔ اترپردیش میں بھی ایسا ہی ہوا ہے اور اس بار اترپردیش میں تقریبا تمام ہی سیاسی قائدین کا وہ چہرہ سامنے آیا جس کی شائد ہی کوئی امید کر رہا تھا ۔ اب جبکہ انتخابی مہم اختتام کو پہونچ چکی ہے ایسے میں سیاسی قائدین کو اپنے ریمارکس ‘ طرز عمل اور اخلاقی گراوٹ کا جائزہ لینے کی ضرورت ہے تاکہ مستقبل میں اس کا اعادہ نہ ہونے پائے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT