Tuesday , September 26 2017
Home / Top Stories / یو پی کے انتخابات میں مسلمانوں پر اثرانداز ہونے بی جے پی کی سازش

یو پی کے انتخابات میں مسلمانوں پر اثرانداز ہونے بی جے پی کی سازش

قومی ٹیلی ویژن چیانلوں کے ذریعہ بہروپیوں کو شہرت دلوانے کی کوشش

لکھنؤ۔27اکٹوبر(سیاست نیوز) اترپردیش اسمبلی انتخابات میں مذہبی منافرت پھیلانے اور بھارتیہ جنتا پارٹی پر شدید تنقید کے ذریعہ اکثریتی طبقہ کے ووٹ کو بالواسطہ طور پر متحد کرنے کی کوششوں کے لئے ملک بھر سے نام نہاد غیر معروف چہروں کے انتخاب کا سلسلہ جاری ہے اور اس انتخاب کی ذمہ داری بھارتیہ جنتا پارٹی نے راشٹریہ مسلم منچ کے سپرد کی ہے۔ ملک بھر کے غیر معروف نام نہاد علماء و مشائخین سربراہ راشٹریہ مسلم منچ سے مشاورت کا آغاز کرچکے ہیں اور اپنی اپنی قیمتوں کے تعین کا سلسلہ بھی جاری ہے۔ شمالی ہند کی ریاستوں میں سیاسی علماء و مشائخین کی تعداد کافی ہے لیکن انہیں اس بات کا خوف ہے کہ اگر وہ اس طرح کی سرگرمیوں میں ملوث ہوتے ہیں تو انہیں عوام کا سامنا مشکل ہوجائے گا اسی لئے وہ اس سازش سے خود کو دور رکھے ہوئے ہیں لیکن اس سازش کا شکار بہ آسانی جنوبی ہند کے نام نہاد علماء و مشائخین کو بنایا جارہا ہے اور وہ اس سازش کا شکار بھی ہونے لگے ہیں۔ جنوبی ہند کے بعض مکروہ چہرے جنہیں خود اپنے علاقوں کے عوام میں کوئی اہمیت حاصل نہیں ہے وہ دہلی میں راشٹریہ مسلم منچ کے ذمہ داران سے ملاقاتیں کرتے ہوئے حکمت عملی کی تیاری میں مصروف ہیں تاکہ اترپردیش انتخابات کے دوران ان کی خدمات حاصل کی جائیں۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کی جانب سے اس بات کی کوشش کی جا رہی ہے کہ مسلمانوں کے درمیان مسلکی بنیادوں پر اختلافات کو فروغ دیا جائے تاکہ مسلم ووٹ نہ صرف مذہب کی بنیاد پر منقسم ہو بلکہ یہ ووٹ مسلکی نفرت کا بھی شکار ہوجائے۔

مسلکی نفرتوں کو ہوا دینے والی قوتوں کو یکجا کرتے ہوئے انہیں بی جے پی فقہی مسائل پر انہیں الجھا تے ہوئے اپنا مقصد حاصل کرنے کی کوشش کر رہی ہے۔ جنوبی ہند سے دہلی کی سرگرمیوں میں حصہ بننے والے افراد جن میں مختلف مسلکوں سے تعلق رکھنے والے ذمہ دار شامل ہیں وہ امیت شاہ کے قریبی رفقاء سے پینگیں بڑھاتے ہوئے خود کو مسلم دانشور کے طور پر پیش کر رہے ہیں لیکن ان کی ان کوششوں کو بعض مقامات پر سیاسی سرپرستی بھی حاصل ہے بلکہ ان ملاقاتوں کے درپردہ چند سیاسی قائدین بھی ہیں جو ان نام نہاد مذہبی شخصیتوں کو بی جے پی سربراہ کی چوکھٹ تک پہنچا رہے ہیں۔ ان مذہبی لبادہ اوڑھی شخصیتوں کو شائد اس بات کا اندازہ نہیں ہے کہ انہیں اترپردیش میں کس طرح استعمال کیا جائے گا۔ اترپردیش اسمبلی انتخابات میں اس مرتبہ اترپردیش سے باہر کے چہرے مخالف بھارتیہ جنتا پارٹی مہم کے دوران نظر آئیں گے تاکہ اکثریتی طبقہ کو یہ تاثر دیا جا سکے کہ مسلم اترپردیش میں متحدہ طور پر بی جے پی کوشکست سے دوچار کرنے کی کوششوں پر اتر آئے ہیں۔

اترپردیش کے ریاستی مسلم تنظیموں کے ذمہ داران تو مخالف بی جے پی مہم چلائیں گے ہی اور روایتی سیاسی جماعتوں سے وابستہ مذہبی شخصیات اپنی سیاسی جماعتوں کے حق میں انتخابی مہم چلائیں گے لیکن اس مرتبہ نئے چہرے اترپردیش کے عوام کو مخمصہ میں مبتلاء کرنے کیلئے سرگرم رہیں گے بلکہ اب تک جو اطلاعات موصول ہو رہی ہیں ان کے مطابق منتخبہ بعض چہروں کو قومی ٹیلی ویژن چیانلس کے مباحث میں پیش کرتے ہوئے انہیں شہرت دلوائی جائے گی تاکہ اترپردیش کے معصوم رائے دہندے ان سازشیوں کو قد آور مذہبی قائدین سمجھنے لگیں۔ بتایا جاتا ہے کہ آر ایس ایس کی محاذی مسلم تنظیم راشٹریہ مسلم منچ کے مسلم چہروں کے علاوہ دیگر مذہبی شخصیتوں کو استعمال کرنے کیلئے جو اقدامات کئے جار ہے ہیں ان سے مذاکرات بھی جاری ہیں اور انہیں اپنے اپنے علاقوں میں سرگرم رکھنے کیلئے مالی اعانت بھی کی جا رہی ہے تاکہ ان کے مقامی حامیوں کو سرگرمیوں کے متعلق شبہات نہ ہوں ۔ انتخابات میں مذہبی تنظیموں و قائدین کی حمایت حاصل کرنے کے علاوہ ان کے بیانات کے سیاسی فائدے حاصل کرنا کوئی نئی بات نہیں ہے

لیکن عام طور پر ان کی تقاریر و بیانات کے مطابق اپنی پالیسیاں تیار کرتے ہوئے ان کی حمایت حاصل کرنے کی کوشش کی جاتی رہی ہے لیکن اترپردیش میں ان مذہبی تنظیموں و قائدین کے تقاریر اور بیانات کا استحصال کرنے کی تیاریاں کی جا رہی ہیں اور بھارتیہ جنتا پارٹی کو اس بات کا اندازہ ہو چکا ہے کہ اترپردیش سے تعلق رکھنے والی سرکردہ مذہبی تنظیمیں و قائدین صرف کسی جماعت کی تائید ہی کریں گی اور مخالف پروپگنڈہ کا حصہ نہیں بنیں گی اسی لئے اترپردیش میں نئے مذہبی چہروں کو روشناس کروایا جانا ضروری ہو چکا ہے کیونکہ جب تک مخالف بھارتیہ جنتا پارٹی پروپگنڈہ نہیں کیا جاتا اس وقت تک اکثریتی طبقہ کو متحد نہیں کیا جاسکتا اور دلت۔مسلم اتحاد میں دراڑ کے ذریعہ ہی بی جے پی کی کامیابی ممکن ہے۔ شمالی ہند کی ریاستوں میں جب کبھی اترپردیش کا نام لیا جاتا ہے تو کسی نہ کسی طرح بہار کا نام بھی اس کے ساتھ آتا ہے اور بہار اسمبلی انتخابات کے نتائج اور سیکولر قوتوں کی حکمت عملی کو پیش نظر رکھتے ہوئے بھارتیہ جنتا پارٹی اپنی حکمت عملی تیار کر رہی ہے تاکہ بہار کے نتائج کا اعادہ اترپردیش میں نہ ہونے پائے کیونکہ ایسا ہونے کی صورت میں بی جے پی کو خفت کا سامنا کرنا پڑے گا۔

TOPPOPULARRECENT