Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / یو پی کے بغیر بی جے پی کی کامیابیوں کا سفر غیر مکمل : امیت شاہ

یو پی کے بغیر بی جے پی کی کامیابیوں کا سفر غیر مکمل : امیت شاہ

وزیر اعظم نریندر مودی ’’ یو پی والے ‘‘ ۔ سماجوادی پارٹی اور بی ایس پی پر دلتوں کے سیاسی استحصال کا الزام ۔ بی جے پی صدر کا خطاب
کاس گنج ( یو پی ) 7 جون ( سیاست ڈاٹ کام ) وزیر اعظم نریندر مودی کو ’یو پی والا ‘ کے طورپر پیش کرتے ہوئے بی جے پی کے صدر امیت شاہ نے آئندہ سال کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کو ابھارنے کی کوشش کی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ مودی کی کامیابی کا مارچ ملک کی سب سے بڑی ریاست میں کامیابی کے بغیر مکمل نہیں ہوسکتا ۔ اسمبلی انتخابات کی تیاریوں کے ایک حصے کے طور پر براج علاقہ میں بوتھ لیول ورکرس کے ایک اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے امیت شاہ نے سماجوادی پارٹی ‘ بہوجن سماج پارٹی اور کانگریس کو تنقید کا نشانہ بنایا اور الزام عائد کیا کہ یہ جماعتیں کئی برسوںسے بدعنوان حکومتیں چلا رہے تھے اور بی جے پی کو اگر ریاست میں اقتدار حاصل ہوجائے تو ان کے خلاف کارروائی کی جائیگی ۔ گذشتہ دو سال میں مرکز کی این ڈی اے حکومت کے کاموں کو اجاگر کرتے ہوئے امیت شاہ نے چیفم نسٹر اکھیلیش یادو کو چیلنج کیا کہ وہ اپنے پانچ سال کی کارکردگی کا رپورٹ کارڈ پیش کریںجیسا حال ہی میں مودی حکومت نے کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ چیف منسٹر کو مستعفی ہوجانا چاہئے کیونکہ وہ عوام سے کئے گئے اپنے وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام ہوگئے ہیں۔ امیت شاہ نے راہول گاندھی کو بھی تنقید کا نشانہ بنایا کیونکہ انہوں نے سوال کیا تھا کہ این ڈی اے حکومت نے کیا کیا ہے ۔ امیت شاہ نے کہا کہ ہم نے سب سے بڑاکام جو کیا ہے وہ یہ ہے کہ ایسا وزیراعظم دیا ہے جو بات کرتا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ گذشتہ دس سال میں صرف راہول یا ان کی والدہ سونیا گاندھی ہی سنا کرتی تھیں جو وزیر اعظم کہتے تھے ۔

بی جے پی کیلئے عوام کی تائید طلب کرتے ہوئے صدر بی جے پی نے عوام سے کہا کہ یو پی کے عوام نے ہی نریندر مودی کو رکن پارلیمنٹ منتخب کیا اور انہیں وزیر اعظم بنایا ہے ۔ وزیر اعظم مودی اب یو پی والے ہیں۔ بی جے پی کی کامیابی کا مارچ اس وقت تک مکمل نہیں ہوسکتا جب تک ملک کی سب سے بڑی ریاست میں انہیں کامیابی نہ مل جائے ۔ انہو ںنے کہا کہ یہاں بی جے پی کیلئے حکومت تشکیل دینا ضروری ہے کیونکہ جب تک یو پی ترقی نہیں کرتا اس وقت تک ہندوستان ترقی نہیں کرسکتا۔ نریندر مودی ‘ وارناسی سے لوک سبھا کے رکن ہیں۔ امیت شاہ نے ورکرس سے خطاب میں سماجوادی پارٹی حکومت پر تنقید کی اور کہا کہ وہ ترقی کی راہ میں رکاوٹیں پیداکر رہی ہے خاص طور پر غریبوں اور کسانوں کیلئے شروع کردہ مرکزی حکومت کی اسکیمات پر عمل نہیں کیا جا رہا ہے اور اس کی وجوہات سیاسی ہیں۔ متھرا واقعہ کے پس منظر میں بی جے پی صدر نے الزام عائد کیا کہ اکھیلیش حکومت اراضیات پر قبضوں کی حوصلہ افزائی کر رہی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ان کی پارٹی احتجاج شروع کریگی تاکہ انتظامیہ کو مجبور کیا جاسکے کہ قبضہ کی گئی اراضیات واپس حاصل کی جائیں۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی پارٹی بہت جلد ایک ای میل سرویس شروع کریگی جس کے ذریعہ عوام سماجوادی پارٹی کارکنوں اور قائدین کی جانب سے اراضیات پر قبضہ کی شکایات درج کرواسکتے ہیں۔ اتر پردیش میں پارٹی قائدین کلیان سنگھ اور راج ناتھ سنگھ کی زیر قیادت سابقہ بی جے پی حکومتوں کا تذکرہ کرتے ہوئے امیت شاہ نے کہا کہ دونوں نے بہترین کام کیا تھا ۔ دلتوںکو رجھانے کی کوشش کے طور پر انہوں نے کہا کہ صرف بی جے پی ہے جو دلتوں کی فلاح و بہبود کیلئے کام کرسکتی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس پی انہیں صرف استعمال کرتی ہے تاکہ سیاسی مفادات پورے کئے جاسکیں۔ جبکہ سماجوادی پارٹی ان کا استحصال کرتی ہے ۔ بی جے پی سب کا ساتھ اور سب کا وکاس میں یقین رکھتی ہے اور وہی دلتوں کے مفادات کا تحفظ کرسکتی ہے ۔

TOPPOPULARRECENT