Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / یکساں سیول کوڈ اور تین طلاق کے ذریعہ ملک کو فرقہ وارانہ خطوط پر منقسم کرنے کی سازش

یکساں سیول کوڈ اور تین طلاق کے ذریعہ ملک کو فرقہ وارانہ خطوط پر منقسم کرنے کی سازش

آر ایس ایس اور بی جے پی ہندوؤں اور مسلمانوں کو لڑانے کی کوششوں میں مصروف، دلت ۔ اقلیت کانفرنس سے غلام نبی آزاد کا خطاب
پٹنہ۔ 17 اکتوبر (سیاست ڈاٹ کام) کانگریس کے سینئر لیڈر غلام نبی آزاد نے آج کہا کہ بی جے پی اور آر ایس ایس دراصل ہندوؤں اور مسلمانوں کو لڑاتے ہوئے ملک میں مذہبی خطوط پر صف بندی کیلئے یکساں سیول کوڈ اور تین طلاق جیسے مسائل اُٹھارہے ہیں۔ غلام نبی آزاد نے جو راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر بھی ہیں، بی جے پی کے زیرقیادت مرکزی حکومت پر زور دیا کہ وہ طلاق کے مسئلے پر کسی بھی فیصلے کو مسلمانوں کی مرضی پر چھوڑ دے۔ آزاد نے ’’دلت۔ اقلیت مہا سمیلن‘‘ سے خطاب کرتے ہوئے بی جے پی اور آر ایس ایس میں دراصل ہندوؤں اور مسلمانوں کو ایک دوسرے سے لڑا رہے ہیں۔ ٹیلی ویژن چینلوں پر تین طلاق اور یکساں سیول کوڈ جیسے موضوعات پر بحث مباحث کئے جارہے ہیں۔ یہ (مباحث) درحقیقت مسلم خواتین سے اظہار ہمدردی کیلئے نہیں کئے جارہے ہیں بلکہ ایک منظم و منصوبہ بند حکمت عملی کے تحت ملک میں فرقہ وارانہ خطوط پر صف بندی کی راہ ہموار کی جارہی ہے۔ آزاد نے کہا کہ ’’ان (آر ایس ایس ؍ بی جے پی) کی حکمت عملی ہے کہ تین طلاق کے مسئلہ پر مسلمانوں سے مسلمانوں کو لڑایا جائے اور یکساں سیول کوڈ کے نام پر ہندوؤں کو مسلمانوں سے لڑایا جائے۔ طلاق کا فیصلہ خود مسلمانوں کو کرنے دیجئے‘‘۔ غلام نبی آزاد نے بہار پردیش کانگریس کے زیراہتمام اس کانفرنس کا افتتاح کیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ مہنگائی اور بیروزگاری میں اضافہ، کالے دھن کی واپسی جیسے مسائل سے عام آدمی کی توجہ ہٹانے کیلئے بی جے پی اور آر ایس ایس ان مسائل کو اُٹھا رہے ہیں۔ سینئر کانگریس لیڈر نے بی جے پی حکومت کو ’’برطانوی راج سے بدتر‘‘ قرار دیا اور کہا کہ برطانوی راج میں کبھی کسی کے باورچی خانہ یا فریج کی تلاشی نہیں لی گئی تھی تاکہ ییہ دیکھا جائے کہ اس میں کونسا گوشت ہے اور یہ دیکھا جائے کہ کسی یونیورسٹی میں کون کیا کھارہا ہے۔ آزاد نے کہا کہ ’’بی جے پی کے سینئر قائدین ہمیشہ یہ کہتے رہے ہیں کہ بہار میں جنگل راج ہے لیکن آج بی جے پی زیرقیادت این ڈی اے حکومت میں سارے ملک میں جنگل راج جیسی صورتحال ہے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے دور اقتدار میں عوام محفوظ رہے تھے لیکن آج کوئی بھی محفوظ نہیں ہے۔ بالخصوص دلت اور اقلیتیں بالکل محفوظ نہیں ہیں۔ وادیٔ کشمیر میں جاری بے چینی پر تبصرہ کرتے ہوئے سابق مرکزی وزیر نے مزید کہا کہ ’’کشمیر میں 101 دن سے کرفیو نافذ ہے۔ ہم نے اس قدر طویل کرفیو دنیا بھر میں کہیں نہیں دیکھا‘‘۔ غلام نبی آزاد نے جموں و کشمیر کے سابق چیف منسٹر بھی ہیں، مزید کہا کہ ’’کشمیر میں کرفیو کے سبب 15.50 بے اسکولوں کو نہیں جارہے ہیں۔ بسیں نہیں چلائی جارہی ہیں، سیاحت کو بھی زبردست دھکہ لگا ہے کیونکہ وہاں کوئی نہیں جارہا ہے، لیکن ان باتوں پر اخبارات اور ٹیلی ویژن چیانلوں پر کوئی بحث مباحثہ نہیں ہوتا‘‘۔ بہار پردیش کانگریس کے صدر نے دلتوں اور اقلیتوں میں اتحاد کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے بی جے پی اور آر ایس ایس کے خلاف متحدہ لڑائی کیلئے دلتوں اور اقلیتوں سے اپیل پر مبنی کانگریس کے نائب صدر راہول گاندھی کا پیغام پڑھ کر سنایا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT