Saturday , September 23 2017
Home / Top Stories / یکساں سیول کوڈ درحقیقت دستور ہند کیخلاف ایک سازش

یکساں سیول کوڈ درحقیقت دستور ہند کیخلاف ایک سازش

جب مسائل پیدا ہوتے ہیں تب ہی مسلمان متحد ہوتے ہیں،جمعیۃ علماء کے اجلاس میں پروفیسر کانچہ ایلیا کی کھری کھری

اب بریانی کھاکر سونے کا وقت نہیں
بیوہ خواتین سے نکاح کیلئے مہم کے آغاز پر زور
ملک کو بھارت یا انڈیا کہیں، ہندوستان نہیں
حیدرآباد۔18اکٹوبر(سیاست نیوز) مسلمان ملک کے تمام شہریوںکے حقوق کے تحفظ بالخصوص بیوہ خواتین کے نکاح کیلئے مہم کا آغاز کریں کیونکہ ہندو سماج اعلی ذات میں بیوہ کی شادی نہیں کی جاتی بلکہ انہیں اسی حالت میں زندگی گذارنے کیلئے چھوڑ دیا جاتا ہے۔ پروفیسر کانچہ ایلیا نے جمعیۃ علماء ہند تلنگانہ و آندھرا پردیش کی جانب سے منعقدہ اجلا س سے خطاب کے دوران یہ بات کہی۔ یکساں سیول کوڈ اور شریعت میں مداخلت کی کوششوں کے خلاف حکمت عملی کی تیاری کیلئے منعقدہ اجلاس سے خطاب کے دوران پروفیسر کانچہ ایلیا نے علماء و مشائخین کو کھری کھری سناتے ہوئے کہا کہ ہندو مت کے ماننے والے ذات پات کی بنیاد پر اختلافات رکھتے ہیں لیکن مسلمانوں میں ذات پات نہ ہوتے ہوئے بھی وہ متحد نہیں ہیں لیکن جب کبھی ایسے مسائل پیدا ہوتے ہیں وہ اسی وقت متحد نظر آتے ہیں۔

انہوں نے طنزیہ کہا کہ ان کی خواہش ہے کہ ملک میں بی جے پی کو مزید 10سال اقتدار حاصل ہونا چاہئے تاکہ مسلمان آپس میں متحد رہیں اور دلتوں کو اپنے ساتھ لیکر کام کریں۔ انہوں نے بتایا کہ یکساں سیول کوڈ در حقیقت کسی مذہب کے خلاف سازش نہیں ہے بلکہ یہ سازش دستور ہند کے خلاف رچی جا رہی ہے۔ پروفیسر کانچہ ایلیا نے کہا کہ بھارت کو انڈیا یا بھارت کہیں اور ہندوستان کہنا بند کردیں کیوں کہ آر ایس ایس نظریات کے حامی دستور میں ہندوستان نام شامل کروانے کی کافی کوشش کرچکے تھے لیکن معمار دستور ہند ڈاکٹر بی آر امبیڈکر نے ایسا نہیں کیا بلکہ اس ملک کو ’انڈیا۔دی بھارت ‘ لکھا لیکن ہندوستان کہتے ہوئے اسے ہندوؤں کا ملک بنانے کی کوشش میں ہم بھی اعانت کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر کی سڑکوں پر مسلمان صرف تہواروں کے موقع پر اپنی عددی طاقت کا مظاہرہ کرتے ہیں اور پھر غائب ہو جاتے ہیں۔ پروفیسر کانچہ ایلیا نے دو ٹوک انداز میں کہا کہ اب بریانی کھا کر سونے کا وقت نہیں ہے ۔انہوں نے کہاکہ طلاق ثلاثہ اور تعدد ازواج کے مسئلہ پر خواتین کو ان کے پورے مذہبی تشخص کے ساتھ عوام کے درمیان لائیں اور ان سے بات کروائیں اگر مرد علماء ہی ان مسائل پر گفتگو جاری رکھیں گے تو پھر اسے نا انصافی پر محمول کیا جائے گا۔انہوں نے جسٹس چلا کونڈیا کمیٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ اس سے قبل بھی دستور ہند کو تبدیل کرنے کی کوشش کی گئی تھی اور اس میں ناکامی کے بعد اب ایک نئے طریقہ سے یہ کوشش کی جا رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ جب کبھی بی جے پی اقتدار میں آتی ہیں اس وقت ایسے مسائل پیدا کئے جاتے ہیں۔

عثمانیہ یونیورسٹی کی صد سالہ تقاریب ، مرکز سے گرانٹ کا مطالبہ: دتاتریہ
حیدرآباد 18 اکٹوبر (پی ٹی آئی) مرکزی وزیر لیبر بنڈارو دتاتریہ نے عثمانیہ یونیورسٹی صدی تقاریب کے لئے مرکزی وزیر انسانی وسائل پرکاش جاوڈیکر سے 175 کروڑ روپئے گرانٹ کا مطالبہ کیا۔ اُنھوں نے آج جاوڈیکر سے ملاقات کی اور گرانٹ کے سلسلہ میں مکتوب پیش کیا۔ دتاتریہ نے بتایا کہ سال 2017-18 ء میں عثمانیہ یونیورسٹی کے قیام کے 100 سال پورے ہورہے ہیں اور یہ بہترین موقع ہے کہ قوم کی تعمیر کے لئے یونیورسٹی کی خدمات کو تسلیم کیا جائے۔ اُنھوں نے یونیورسٹی انفراسٹرکچر کی بہتری پر بھی زور دیا۔ عثمانیہ یونیورسٹی کو اِس کے بانی آصف سابع نواب میر عثمان علی خاں سے موسوم کیا گیا ہے جنھوں نے شاہی فرمان کے ذریعہ 1918 ء میں اسے قائم کیا تھا۔

 

Top Stories

TOPPOPULARRECENT