Thursday , August 17 2017
Home / مضامین / ’’یکساں سیول کوڈ‘‘ دستور ہند کے تناظر میں

’’یکساں سیول کوڈ‘‘ دستور ہند کے تناظر میں

شیخ شاہد ندیم
الحمد للہ رب العالمین والصلاۃ والسلام علی سید الانبیاء والمرسلین و علی اٰلہ و صحبہ الاکرمین اجمعین
اما بعد : قال اللہ تعالیٰ و من یعص اللہ و رسولہ و یتعد حد ودہ ید خلہ نارا خالدا فیھا … الایۃ ۔
اللہ تعالیٰ نے اپنی قدرت کاملہ سے تمام مخلو قات کو پیدا فرمایا اور ہر مخلوق کا مقصد تخلیق جداگانہ بنایا جیسے فرشتوں کی تخلیق کا مقصد نظام عالم کو سنبھالنا ہے، اسی طرح دیگر مخلوقات جیسے ، جمادات ، نباتات ، چرند ، پرند ہر ایک کا مقصدِ تخلیق جدا ہے ، قرآن پاک میں اللہ رب العزت نے انسان کی تخلیق کا مقصد ذکر کرتے ہوئے فرمایا : وما خلقت الجن والانس الا لیعبدون (الذاریات : 56 )
ترجمہ : میں نے جنات اور انسان کو صرف عبادت کیلئے پیدا کیا۔
عبادت کا عملی طر یقہ سکھلانے کیلئے اللہ تعالیٰ نے انبیاء علیھم السلام کو مبعوث فرمایا اور ہر ایک کو عبادت کا طریقہ اور شریعت کے احکام دیئے اور سب سے آخر میں سرور کائنات حضرت محمد صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور آپ کو جو دین دیا گیا اس کا نام دین اسلام ہے اور یہ دین اللہ کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب اور پسندیدہ ہے۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے : ان الدین عند اللہ الاسلام (ال عمران)
دین اسلام ایک مکمل دستور حیات ہے، جس میں انسانی زندگی کی رہنمائی اور سعادت کیلئے واضح احکامات اور روشن تعلیمات موجود ہیں اور یہ شرعی احکام انفرادی اور اجتماعی زندگی کہ ہر شعبہ کا احاطہ کرتے ہیں۔ اب ان احکام پر عمل کرنا اور ان کو ماننا ہر مسلمان پر ضروری ہے ۔ کسی بھی حکم شرعی کا انکار کرنا یا اس سے رو گردانی اور کسی بھی طرح کا اس میں رد و بدل کرنا جائز نہیں، عبادات سے لے کر معاملات ہر ہر چیز کاحکم اللہ رب العزت نے حضور پاک صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہاپنے بندوں تک پہنچادیا اوران کی حفاظت کا ذمہ بھی اپنے لئے خاص کرلیا۔ جب دین اسلام میں اپنے ماننے والوںکیلئے ایک مکمل قانون موجود ہے جو فطری قانون ہے جس پر پچھلے 1400 سال سے عمل ہوتا ہوا آرہا ہے اور اس عرصہ دراز میں اس قانون میں کسی تبدیلی یا ترمیم کی کوئی مثال نہیں نظر آتی لہذا یہ بات اظہر من الشمس ہے کہ اسلامی قانون ایک بے نظیر نظام حیات ہے۔ عبادات جیسے نماز ، روزہ ، زکوۃ اور حج کے ساتھ ساتھ معاملات مثلاً: نکاح ، طلاق ، میراث وغیرہ ۔ ان تمام مسائل کا حل شریعت محمدی میں بتلادیا گیا ہے اور بحیثیت مسلمان اس کو چھوڑ کر کسی اور مذہب کے قانون یا انسانی قانون پر عمل کرنا ہرگز درست نہیں۔ چنانچہ ہندوستان میں ’’یکساں سیول کوڈ‘‘ پر عمل آوری ایک ہندوستانی مسلمان کیلئے بالکل درست نہیں ہے اور ہندوستان کا آئین بھی ہندوستانی مسلمان کو اپنے مذہب پر عمل کرنے کی مکمل آزادی دیتا ہے اور یہاں کے ہر فرد کو اس آئین پر عمل کرنا اوران کی پاسداری کرنا ضروری ہے۔ آرٹیکل 20 کے تحت ہر ہندوستانی کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے مذہب پر مکمل آزادانہ طور پر عمل کرسکے اور 1937 ء میں منظور شدہ قانون شریعت ایپلیکشن ایکٹ کے تحت مسلمانوں کو اسلامی قانون پر عمل آوری کی مکمل آزادی حاصل ہے ۔

اب رہا سوال حکومت کی جانب سے ’’یکساں سیول کوڈ‘‘ کے نفاذکا جس کا مطلب یہ ہے کہ ہندوستان کا ہر شہری چاہے وہ کسی مذہب ، قبیلہ یا ریاست سے تعلق کیوں نہ رکھتا ہو تمام کیلئے ایک ہی سیول قانون ہوگا، طلاق ، میراث، اڈاپشن، یہ تمام تر معاملات سب کیلئے ایک جیسے ہوں گے، مسلمان کے نکاح کیلئے قاضی نہیں، ہندو کی شادی کیلئے آگ کے پھیرے نہیں اور میراث میں سب کے حصے ایک جیسے ہوں گے۔ اب کسی بھی مذہب سے تعلق رکھنے والا اس قانون کے ماتحت ہوگا۔ اس قانون کے نفاذ کے فوائد یہ بتلائے گئے ہیں کہ یکساں قانون سے ہم وطنوں میں یکجہتی میں اضافہ ہوگا اور حب الوطنی بڑھ جائے گی ، ان مقاصد اور فوائد کی کیا ہندوستانی دستور میں کوئی جگہ ہے ؟ اور کیا یہ فوائد حقیقت میں ہے یا صرف اپنی بات منوانے کیلئے بتائے گئے ہیں؟ کیا ایسے کوڈ کو نافذ کرنے کیلئے کوئی آرٹیکل یا ہدایت دستور ہند میں موجود ہے ؟ ہاں ! دستور ہند کے آرٹیکل نمبر 44 میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کا قانون ہے لیکن پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ کیا یہ قانون نافذ کرنا ضروری ہدایات میں سے ہے یا پھر یہ بھی انہی ہدایات میں ہے جس پر عمل کرنا یا تو دشوار ہے یا ناممکن ؟ آرٹیکل 44 دستور ہند کے چوتھے حصہ میں حکومت کیلئے رہنمایانہ اصول کے تحت مذکور ہے جس کو Directive Principles of State Policy کہا جاتا ہے جسکے نفاذ کے تعلق سے مختلف ماہرین قانون نے تنقید کر تے ہوئے کہاہے کہ یہ رہنمایانہ اصول قابل عمل ہی نہیں ہے اور بعض نے یہ کہا کہ دستور میں ایسی چیزوں کا کوئی مقام ہی نہیں ہے جن کا تعلق اخلاق سے ہو۔ اس کے ساتھ یکساں سیول کوڈ کے نفاذکی بات کرنا ایسا ہی ہے جیسے یکساں زبان میں بات کرنے کو نافذکرنا ہے۔ سیاسی جماعتوں اور تنظیموں کے ساتھ ساتھ ملک کی عدلیہ نے بھی وقتاً فوقتاً اس کے نفاذ کی بات کی ہے ۔ چاہے وہ شاہ بانو کا کیس ہو یا پھر سرلامگدل (Sarla Mugdal vs Union of India) عدالت عالیہ نے یکساں سیول کے نفاذ کی تجویز دی جبکہ دستور کے اسی (چوتھے) حصہ میں جس میں Directive Principles of State Policy کا ذکر ہے ، آرٹیکل 50 میں یہ بات واضح کی جاچکی ہے کہ دستور ہند کا چوتھا حصہ صرف اور صرف قانون ساز اسمبلی اور پارلیمنٹ کیلئے ہے۔ عدالیہ کا اس میں کوئی عمل دخل نہیں ، اس کے باوجود عدلیہ نے اس تعلق سے تجاویز پیش کی ہے جو کہ عین دستور کے خلاف ہے ۔ 1985 ء کا وہ مشہور کیس (Shah Banu vs Ahmed Khan) جس میں ایک مسلم مطلقہ بیوی کے نفقہ کو مسلم پرسنل لا سے خارج کرتے ہوئے سیکشن 125 فوجداری قانون Criminal Procedure Code کے تحت کردیا گیا تھا اور اس قانون کو عورتوں کے حقوق کے تحفظ کے تحت بتلایا گیا تھا لیکن اصل میں یہ قانون شریعت کے خلاف ایک سازش تھا جس کے بعد ملک بھر میں علمائے کرام مسلم پرسنل لا بورڈاور عوام الناس نے اس کی سخت مخالفت کی، اس کے باوجود اس قانون کو باقی رکھا گیا ۔ اس کے مضر اثرات کچھ اس طرح سامنے آئے کہ فرضی مقدموں کی بھرمار ہوگئی ۔ کئی سارے ریاستی ہائی کورٹس نے Section 125 کے تحت دائر کردہ کیسس کو خارج کردیا اور نفقہ (Maintenance) کے نام پر شوہروں کو ہراساں کئے جانے کی روک تھام کی تجویز بھی پیش کی۔ اتنے مختصر سے عرصہ میں اس قانون نے مضر اثرات دکھانے شروع کردیئے اگر تمام عائلی مسائل کو یکساں کردیا جائے گا تو کیا حال ہوگا یہ بات ایک دانشور اور عقلمند آدمی کو سمجھنے کیلئے کافی ہے ۔

یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کا ذہن بہت پہلے سے چلا آرہا ہے، ہندوستان کی آزادی سے قبل 1928 ء میں یکساں سیول کوڈ کے متعلق برٹش حکومت کو ایک رپورٹ پیش کی گئی تھی جو کہ اصل میں آزاد ہندوستان کے دستور کی ایک شکل تھی جس میں یہ تجویز بھی رکھی گئی تھی کہ شادی بیاہ کے معاملات کو یکساں قانون کے تحت لایا جائے، علمائے کرام نے اس رپورٹ کی سخت مخالفت کی جس کی وجہ سے برٹش حکومت نے اس رپورٹ کو قبول کرنے سے انکار کردیا تھا ۔ آزاد ہندوستان کا خواب دیکھنے والے مجاہدین آزادی کا ایک ہی مقصد تھا کہ وہ ہر ہندوستانی کو اس کا حق مکمل آزادی کے ساتھ دلوائیں اور مذہبی آزادی بھی اسی خواب کا ایک حصہ ہے ۔ آرٹیکل 44 دستور میں ہونا ہی اس مقصد آزادی کے خلاف ہے ۔ دوسری جانب کیا آرٹیکل 44 کا نفاذ اتنا آسان ہے کہ اعلامیہ جاری کیا جائے اور عوام الناس کی رائے دریافت کر کے اس پر عمل کیا جائے ؟ ایسا بالکل نہیں ہے۔ جہاں آرٹیکل 44 تمام مذہبی قوانین ، رسم و رواج ، تہذیبی اور قبائلی قدروں کو کالعدم قرار دیکر ایک قانون کے نفاذ کی بات کرتا ہے وہیں دستور ہند کی تمہید میں آزادی فکر، اظہار رائے ، عقائد دینیہ اور عبادت کرنے کی آزادی دی ہے ۔ اسی طرح آرٹیکل 25 مذہب کے اختیار کرنے اس پر عمل کرنے اور اس کی تبلیغ کرنے کی آزادی دی ہے ۔ یہی نہیں بلکہ آرٹیکل 371 A جو دستور ہند کی ترمیم کے ذریعہ اس میں شامل کیا گیا ہے جس کے ذریعہ ناگالینڈ کو ہندوستان میں ضم کیا گیا اور اس آرٹیکل میں ناگاؤں کیلئے خاص موقف دیا گیا کہ ناگالینڈ پر دیوانی اور فوجداری مقدمات میں پارلیمنٹ کے کسی قانون کا اطلاق نہیں ہوگا ، اسی طرح ناگاؤں کو آرٹیکل 371 A میں یہ  ضمانت بھی دی گئی کہ ان کے مذہبی اور سماجی رسوم اور ضابطے بھی پارلیمانی قانون سے بری ہیں۔ دستور ہند میں اس ترمیم سے یہ بات صاف ظاہر ہے کہ آرٹیکل 44 کا اطلاق کسی کے اتحاد کی بنیاد نہیں بن سکتا بنا بریں آرٹیکل 44 کے نفاذکے لئے سب سے بڑی رکاوٹ یہ ہے کہ دستور ہند کے ساتویں شیڈول میں یہ بات واضح کی جاچکی ہے کہ اس  شیڈول میں موجود فہرست کے تعلق سے مرکزی اور ریاستی حکومت دونوں کو قانون سازی کا حق حاصل ہے اور اس فہرست میں شادی، طلاق ، وراثت ، حضانت، وصیت کے موضوعات شامل کئے گئے ہیں ۔ کیا آرٹیکل 44 پر عمل آوری کیلئے تمہید آئین آرٹیکل 25 اور آرٹیکل 371 A کو خارج کردیا جائے گا ؟
حاصل کلام یہ ہے کہ ہندوستان جیسے ملک میں یکساں قانون کے نفاذ کا تصور ہی محال ہے ، ساری دنیا میں یہ ملک اپنی تہذیبی اور تمدنی اقدار کی وسعت کیلئے جانا جاتا ہے ، یہاں پر چند دور کیلو میٹر کے فاصلے پرایک نئی تہذیب و رواج دیکھنے کو ملتا ہے ، مختلف مذاہب کے لوگ اپنے مذہبی قوانین پر عمل کرتے ہیں اور اگر یہ بات کہی جائے کہ دیگر ملکوں نے یکساں سیول قانون نافذ کر کے ترقی کی ہے یا وہاں اس کے نفا ذ سے یکجہتی پیدا ہوئی ہے تو اس بات کا بھی لحاظ رکھنا چاہئے کہ ہندوستان کا رقبہ اور آبادی ذیلی براعظم کہلاتا ہے اور یہ ملک کثیر مذہبی اور تمدنی ملک ہے، یہاں یکساں سیول کوڈ نافذکرنا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔
1955 ء میں ہندو قانون کو یکساں کوڈ کی شکل دی گئی اور ہندؤں کے شادی ، طلاق ، میراث ، اڈاپشن وغیرہ کیلئے یکساں قانون نافذ کیا گیا۔ کیا یہ قانون یکسانیت پر مشتمل ہے ؟ جواب ہے : نہیں ! ایک مذہب کے لوگ ایک ہی مذہب کے قانون میں یکساں نہیں ہیں Hindu Marriage Act 1955 جو مرکزی حکومت نے منظور کیا ، اس میں جو شادی کے محرمات میں سے Prohibited Degrees بتلائے گئے وہ آندھراپردیش کی ریاستی حکومت نے اپنی ریاست کیلئے کردیئے جب اس ملک کی ریاستوں کے قوانین یکساں نہیں ہوسکتے اور اکثر قوانین قابل ترمیم ہیں تو تمام مذاہب کے ماننے والوں کیلئے ایک جیسا قانون کہاں سے بن سکتا ہے ، یہ صرف اور صرف اسلام اور اقلیتوں کے خلاف سیاسی سازش ہے ، کوئی بھی مسلمان احکام شریعت کو چھوڑ کر کسی اور قانون پر عمل نہیں کرسکتا اور بحیثیت ہندوستانی خود ہندوستان کا دستور اسے یہ حق دیتا ہے کہ وہ اپنے مذہب پر مکمل طور پر عمل کرسکے ۔ لہذا آرٹیکل 44 کو دستور ہند سے نکال دیا جائے کیونکہ ملک دشمن سیاسی جماعتیں اس آرٹیکل کے پیش نظر ’’یکساں سیول کوڈ‘‘ کے مسئلہ کو بار بار اٹھا رہی ہیں جو کہ اس ملک کی یکجہتی اور مفاد کے خلاف ہے۔

TOPPOPULARRECENT