Thursday , August 17 2017
Home / ہندوستان / یکساں سیول کوڈ سے آدی واسی تمدن تباہ قومی آدی واسی پریشد کا ردعمل

یکساں سیول کوڈ سے آدی واسی تمدن تباہ قومی آدی واسی پریشد کا ردعمل

نئی دہلی ۔ 26 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) قومی آدی واسی کمیشن نے علی الاعلان یکساں سیول کوڈ نافذ کرنے کے حکومت کے اقدام کی مخالفت کی مذمت کرتے ہوئے قومی رابطہ کار راشٹریہ آدی واسی یکتاپریشد پریم کمار گیڈم نے کہا کہ قبائیلی طبقہ اپنا نمایاں تمدنی تشخص اور رسوم و رواج رکھتے ہیں۔ اگر ان کے رسوم و رواج کو یکساں سیول کوڈ کے تحت لایا جائے تو یہ ان کے تشخص کیلئے ایک حقیقی خطرہ ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ یکساں سیول کوڈ صرف مسلمانوں یا کسی خاص طبقہ یا ذات سے متعلق نہیں ہے۔ ہندوستان میں 6743 ذاتیں ہیں۔ اگر یکساں سیول کوڈ نافذ کیا جائے تو غالباً قومی اتحاد بھی خطرہ میں پڑ جائے گا۔ سب سے زیادہ آدی واسیوں کا تمدن متاثر ہوگا کیونکہ ان کے روایتی قوانین ختم کردیئے جائیں گے۔ وہ پریس کلب آف انڈیا میں پریس کانفرنس سے خطاب کررہے تھے۔ گیڈم نے کہا کہ قبائیلی ہندو نہیں ہیں۔ آدی واسی مکمل طور پر مختلف عمل کرتے ہیں اور یکساں سیول کوڈ مسلط کرنے کی کوئی بھی کوشش ان کے نمایاں رسوم و رواج جن کا تعلق شادی، بچوں کی پیدائش اور موت و ورثا سے ہے، متاثر ہوں گے۔ پریم کمار نے کہا کہ آدی واسی ہندو نہیں ہے۔ یہ مدھیہ پردیش ہائیکورٹ کے 2011ء کے فیصلہ میں جو شاردا قانون 1928ء کے بارے میں تھا۔ عادی واسیوں پر بھی قابل نفاذ ہے۔ شادی قانون 1955ء اور ہندو کورٹ بل 1956ء آدی واسیوں پر نافذ نہیں ہوتا۔ سپریم کورٹ کا بھی یہی خیال ہیکہ آدی واسی ہندو نہیں ہے۔

TOPPOPULARRECENT