Friday , September 22 2017
Home / Top Stories / یکساں سیول کوڈ پر حکومت کا حلفنامہ اور لاء کمیشن کا سوالنامہ مسترد

یکساں سیول کوڈ پر حکومت کا حلفنامہ اور لاء کمیشن کا سوالنامہ مسترد

حکومت سے شریعت میں مداخلت کی مذمت، شہر کی مساجد میں دستخطی مہم کا آغاز
حیدرآباد۔ 15اکٹوبر (سیاست نیوز) شہر کی مختلف مساجد میں مسلم پرسنل لاء بورڈ کی اپیل کے بعد آج زبردست دستخطی مہم چلائی گئی اور حکومت ہند کے سپریم کورٹ میں دائر کردہ حلف نامہ اور لاء کمیشن آف انڈیا کے سوالنامہ کو امت مسلمہ نے متحدہ طور پر مسترد کرنے کا اعلان کیا۔ دونوں شہروں کی مساجد میں ائمہ و خطباء نے حکومت کی جانب سے شریعت میں مداخلت کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ مسلمانوں کے لئے شریعت زندگی سے زیادہ اہمیت رکھتی ہے اور مسلمان شریعت محمدیؐ میں کسی قسم کی تحریف و ترمیم برداشت نہیں کر سکتے ۔علماء نے شریعت میں مداخلت کی کوششوں کو ناقابل قبول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ملک ہی نہیں دنیا کا کوئی قانون یا طاقت اللہ اور اس کے قوانین کو تبدیل کرنے کا اختیار نہیں رکھتی۔ ہندستان میں کی جانے والی ان کوششوں کو مسترد کرنے کیلئے مسلم امت کو متحد ہوتے ہوئے پرسنل لاء بورڈ کے احکام کے مطابق عمل کرنا چاہئے تاکہ نہ صرف اتحاد و اتفاق کا مظاہرہ کیا جا سکے بلکہ حکومت ہند کو بھی اس بات کا احساس دلایا جا سکے کہ ہندستانی مسلمان سب کچھ برداشت کرسکتا ہے لیکن اپنے مذہبی معاملات میں کی جانے والی مداخلت کو سہن نہیں کر سکتا۔ نماز جمعہ سے قبل اپنے بیانات میں علماء نے امت مسلمہ سے اپیل کی کہ وہ لاء کمیشن آف انڈیا کے سوالنامہ کو مسترد کرنے اور شریعت کے تحفظ کیلئے چلائی جانے والی اس مہم میں شدت پیدا کریںاور اس بات کی کوشش کریں کہ ہم جہاں کہیں شریعت کو نافذ کر سکتے ہیں اور اس بات کی قدرت رکھتے ہیں نفاذ شریعت کو یقینی بنائیں۔ علماء کرام نے کہا کہ ہمیں شریعت کی حفاظت کا عمل اپنے گھر سے شروع کرنے کی ضرورت ہے کیونکہ ہم اس بات پر قدرت رکھتے ہیں کہ اپنے گھریلو مسائل اور تنازعات کی شریعت کے مطابق یکسوئی کرنے کا اختیار ہے۔ شریعت کی حفاظت کیلئے ہم خود کو غیر شرعی رسومات سے پاک کرنے پر توجہ مرکوز کریں غیر شرعی رسومات ہمارے معاشرے میں داخل ہوتی جا رہی ہیں اور ان غیر شرعی رسومات کو اپناتے ہوئے ہم دوسروں کو موقع فراہم کرنے کے مرتکب بن رہے ہیں اسی لئے ہمیں حکومت کی ان کوششوں کے خلاف جدوجہد کے ساتھ ساتھ اپنے داخلی معاملات کو شریعت کے مطابق بنانے پر بھی توجہ مرکوز کرنی چاہئے۔ دونوں شہروں کی مختلف مساجد کے باہر مساجد کمیٹیوں اور ذمہ داران کی جانب سے دستخطی مہم کے کیمپ لگائے گئے تھے جہاں ہزاروں کی تعداد میں مصلیوں نے حکومت کے اقدام و کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے دستخطی مہم میں حصہ لیا۔ شہر کی بڑی مساجد کے علاوہ مرکزی مقامات پر آج پولیس کی جانب سے خصوصی صیانتی انتظامات کئے گئے تھے ۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی جانب سے جاری کردہ پروفارما کے مطابق دستخطی مہم کا سلسلہ جاری رہے گا۔ ائمہ و خطیب حضرات نے امت مسلمہ سے اپیل کی کہ وہ ہمیشہ مسلم پرسنل لاء بورڈ کی آواز پر لبیک کہنے کیلئے تیار رہیں اور آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے ذمہ داران کے احکام کے مطابق احتجاج جاری رکھیں۔ شہر کے کئی مقامات پر چلائی گئی دستخطی مہم کے دوران نوجوانوں نے شدید جذبات کا اظہار کرتے ہوئے حکومت کے موقف پر برہمی ظاہر کی ۔ علماء نے نوجوانوں سے اپیل کی کہ وہ اپنے گھر کی خواتین کو اس مسئلہ کی سنگینی سے واقف کرواتے ہوئے ان کے دستخط بھی حاصل کریں اور دستخط کئے گئے فارمس مسلم پرسنل لاء بورڈ کے دفتر کو روانہ کئے جائیں۔

TOPPOPULARRECENT