Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / یکساں سیول کوڈ پر لا کمیشن کے سوالنامہ کا بائیکاٹ ، شریعت مسلمانوں کے دل کی دھڑکن: مسلم پرسنل لا بورڈ

یکساں سیول کوڈ پر لا کمیشن کے سوالنامہ کا بائیکاٹ ، شریعت مسلمانوں کے دل کی دھڑکن: مسلم پرسنل لا بورڈ

حیدرآباد۔13اکٹوبر(سیاست نیوز) آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے لاء کمیشن کی جانب سے جاری کردہ سوالنامہ کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کرتے ہوئے اس بات کا اعلان کیا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اس موقف کو ملک کی تمام مسلم تنظیموں و جماعتوں کی مکمل تائید حاصل ہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے اس فیصلہ کی حمایت کرنے والی جماعتوں میں جمیعۃ علماء ہند‘ جماعت اسلامی ہند‘ مسلم مجلس مشاورت ‘ ملی کونسل‘ مرکزی جمیعت اہل حدیث کے علاوہ تمام مسالک دیوبندی‘ بریلوی‘ اہل حدیث اور شیعہ شامل ہیں۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے آج مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران لاء کمیشن کے سوالنامہ اور حکومت کی جانب سے عدالت میں داخل کردہ حلف نامہ کو مسترد کرتے ہوئے اس کے بائیکاٹ کی اپیل کی ہے۔ پریس کانفرنس میں مولانا محمد ولی رحمانی جنرل سیکریٹری مسلم پرسنل لاء بورڈ ‘ مولانا سید ارشد مدنی صدر جمیعۃ علماء ہند‘ جناب محمد جعفر سابق نائب امیر جماعت اسلامی ہند‘ مولانا اصغر علی امام مہدی سلفی ناظم عمومی جمیعت اہل حدیث ‘ مولانا سید محمود مدنی جنرل سیکریٹری جمیعۃ علماء ہند‘ مولانا توقیر رضا خان صدر اتحاد ملت‘ ڈاکڈر محمد منظور عالم جنرل سیکریٹری آل انڈیا ملی کونسل‘ جناب نوید حامد صدر آل انڈیا مسلم مجلس مشاورت‘ مولانا ابولقاسم نعمانی مہتمم دارالعلوم دیوبند‘ مولانا محسن تقوی امام شیعہ جامع مسجد ‘ کشمیری گیٹ دہلی موجود تھے۔

مولانا محمد ولی رحمانی نے بتایا کہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے لاء کمیشن آف انڈیا کی جانب سے جاری کردہ سوالنامہ کا جواب نہ دینے اور اس کا بائیکاٹ کرنے کا جو فیصلہ کیا ہے اسے ان تمام تنظیموں کی تائید حاصل ہے اور اس فیصلہ کی بنیادی وجہ یہ ہے کہ ملک میں فرقہ پرست حکومت مسلم پرسنل لاء کو ختم کرنے کی سازش کر رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ لاء کمیشن کی جانب سے جاری کردہ سوالنامہ بدنیتی کا مظہر ہے جس کے ذریعہ الجھانے کی کوشش کی جارہی ہے۔ انہوں نے اس سوالنامہ میں دستور ہند کی دفعہ 44کے حوالے کو یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کے لئے دستوری عمل قرار دینے کی کوششوں کی مذمت کرتے ہوئے کہا کہ یہ بات واضح ہے کہ دفعہ 44ہدایات کا حصہ ہیں جبکہ بنیادی حقوق کی دفعہ 25میں ملک کے ہر شہری کو مذہب کے مطابق عقیدہ رکھنے اور مذہبی قوانین پر عمل کرنے کے علاوہ مذہب کی تبلیغ کا حق حاصل ہے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ و دیگر تنظیموں کے سربراہان نے کہا کہ یکساں سیول کوڈ کی کوشش قومی یکجہتی کے بجائے افتراق کا سبب بن سکتی ہے۔ پریس کانفرنس میں شریک ذمہ داران ملت اسلامیہ و عمائدین ملت نے لاء کمیشن کے سوالنامہ اور حکومت کی کوششوں کے خلاف جاری دستخطی مہم میں شامل ہونے کی اپیل کرتے ہوئے کہا کہ سوالنامہ کے جواب دینے کے بجائے پرسنل لاء بورڈ ان کوششوں کے خلاف مہم چلائے گا جو شریعت میں مداخلت کیلئے کی جارہی ہیں۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ نے لاء کمیشن آف انڈیا کے سوالنامہ کو گنجلک اور گمراہ کن قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سوالنامہ میں ہی یہ تصور دیا جا رہا ہے کہ پرسنل لاء سماجی نا انصافی اور صنفی امتیازات پیدا کرتے ہیں اور ان کے ذریعہ خواتین کے حقوق کو ختم کیا جا رہا ہے۔

آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے واضح کیا کہ سوالنامہ میں ایک مخصوص مذہب کے ماننے والوں کو نشانہ بنا یا جار ہاہے۔ مسلم پرسنل لاء بورڈ کے صحافتی بیان میں کہا گیا ہے کہ تین طلاق‘ تعدد ازواج اور نان نفقہ مطلقہ کے مسئلے پر حکومت کا حلف نامہ ہو یا لاء کمیشن آف انڈیا کا سوالنامہ دونوں ہی کا مقصد ملک میں یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی راہ ہموار کرنا ہے۔ آل انڈیا مسلم پرنل لاء بورڈ نے کہا کہ ملک مختلف سنگین مسائل سے دو چار ہے اور ایسی صور ت میں اختلافی مسائل کو چھیڑتے ہوئے امت میں انتشار کی کیفیت پیدا کی جا رہی ہے اور ان کوششوں کی ہر ذی شعور کی جانب سے مذمت کی جانی چاہئے ۔ بورڈ نے تمام سیکولر سیاسی جماعتوں سے بھی اپیل کی کہ وہ ان کوششوں کی مذمت کریںاور لا کمیشن آف انڈیا کے سوالنامہ کو مسترد کریں تاکہ حکومت کو اس اقدام سے باز رکھا جا سکے۔ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے لاء کمیشن آف انڈیا اور حکومت ہند پر واضح کردیا کہ شریعت مسلمانوں کے دلوں کی دھڑکن ہے اور اس میں ایک نقطہ کی تبدیلی بھی مسلمانوں کو گوارہ نہیں ہے۔اسی لئے لاء کمیشن کے سوالنامہ کا بائیکاٹ کرنے کا بھی سبھی نے متحدہ طور پر کافی غور و خوص کے بعد فیصلہ کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT