Monday , August 21 2017
Home / Top Stories / یکساں سیول کوڈ کا نفاذ اتفاق رائے کے بغیر نہیں ہوگا

یکساں سیول کوڈ کا نفاذ اتفاق رائے کے بغیر نہیں ہوگا

طلاق ثلاثہ خواتین سے فطری انصاف کے مغائر، اکھیلیش اور شیوپال میں سیمی فائنل : وینکیا نائیڈو
نئی دہلی ۔ 26 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) یکساں سیول کوڈ کا نفاذ پچھلے دروازے سے اور اتفاق رائے کے بغیر نہیں ہوگا، مرکزی وزیر برائے اطلاعات و نشریات ایم وینکیا نائیڈو نے اس الزام کو مسترد کردیا کہ بی جے پی کی جانب سے انتخابات میں خاص طور پر یو پی انتخابات میں صف بندی کیلئے حساس مسائل کا استحصال کررہی ہے۔ انہوں نے کہا کہ طلاق ثلاثہ، یکساں سیول کوڈ اور رام مندر بی جے پی کی جانب سے آئندہ انتخابات میں سیاسی مفادات کیلئے استعمال نہیں کئے جائیں گے۔ انتخابات ترقی کے ایجنڈہ پر ہوں گے۔ انہوں نے کہا کہ ایسے اہم مسائل کو انتخابی مفادات کے نکتہ نظر سے نہیں دیکھا جانا چاہئے۔ حکومت کے ترجمان نے اعلیٰ نے اپوزیشن کی اس تنقید کو بھی مسترد کردیا کہ سرجیکل حملے سیاسی تھے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس (طلاق ثلاثہ) کو مذہبی معاملہ نہیں سمجھتی۔ یہ صنفی حساسیت کا سوال ہے۔ یہ کہنا غلط ہوگا کہ حکومت مسلم معاملات میں دخل اندازی کررہی ہے۔ اسی ہندوستانی پارلیمنٹ اور سیاسی نظام میں ہندو کوڈ بل، طلاق قانون، ہندو شادی خانہ کی تنسیخ، ڈوری (تلک) اور ستی کی رسم کو ممنوع قرار دیا تھا۔ یہ تمام باتیں ہندوستانی پارلیمنٹ میں منظور ہوئی تھیں۔ وہ پی ٹی آئی کو انٹرویو دے رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ ہم یکساں سیول کوڈ پر فی  الحال تبادلہ خیال نہیں کررہے ہیں۔ لا کمیشن نے ایک سوالنامہ جاری کیا ہے اور عوام سے ردعمل دریافت کیا ہے۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ سپریم کورٹ طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر درست فیصلہ کرے گی۔ حکومت کے طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر سپریم کورٹ میں حلفنامہ کا دفاع کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ یہ (ستی) ہندو رسم تھی جس میں حکومت نے مداخلت کی تھی۔ ممکن ہیکہ کوئی ایسا بھی کہے لیکن اجتماعی دانش کا تقاضہ ہیکہ پورا ملک پیشرفت کرے۔ ہم نے تعصب کے خلاف کارروائی شروع کی ہے جو خواتین کے ساتھ ناانصافی کررہا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ اس کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ مسلم خواتین اور تنظیمیں طلاق ثلاثہ کے خاتمہ کا مطالبہ کررہی تھی اور انہوں نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا ہے۔ دستور کی دفعہ 14 اور 15 کا حوالہ دیتے ہوئے جو تعصب کی مخالفت کرتے ہیں، مرکزی وزیر نے کہا کہ حکومت ہند چاہتی ہیکہ ہر مذہب ہر پرسنل لاء کے مطابق ہو۔ سماج میں ازخود انقلابی تبدیلی آئے تو یہ بہتر ہوگا۔ نائیڈو نے کہا کہ صرف تین بار طلاق کا لفظ ادا کرکے عورت کو مکمل طور پر بے سہارا کردینا فطری انصاف کے خلاف ہے۔ یہ طریقہ ختم ہونا چاہئے۔ انہوں نے کہا کہ یہ بحث ہم نے شروع نہیں کی۔ چند افراد عدالت اور سپریم کورٹ سے اس مسئلہ پر بحث چاہتے تھے اور عدالت نے حکومت کا نکتہ نظر دریافت کیا۔ چنانچہ حکومت نے حلف نامہ داخل کیا۔

حکومت کا نکتہ نظر یہ ہیکہ طلاق ثلاثہ ناانصافی، ناجائز، غیرمہذب ہے اور اس کا خاتمہ ہونا چاہئے۔ اس بیان کا انتخابات سے کیا تعلق ہے۔ رام مندر کے بارے میں سوالات کی بوچھار کا جواب دیتے ہوئے وینکیا نائیڈو نے کہا کہ ہندوستانی عوام چاہتے ہیں کہ لارڈ رام کی جنم بھومی پر ایک شاندار مندر تعمیر کیا جائے لیکن آپ اس کے بارے میں کیسے جانتے ہیں۔ آپ کو مقدمہ کے فریقین سے تبادلہ خیال کرنا ہوگا اور قانونی فیصلے کی پابندی کرنی ہوگی جس میں کافی دیر ہورہی ہے۔ انہوں نے ادعا کیا کہ جہاں تک حکومت کا تعلق ہے، حکومت اور سیاسی پارٹیوں کا مندر کی تعمیر میں کوئی کردار نہیں ہے۔ آپ صرف رکاوٹیں دور کرنے میں مدد کرسکتے ہیں جو ملائم جی نے ایسا ہی کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ملائم سنگھ کو یہ رکاوٹیں پہلے ہی پیدا نہیں کرنا چاہئے تھا۔ مرکزی وزیر نے کہا کہ جہاں تک حکومت اور بی جے پی کا تعلق ہے یو پی انتخابات رام جنم بھومی، یکساں سیول کوڈ یا طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر نہیں بلکہ ترقی کے مسئلہ پر لڑے جائیں گے۔ ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہ اب توجہ حساس مسائل پر مرکوز ہوگئی ہے۔ انہوں نے فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اگر آپ ان کے بارے میں بات نہ کریں تو کہا  جاتا ہیکہ رام کو بھلا دیا گیا ہے اور جب اس کے بارے میں بات کرتے ہیں تو کہا جاتا ہیکہ یوپی انتخابات کی وجہ سے رام یاد آ گئے ہیں۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ بی جے پی ترقی اور اچھی حکمرانی کے موضوعات پر یوپی میں انتخابی مہم چلائے ہیں۔ اس کا یہ مطلب نہیں ہیکہ حکومت نے یکساں سیول کوڈ اور رام جنم بھومی جیسے مسائل کو بھلا دیا ہے۔ اپوزیشن پارٹیوں کی تنقید پر کہ بی جے پی سرحد پار سرجیکل حملوں سے سیاسی فائدے حاصل کررہی ہے۔

نائیڈو نے یاد دلایا کہ کانگریس نے اٹل بہاری واجپائی کے اس وقت کی وزیراعظم اندرا گاندھی کو ہند ۔ پاک جنگ 1971ء کے وقت درگا دیوی قرار دینے کو بھی سیاسی مفادات پر مبنی قرار دیا تھا۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ سیاسی پارٹیوں کے قائدین کو ان کے سوالات کا تفصیلی جواب دیا جاچکا ہے۔ فوج نے کل جماعتی اجلاس میں جو سرجیکل حملوں کے موضوع پر منعقد کیا تھا اور ان تمام نے خوشی سے شرکت کی تھی اور حملوں کا سوال اٹھایا تھا لیکن بعد میں سوچ سمجھ کر ثبوت طلب کیا جارہا ہے۔ راہول گاندھی کے ’’خون کی دلالی‘‘ کے تبصرہ پر وینکیا  نائیڈو نے اسے خام تبصرہ قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ جب بھی تبصرہ کیا جاتا ہے یہ ملک کے ساتھ ناانصافی ہوتی ہے۔ یہ ناانصافی خود آپ کے ساتھ ہے۔ تبصرہ کے بعد ان کی مقبولیت ختم ہوگئی۔ عوام نے انہیں جواب دے دیا۔ اس سوال پر کہ بی جے پی کا سماج وادی پارٹی میں پھوٹ میں ایک کردار ہے۔ وینکیا نائیڈو نے کہا کہ بعض لوگوں کیلئے برسراقتدار پارٹی یا آر ایس ایس کو ہر بات کا ذمہ دار قرار دینا فیشن بن گیا ہے۔ انہوں نے اعتماد ظاہر کیا کہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کامیاب رہے گی۔ انہوں نے سماج وادی پارٹی پر ریاست کو تباہ کرنے کا الزام عائد کیا اور کہا کہ ہم مچھلی کھانے یا مطلاطم پانی میں ماہی گیری کرنے سے دلچسپی نہیں رکھتے۔ یوپی میں ان کے حریف کے بارے میں سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ سماج وادی پارٹی، بہوجن سماج پارٹی اور کانگریس مقابلہ میں ہیں۔ انہوں نے چیف منسٹر یو پی اکھیلیش اور ان کے چچا شیوپال کے درمیان جنگ کو ایک سیمی فائنل قرار دیتے ہوئے کہا کہ دیکھیں کون فاتح بنتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT