Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / یکساں سیول کوڈ کا نفاذ مسلمانوں کیساتھ عوام پر کاری ضرب

یکساں سیول کوڈ کا نفاذ مسلمانوں کیساتھ عوام پر کاری ضرب

آل انڈیا شریعت کانفرنس کا اجلاس، علماء کرام اور سیاسی قائدین کا خطاب
حیدرآباد۔/6اگسٹ، ( پریس نوٹ )یکساں سیول کوڈکا نفاذ صرف مسلمانوں کیلئے ہی نہیں بلکہ ملک کی عوام پر کاری ضرب ہوگا۔ مسلمان شریعت محمدی میں کسی بھی قسم کی تبدیلی کو برداشت نہیں کریں گے۔ نکاح، طلاق، خلع، نان نفقہ ، وراثت کے قانون جو مسلمان کا عائلی قانون ہے کسی بھی قسم کی تبدیلی ملک کو انارکی کی طرف لے جائے گی۔ جماعت اسلامی ، عالمی جمعیتہ المشائخ، جمعیتہ العلماء، تحریک مسلم شبان، تبلیغی جماعت، بریلوی، شیعہ، مہدوی، سنی علماء بورڈ، وحدت اسلامی اور مسلم تنظیموں، ملی و دینی جدوجہد کرنے والی دیگر انجمنوں کے علاوہ اضلاع تلنگانہ کریم نگر، ورنگل، میدک، نلگنڈہ، محبوب نگر، آندھرا پردیش ، کرنول، کڑپہ کے نمائندوں کا ایک نمائندہ اجلاس آج شملہ گارڈن ملک پیٹ میں یکساں سیول کوڈ کے خلاف منعقد ہوا۔ جس میں جناب محمد مشتاق ملک صدر تحریک مسلم شبان نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ہندوستان میں فرقہ پرست طاقتیں جو مرکزی حکومت کی حمایت کرتی ہیں اس بات کی کوشش میں ہیں کہ یکساں سیول کوڈ نافذ کیا جائے۔ مرکز کی بی جے پی حکومت کے انتخابی منشور میں یہ بات واضح ہے کہ ملک میں یکساں سیول کوڈ نافذ کریں۔ ابھی حال ہی میں لا کمیشن کے صدرنشین نے بیان دیا کہ یکساں سیول کوڈ میں کوئی مذہبی قانون کو جگہ نہیں دی جائے گی، دکن کی سرزمین اپنے شعور اور حساسیت کیلئے مشہور ہے اور آج کا اجلاس اس بات کا ثبوت ہے۔ آل انڈیا شریعت کانفرنس منعقد کرنے کیلئے ایک قرارداد پیش کی گئی جس کو 200رکنی مجلس استقبالیہ نے منظور کیا۔ مولانا سید شاہ اسرار حسین رضوی نے ملک میں یکساں سیول کوڈ کے خلاف قرارداد پیش کی جس میں کہا گیا کہ ہندوستان کئی تہذیبوں اور مذاہب کو اپنے دامن میں سمیٹے ہوئے ہے ایسے ملک میں یکساں سیول کوڈ تباہ کن نتائج کا حامل ہوگا۔ قرارداد میں کہا گیا کہ کل بھی مسلمان شریعت کی حفاظت کیلئے کمر بستہ اور سیسہ سپر تھے اور آنے والے وقت میں سینہ سپر رہیں گے۔ قرارداد میں مولانا اسرار حسین رضوی نے کہا کہ مرکزی حکومت مسلمانوں کے ان احساسات کو پڑھ لے پھر یکساں سیول کوڈ کی بات کرے۔ امیر جماعت اسلامی مولانا حامد محمد خاں نے قرارداد کی تائید کرتے ہوئے کہا کہ مسلمان ملت واحدہ کی حیثیت سے ہر خطرہ کا مقابلہ کریں گے۔ حافظ پیر شبیر صدر جمعیتہ العلماء تلنگانہ و آندھرا پردیش نے بھی قرارداد کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ شریعت کے تحفظ کیلئے مسلمان متحد ہیں اور آج تمام مسالک کے علماء و ذمہ داروں کی موجودگی اس بات کی علامت ہے۔ مفتی حسن الدین نے کہا کہ شریعت ہم کو ساری چیزوں سے زیادہ عزیز ہے۔ قانون ساز کونسل تلنگانہ میں اپوزیشن لیڈر جناب محمد علی شبیر ایم ایل سی نے کہا کہ بی جے پی حکومت نت نئے مسائل کے ذریعہ عوام کو اُلجھن میں مبتلاء کئے ہوئے ہے۔ حکومت ناکامیوں کو چھپانے فرقہ پرست ایجنڈے کو آگے بڑھا رہی ہے۔ شریعت کے تحفظ کی مہم میں وہ مکمل ساتھ ہیں۔ جناب عثمان شہید ایڈوکیٹ ہائیکورٹ نے مسلم پرسنل لا اور یکساں سیول کوڈ کے خطرات کا تفصیلی ذکر کرتے ہوئے کہا کہ صرف مسلمان ہی کا قانون ایک ہے اور غیر تبدیل شدہ ہے، قرآن اور حدیث کو کوئی تبدیل نہیں کرسکتا۔ صرف شریعت ہی ہے تبدیل نہیں ہوئی، مخالف شریعت فیصلے عدالتوں میں آئے ہیں جس پر ہماری خاموشی افسوسناک ہے۔ شریعت کے تحفظ کیلئے مسلمانوں کا یہ متحدہ اجلاس قابل تعریف و تحسین ہے۔ مولانا نصیر الدین تحفظ شریعت مہم کو منصوبہ بند طریقہ سے چلانے کی حمایت کی۔ اجلاس کو مفتی محمد محبوب نظامی، مولانا شیخ حسین، شیعہ عالم کے نمئندہ مولانا منور علی کے علاوہ جناب سید طارق قادری ایڈوکیٹ، مولانا عثمانی، جناب سید مکرم الدین، جناب محمد فرید الدین جنرل، شکیل، جناب عثمان الہاجری، مولانا سید حامد حسین شطاری، جناب عبدالقدیر، جناب عبدالستار مجاہد، جناب ظفر اللہ ایڈوکیٹ، جناب فاروق علی خاں، مفتی مستان علی، مفتی ابرار، محمد رحیم اللہ خان نیازی، عبداللہ سہیل، جناب محمد غوث، مجیب الدین، نظام الدین، عبدالصمد نواب، جناب ظہور خالد، ڈاکٹر انیس صدیقی نے بھی مخاطب کیا۔ بابا شرف الدین، عبدالحکیم، شیخ محمد، سعید بن حجاب، وحید الدین شاہین نے اضلاع سے شرکت کی۔ اجلاس میں فیصلے کئے گئے کہ اضلاع تلنگانہ میں تحفظ شریعت مہم چلائی جائے اور شہر حیدرآباد میں 2لاکھ مسلمانوں کی شریعت کانفرنس منعقد کی جائے گی۔

TOPPOPULARRECENT