Wednesday , September 20 2017
Home / شہر کی خبریں / یکساں سیول کوڈ کا واضح منصوبہ حکومت کے پاس بھی نہیں

یکساں سیول کوڈ کا واضح منصوبہ حکومت کے پاس بھی نہیں

مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی کوشش، طلاق کے تعلق سے اسلام میں واضح احکام: سریش والا
حیدرآباد ۔ /26 اکٹوبر (سیاست نیوز) ظفر سریش والا چانسلر اردو یونیورسٹی نے مسلمانوں کو مشورہ دیا کہ وہ یکساں سیول کوڈ کے مطالبہ پر ہرگز خوف زدہ نہ ہوں کیونکہ اس کے نفاذ کی صورت میں مسلمانوں سے زیادہ دیگر طبقات کو نقصان ہوسکتا ہے ۔ لہذا یکساں سیول کوڈ کا مطالبہ کرنے والے پہلے اپنے مذاہب میں موجود علحدہ تہذیبوں کی برقراری کی فکر کریں ۔ میڈیا سے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے ظفر سریش والا نے کہا کہ آج تک کسی بھی گوشے سے یکساں سیول کوڈ کا ماڈل عوام کے درمیان پیش نہیں کیا گیا ۔ صرف ایک ہوا کھڑا کرتے ہوئے مسلمانوں کو مشتعل کرنے کی کوشش کی جارہی ہے تاکہ اس سے اپنے مفادات کی تکمیل کرسکیں ۔ انہوں نے کہا کہ مسلمانوں میں تین مسائل ہی ایسے ہیں جن کا راست تعلق شریعت سے ہے ۔ طلاق ، دوسری شادی اور وراثت جیسے مسائل کی یکسوئی کیلئے زیادہ تر لوگ رجوع ہوتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اسلام میں ان تینوں مسائل کیلئے واضح ہدایات موجود ہیں اور ان کے بارے میں دیگر طبقات کو بھی اس بات کا اعتراف ہے کہ اسلام نے خواتین کے ساتھ مکمل انصاف کیا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ اللہ تعالیٰ نے طلاق کے طریقہ کار کی اسلام میں وضاحت کردی ہے ۔ لہذا واٹس اپ یا ٹیلیفون پر بیک وقت تین طلاق دینا قرآن کے برخلاف ہے ۔ انہوں نے کہا کہ سپریم کورٹ کے ریٹائرڈ جج جسٹس ورما نے کہا تھا کہ اسلام میں وراثت کا قانون دیگر طبقات کو بھی اختیار کرنا چاہئیے ۔ انہوں نے کہا کہ اگر مسلمان زندگی کے ہر شعبہ میں اسلام پر کاربند ہوجائیں تو انہیں کوئی طاقت شریعت سے علحدہ نہیں کرسکتی ۔ ظفر سریش والا نے ملک بھر میں مسلم پرسنل بورڈ کی جانب سے چلائی جارہی مہم اور احتجاجی جلسوں کے انعقاد پر کسی تبصرے سے گریز کرتے ہوئے کہا کہ شریعت کے معاملے میں وہ مسلم پرسنل لا بورڈ کے ساتھ ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ مسلمان صبر و تحمل سے کام لیں تاکہ مفادات حاصلہ کو صورتحال کے استحصال کا کوئی موقع نہ ملے ۔ انہوں نے کہا کہ شرعی قانون کے نفاذ کا حکومت سے مطالبہ کرنے کے بجائے ہمیں خود اپنی زندگی میں اسلام کو اختیار کرنا ہوگا ۔

TOPPOPULARRECENT