Wednesday , October 18 2017
Home / اضلاع کی خبریں / یکساں سیول کوڈ کی سخت مخالفت

یکساں سیول کوڈ کی سخت مخالفت

محبوب نگر میں جلسہ، سینئر ایڈوکیٹ محمد عثمان شہید کا خطاب
محبوب نگر۔ 15 نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مرکزی حکومت ہندوستان کو ہندو راشٹر بنانا چاہتی ہے۔ یکساں سیول کوڈ کے نفاذ کی کوشش اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔ ان خیالات کا اظہار محمد عثمان شہید سینئر ایڈوکیٹ ہائیکورٹ نے مستقر محبوب نگر کے الماس فنکشن ہال میں ایک جلسہ کو مخاطب کرتے ہوئے کیا۔ جلسہ کا اہتمام انڈین یونین مسلم لیگ نے کیا تھا۔ انہوں نے کہا کہ یکساں سیول کوڈ کا نفاذ مسلمانوں کی شناخت کو مٹانے، شریعت محمدیؐ میں مداخلت، مسلم پرسنل لا کو ختم کرنا، راست اسلام سے تصادم ہے۔ شریعت محمدیؐ ایک سمندر ہے، نکاح، طلاق، مہر، حُبہ، وراثت، وقف یہ سب اس کا حصہ ہیں۔ مسلمان موجودہ قانون کے تحت عدالت سے رجوع ہوکر مسلم پرسنل لا کے تحت فیصلوں کو قبول کرتا ہے لیکن اس کو ختم کرنے کیلئے موجودہ حکومت مذموم اقدامات کررہی ہے۔ دیگر مذاہب کے قانون انسانوں کے بنائے ہوئے ہیں مگر شریعت محمدی خدا کی بنائی ہوئی ہے۔ عثمان شہید نے مسلمانوں کو مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ وہ مسلکی اور سیاسی اختلافات بالائے طاق رکھتے ہوئے متحد ہوجائیں اور ان حالات کا زبردست دفاع کریں۔ حسین شہید سینئر قائد مسلم لیگ نے کہا کہ مسلم نوجوانوں کو جھوٹے مقدمات میں پھنساکر گرفتار کرکے برسہا برس تک جیلوں میں ڈال دیا جارہا ہے۔ مقدمہ کے آغاز میں جب یہ نوجوان بے قصور ثابت ہونے کے امکانات پیدا ہوتے ہیں تو انکاؤنٹر کے نام پر انہیں قتل کردیا جاتا ہے۔ چاہے وہ بھوپال کا انکاؤنٹر ہو یا آلیر کا اس درندگی کے خلاف قومی سطح پر تحریک چلانے کی ضرورت ہے۔ جلسہ سے جناب خلیل احمد ایڈوکیٹ نے بھی خطاب کرتے ہوئے قانونی نکات اور شرعی احکام پر روشنی ڈالی۔ مرزا قدوس بیگ صدر ضلع مسلم لیگ، شمشاد قادری حیدرآباد نے بھی مخاطب کیا۔ مظہر حسین شہید قادری نے نظامت کے فرائض انجام دیئے۔ حافظ مولانا الیاس کی قرأت کلام پاک سے کارروائی کا آغاز ہوا۔ محمد فاروق خاں نے بارگاہ رسالت ؐ میں منظوم نذرانہ پیش کیا۔

TOPPOPULARRECENT