Friday , October 20 2017
Home / شہر کی خبریں / یکساں سیول کوڈ کی مخالفت میں لاکھوں دستخطیں

یکساں سیول کوڈ کی مخالفت میں لاکھوں دستخطیں

مساجد میں آئمہ کا خطاب، تحفظ شریعت پر دستخطوں کیلئے ہر عمر کے مصلیوں کا ملی و مذہبی جذبہ
حیدرآباد۔21اکٹوبر(سیاست نیوز) اللہ کے قوانین کی حفاظت کا صحیح طریقہ ٔ کار اللہ کے رسول ﷺ کی تعلیمات پر عمل کرتے ہوئے اتباع سنت کا اہتمام کرنا ہے۔ جو طاقتیں شریعت میں مداخلت کی کوشش کر رہی ہیں ان طاقتوں کو اس بات کا اندازہ بھی ہے کہ جب اللہ والے اپنے معاملات کو اللہ سے رجوع کرنے لگیں گے تو شریعت میں مداخلت کی کوشش کرنے والوں کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑے گا بلکہ ان کے منصوبے اور وہ خود دونوں ہی تباہ ہوجائیں گے۔دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد کی مختلف مساجد میں آج ائمہ و خطباء نے اپنے خطبہ ٔ جمعہ سے قبل خطابات میں شریعت کی اہمیت و افادیت بیان کرتے ہوئے کہا کہ اللہ کے فضل و کرم سے ہمارے بڑوں نے ہم تک ان قوانین کو محفوظ طریقہ سے پہنچایا ہے اور ہم پر اس بات کی ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ ہم ان قوانین شریعت کو اپنی نسلوں تک پہنچانے میں کوتاہی نہ کریں۔دونوں شہروں کی مساجد میں مصلیان کرام نے دستخطی مہم کی بھر پور حوصلہ افزائی کی اور یکساں سیول کوڈ کی مخالفت میں دستخطوں میں بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ائمہ و خطیب حضرات نے امت مسلمہ کے نوجوانوں کو دینی علوم سے بہرہ ور کرنے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ ملک میں شروع کئے گئے فتنہ کا مؤثر جواب نہ دیا جائے گا تو آئندہ نسلیں اور خاندانی نظام تباہ ہوجائے گا۔ مولانا سید شاہ مرتضی علی صوفی قادری خطیب جامع مسجد حافظ ڈنکا مغلپورہ نے اپنے خطاب کے دوران کہا کہ شریعت کی حفاظت امت مسلمہ کی ذمہ داری ہے اور اس ذمہ داری کو پورا کرنے کیلئے ضروری ہے کہ ہم شرعی امور کو اپنائیں اور غیر شرعی امور سے اجتناب کریں۔ انہوں نے کہا کہ حکومتیں اس طرح کی کوششیں کرتی رہیں گی لیکن ان کا مؤثر جواب ہم غیر شرعی امور کو ترک کرتے ہوئے دے سکتے ہیں۔ مولانا سید شاہ مرتضی علی صوفی نے مسلم پرسنل لاء بورڈ کے موقف اور بورڈ کی ہدایات کے مطابق کام کرنے کا مشورہ دیتے ہوئے کہا کہ ہمیں متحدہ طور پر ان سازشوں کا مقابلہ کرنے کیلئے ہمہ تن تیار رہنا چاہئے۔ مولانا سید عبید الرحمن اطہر ندوی خطیب مسجد ٹین پوش لال ٹیکری نامپلی نے نسل نو کو دینی علوم سے واقف کروانے کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ جب تک معاشرے کو اسلامی تعلیمات سے واقف نہیں کروایا جاتا اس وقت تک کوئی حقیقی اسلام کو سمجھ نہیں پائے گا۔ انہوں نے عائلی مسائل میں مداخلت اور شریعت سے کھلواڑ کی کوششوں کو اپنی ناکامیوں پر محمول قرار دیتے ہوئے کہا کہ ہم خود اسلام کو صحیح ڈھنگ سے پیش کرنے میں ناکام ہو رہے ہیں اسی لئے یہ حالات پیدا ہو رہے ہیں۔ مولانا عبید الرحمن اطہر ندوی نے خاندانی و معاشرتی زندگی کو بہتر بنانے کیلئے شریعت کو اپنانے کی تاکید کی اور کہا کہ اگر شریعت سے دوری اختیار کی جائے گی تو اس طرح کے حالات پیدا ہوں گے۔ مولانا مفتی تجمل حسین خطیب و امام مسجد اے بیاٹری لائن نے نماز جمعہ سے قبل خطاب کے دوران کہا کہ شریعت دراصل اللہ کا قانون ہے جو اللہ کے رسولﷺ کے توسط سے ہم تک پہنچا ہے اور اس قانون میں تحریف یا ترمیم نہیں ہو سکتی اور ساتھ ہی اس پر من و عن عمل آوری بھی لازمی ہے۔ مفتی تجمل حسین نے کہا کہ شرعی قوانین پر ہم بات کر رہے ہیں لیکن اپنی زندگیوں میں عملی اعتبار سے شریعت پر عمل میں ناکامی کے سبب آج ہمیں جواب دینا پڑ رہا ہے اسی لئے ضروری ہے کہ ہم نہ صرف حب رسول ﷺ کے دعوے کریں بلکہ شریعتمحمدیؐ پر گامزن ہوتے ہوئے دنیا کو دعوت دین کا عملی نمونہ بن کر دکھائیں۔علاوہ ازیں شہر کی دیگر مساجد میں بھی اسی عنوان پر خطابات کئے گئے۔ مولانا احسن بن محمد الحمومی خطیب و امام شاہی مسجد باغ عامہ نے خطبہ ٔ جمعہ سے قبل خطاب کے دوران طلاق کے طریقہ ٔ کار اور اس عمل سے ہونے والے اثرات پر تفصیلی روشنی ڈالی اور کہا کہ قرآن و حدیث کی روشنی میں ناگزیر حالات میں طلاق کی اجازت دی گئی ہے اور وہ بھی مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد بھی نباہ نہ ہونے کی صورت میں ایک طلاق کی اجازت ہے۔انہوں نے بتایا کہ اللہ کے رسولﷺ نے تین طلاق دینے والے کو قرآن و احکام الہی کا مذاق کرنے والا قرار دیا ہے۔ مولانا احسن بن محمد الحمومی نے بتایا کہ نوجوانوں کو نکاح سے قبل عائلی زندگی اور شریعت محمدیؐ کے متعلق انہیں واقف کروایا جانا ضروری ہے۔

TOPPOPULARRECENT