Tuesday , September 26 2017
Home / مضامین / یہ جنگ ہماری ہے تو سپاہی کرایہ کا کیوں ؟

یہ جنگ ہماری ہے تو سپاہی کرایہ کا کیوں ؟

 

محمد مصطفی علی سروری
9 جون 2017 ء کو آندھراپردیش و تلنگانہ کی مشترکہ ہائیکورٹ کے جج جسٹس بی سیوا سنکارا راؤ نے اپنے ایک فیصلہ میں گائے کو مقدس ماں قرار دیتے ہوئے اس کے ذبیحہ کو ناقابل ضمانت جرم قرار دینے کیلئے قانون سازی کرنے آندھراپردیش و تلنگانہ کی حکومتوں کو ہدایت دی ہے۔ مذکورہ جج نے ہندوؤں کی مقدس کتاب اُپنشد ، ویداس اور پرانوں کے حوالے دیتے ہوئے کہا کہ گائے نہ صرف ملک کے اکثریتی لوگوںکیلئے ماں کا درجہ رکھتی ہے بلکہ ایک قومی اثاثہ ہے اور گائے کو نقصان پہنچانے کے بارے میں کسی کو خواب میں بھی نہیں سوچنا چاہئے ۔ جسٹس سیوا سنکا را ؤ دراصل نلگنڈہ کے ایک مویشی کے تاجر رماوتھ ہنوما کی درخواست کی سماعت کر رہے تھے ۔ رماوتھ نے عدالت سے درخواست کی تھی کہ سال گزشتہ اس کے 63 گائیں اور دو بیلوں کو حکومت نے ضبط کرلیا تھا ، وہ اس کو واپس کردی جائیں۔

خیر سے یہ ایک عدالت کا فیصلہ تھا ، فیصلہ صادر کرتے وقت جج نے تلنگانہ اور آندھرا کی حکومتوں کو ہدایت دی کہ وہ گائے ذبیحہ کو ناقابل ضمانت جرم قرار دیں، یہ کوئی پہلا موقع نہیں ہے کہ ہمارے ملک میں گائے ذبیحہ پر کسی جج نے اس طرح کا فیصلہ صادر کیا ہو۔ ابھی گزشتہ مہینے کی ہی بات ہے 31 مئی 2017 ء کو راجستھان ہائیکورٹ کے جج نے اپنے ریٹائرمنٹ کے آخری دن 139 صفحات پر مبنی فیصلہ صادر کرتے ہوئے حکومت ہند سے اپیل کی کہ وہ گائے کوا یک قومی جانور قرار دیں جسٹس مہیش چند شرما نے میڈیا کے روبرو اپنے فیصلے کی وضاحت کی اور کہا کہ وہ اپنے ضمیر کی آواز پر کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے گائے اور مور کا تقابل کرتے ہوئے ایسی ایسی باتیں کہی کہ سوشیل میڈیا پر خوب بحث چھڑ گئی ۔
خیر ہمارے آج کے کالم کا موضوع گائے ہے نا گاؤ کشی بلکہ ایک ایسے نکتہ کی طرف دانشوران ملت اور ہمدردان قوم کی توجہ مبذول کروانا ہے جس کو مسلمانوں نے بری طرح سے نظر انداز کردیا ہے ۔ جی ہاں اس ملک میں مسلمانوں کے ساتھ ناانصافی کی لمبی تار یخ تو ہم دہراتے رہتے ہیں۔ مگر اس بات کو فراموش کردیتے ہیں کہ عدالتیںکسی در و دیوار کا نام نہیں وہاں بھی جج کی شکل میں کوئی اور نہیں بلکہ ہندوستانی شہری ہی براجمان رہتے ہیں ۔ کیا ہم نے غور نہیں کیا اب ججس کس طرح کے فیصلے اور کس طرح کی آراء کا کھلے عام اظہار کر رہے ہیں؟ یہ بڑا ہی تشویشناک پہلو ہے ، اس طرح کے فیصلوں کو پڑھ کر اور سن کر کسی جج کو برا بھلا کہنا کوئی حل نہیں ہوسکتا ہے۔ ہاں ہم عدلیہ کو واقعی غیر جانبدار اور دستور ہند کا امین بنائے رکھنا چاہتے ہیں تو عدالتوں میں سبھی ہندوستانیوں کی متناسب نمائندگی کو بھی یقینی بنانا ہے اور مسلمانوں کے ذہین اور Talented Cream کو بھی اس سسٹم کا حصہ بنانے کی کوشش کرنا ہوگا ۔ جتنا اہم کام مسلمانوں میں سیول سرویسز کے متعلق شعور بیدار کرنے کا ہے ، اتنا ہی بلکہ میری دانست میں اس سے اہم کام مسلمانوں کو ہندوستانی عدالتی نظام کا حصہ بنانے کی کوشش کرناہے ۔ 2006 ء میں ایک رپورٹ پیش کرتے ہوئے جسٹس راجندر سچر نے کہا تھا ہندوستانی عدلیہ میں مسلمانوں کی نمائندگی بمشکل 5 فیصد ہی ہے ۔ مسلمانوں کا Indian Judicail System میں شامل ہونا کس قدر ضروری ہے ، اس کا صحیح اندازہ وہی لوگ لگا سکتے ہیں جو ملک کی موجودہ گرما گرم سیاسی صورتحال کو اچھی طرح سمجھ رہے ہیں۔ یہاں ایک مثال مناسب معلوم ہوتی ہے www.firstpost.com کی رپورٹ کے مطابق سپریم کورٹ کے ایک جج ہیں جسٹس اودے للت ، یہ وہی جج ہیں جنہوں نے ایک زمانے میں گجرات کے فرضی انکاؤنٹر معاملے کے ملزم امیت شاہ کی پیروی کی تھی ۔ اب یہی جسٹس اودے للت سپریم کورٹ کی اس پانچ رکنی بنچ کے بھی رکن ہیں جو طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر اہم قانونی سماعت کر رہی ہے ۔

مسلمان عدلیہ میں کتنے کم ہیں اس کی سنگینی کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ سال 2016 ء کے دوران ایک ایسا مرحلہ بھی آیا جب 11 برسوں میں پہلی مرتبہ سپریم کورٹ کی بنچ میں ایک بھی مسلمان جج نہیںتھا ۔ (بحوالہ انڈین اکسپریس 6 ستمبر 2016 ) تقریباً 6 ماہ بعد فروری 2017 ء میں کرنا ٹک کے جج عبدالنذیر کو سپریم کورٹ کی بنچ میں شامل کیا گیا۔ آزادی ہند کے بعد مسلمانوں کو درپیش سب سے بڑے قانونی چیالنج طلاق ثلاثہ کے دستوری جواز کے متعلق مئی 2017 ء میں سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے جب سماعت شروع کی تو مسلمانوں کی جانب سے پیروی کیلئے کپل سبل اور سلمان خورشید جیسے کانگریسی قائدین کو اتارا گیا۔

مسلمانوں کی سپریم کورٹ اور مختلف ریاستوں کے ہائی کورٹ میں کتنی تعداد ہے ، یہ معلوم کرنے کیلئے جب میں نے قانون حق معلومات RTI Act 2005 کے تحت مرکزی وزارت قانون کو درخواست دی تو میری درخواست کو یہ کہہ کر مسترد کردیا گیا کہ چونکہ ان عدالتوں میں مذہبی وابستگی کی بنیادوں پر تقررات نہیں ہوتے اس لئے وزارت اس طرح کی تفصیلات فراہم کرنے سے قاصر ہے ۔ مسلمان قانون کی تعلیم سے کس قدر بے رغبت ہیں، اس کا پتہ لگانے کیلئے شہر حیدرآباد میں قائم باوقار نلسار یونیورسٹی سے میں نے وہاں مسلم طلباء کی تعداد فراہم کرنے کے بارے میں پوچھا تو نلسار یونیورسٹی کے عہدیداروں نے جواب دیا کہ ہم طلباء کی مذہبی شناخت کے حوالے سے آپ کو معلومات نہیں فراہم کرسکتے ہیں۔
جامعہ عثمانیہ جی ہاں عثمانیہ یونیورسٹی کے لاء کالج میں تقریبا ً چار برس بعد ڈاکٹریٹ پروگرام Ph.D میں داخلے دیئے گئے تو ان میں صرف ایک ہی مسلم طالب علم تھا ۔ منسٹری آف لاء گورنمنٹ آف انڈیا نے RTI کے تحت پوچھی گئی میری ایک اور درخواست کے جواب میں یکم جنوری 2017 ء کو سپریم کورٹ اور مختلف ریاستوں کے ہائیکورٹس میں منظورہ اور مخلوعہ ججس کی جو تعداد بتلائی، وہ بھی ایک لمحہ فکریہ ہے ۔ تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ میں 31 ججس کی جائیدادیں منظورہ ہیں جس میں سے 07 مخلوعہ ہیں۔ آندھرا ۔ تلنگانہ ہائیکورٹ میں 61 ججس کی جائیدادیں ہیں جس میں سے 38 مخلوعہ ہیں۔ ملک بھر میں فی الحال 24 ہائیکورٹ کام کر رہے ہیں اور تقریباً ہر ہائیکورٹ کی صورتحال ایسی ہی ہے کہ وہاں تقریباً نصف ججس کی جائیدادیں مخلوعہ ہیں، بحیثیت مجموعی جملہ 1079 ججس کی جائیدادیں ہیں جس میں سے 430 مخلوعہ ہیں۔ آج یا کل حکومت ان خالی ججس کی جائیدادوں کو پر کرنے کے اقدامات کرے گی۔ کیا مسلمانوں کے پاس قانون میں اعلیٰ تعلیمی لیاقت اور قابلیت کے ساتھ نوجوان موجود ہیں جو ان مواقع سے استفادہ کرسکیں ،

اگر مسلمان اپنے آپ کو عدالتی نظام کا حصہ نہیں بنائیں گے تو ان کو حق نہیں ہے کہ وہ کسی جج کے فیصلہ پر تبصرہ کریں کہ یہ لوگ عقیدے کی بنیادوں پر کیسے فیصلے صادر کر رہے ہیں؟
گذشتہ برس الہ آباد ہائیکورٹ نے اپنے ایک فیصلہ میں طلاق کو غیر دستوری قرار دیتے ہوئے کہا تھا کہ طلاق ثلاثہ مسلم خواتین کے ساتھ حق تلفی ہے اور کوئی بھی پرسنل لا دستورہند سے بالاتر نہیں ہے ۔ صحیح مسلمان ہندوستانی عدلیہ میں ہونا کس قدر ضروری ہے ، اس کا اندازہ اخبار ٹائمز آف انڈیا کی اس سرخی سے لگایئے ۔ 19 مئی 2017 ء کو TOI نے سرخی لگائی
“Tripple Talaq Case: Muslim Judge on multifaith bence kept mum all through”
11 مئی 2017 ء سے طلاق ثلاثہ کے مسئلہ پر سپریم کورٹ کی پانچ رکنی بنچ نے مسلسل چھ دنوں تک سماعت کی۔ اس دوران دیگر ججس نے کچھ نہ کچھ سوالات کئے مگر جسٹس عبدالنذیر نے ایک لفظ بھی نہیں کہا۔ کورٹ کی پانچ رکنی بنچ میں ایک مسلمان جسٹس نذیر ، ایک سکھ ، ایک عیسائی ، ایک پارسی اور ایک ہندو شامل ہیں۔

مسلمانوں کے باصلاحیت اور ہنرمند نوجوان شعبہ وکالت اور عدلیہ میں آنا بیحد ضروری ہے ۔ صرف وکالت کی سند نہیں بلکہ ایسے ذہین مسلمان چاہئے جو اسلام کی بھی صحیح معلومات رکھتے ہوں اور قانون کی بھی بہترین تعلیم حاصل کئے ہوں۔ مگر کوئی کیوں اس جانب توجہ دے گا ؟ فی الحال مسلمانوں کے دانشوروں پر ایک ہی بھوت سوار ہے کہ مسلمانوں کے ذ ہین بچوں کو سیول سرویسز کیلئے تیار کروایا جائے اور معلوم نہیں کب ان لوگوں کو شعور آئے گا ۔ ہم اس بات کو کیوں بھول گئے ہیں کہ ہمیں بابری مسجد کا مقدمہ عدالت میں لڑنا ہے ۔ ممبئی فسادات کا مقدمہ عدالت میں لڑنا ہے ۔ ہاشم پورہ ملیانہ کے قتل عام کا مقدمہ عدالت میں لڑنا ہے ۔ گجرات فسادات کا مقدمہ عدالت میں لڑنا ہے ۔ فرضی گرفتاریوں کے مقدمات عدالت میں لڑنا ہے۔ فرضی انکاؤنٹر کے مقدمات عدالت میں لڑنا ہے۔ طلاق ثلاثہ کا مسئلہ عدالت میں ہی لڑنا ہے ۔
اب اور کتنی فہرست گنواؤں ؟ کاش کے ہم ایک دوسرے کو نیچا دکھانے کی لڑائی ترک کر کے ملت و قوم کے حقیقی مسائل موضوعات اور وسائل اکھٹا کرنے کے متعلق کام کریں۔ مولوی صاحب کی دعا کہ اے اللہ تو بے قصور مسلمان قیدیوں کی رہائی کا انتظام فرما پر آسمان سے وکیل فرشتوں کی کوئی جماعت اترنے والی نہیں ، ہمیں اپنے اور قوم کے دفاع کیلئے اچھا وکیل خود ہی تیار کرنا ہوگا ۔ اے کاش کہ کوئی بتلایئے کہ تحفظات کی لڑائی بھی قانونی ماہرین کو ہی لڑنا ہے۔
[email protected]

TOPPOPULARRECENT