Monday , June 26 2017
Home / مضامین / یہ علم، یہ حکمت، یہ سیاست، یہ تجارت…

یہ علم، یہ حکمت، یہ سیاست، یہ تجارت…

محمد مبشر الدین خرم
ملک کے جمہوری نظام حکمرانی میں تجارتی گھرانوں کی مداخلت کوئی نئی بات نہیں ہے لیکن اس نظام حکمرانی کی حکمت عملی کے سبب تجارتی گھرانوں پر اہل سیاست کا تسلط برقرار تھا لیکن بتدریج اہل سیاست و اہل تجارت کے درمیان تعلقات کے استحکام نے ملک کے جمہوری نظام حکمرانی کو سیاسی حکمت عملی سے پاک بناتے ہوئے تجارتی چالبازیوں کی نذر کردیا جس کی کئی ایک مثالیں موجود ہیں اور تجارتی سازشوں کے درمیان نظام حکمرانی نہ صرف غریب پروری سے غریب دشمنی کی سمت چلا گیا بلکہ اس نظام حکمرانی کو تجارتی گھرانوں اپنے تجارتی گنبدوں کے کا کبوتر بنا دیا ۔ آزاد ہندستان کی تاریخ میں ملک کی سیاست میں تجارتی گھرانوں کی دخل اندازی اور سرکردہ گھرانوں کے قائدین سے تعلقات رہے ہیں لیکن حالیہ عرصہ میں جو حالات پیدا ہو رہے ہیں انہیں دیکھتے ہوئے یہ کہا جا سکتا ہے کہ سیاستدانوں کی تجارتی گھرانوں سے قربت نے ملک کی سیاست کو مکمل تجارت بنا دیا ہے اور اس نظام جمہوری حکمرانی کو تبدیل کرتے ہوئے نظام تجارتی حکمرانی میں تبدیل کردیاگیا ہے اور اہل سیاست اہل تجارت کی چالبازیاں اختیار کرتے ہوئے حکمرانی کی کوشش کرنے لگے ہیں۔ہندستان کی سرزمین پر کئی ایسے سیاسی قائدین گذرے ہیں جنہوں نے ایسے نقوش چھوڑے ہیں کہ ان کی دیانتداری اور فرض شناسی پر کوئی انگشت نمائی نہیں کرسکتا لیکن موجودہ دور میں ایسے سیاسی قائدین نہیں رہے بلکہ وہ خود کو بچانے کیلئے اہل غرض تاجرین سے زیادہ حدوں کو پامال کرنے لگے ہیں۔
اتر پردیش ملک کی سب سے بڑی ریاست ہے جہاں کی آبادی اور رائے دہندوں نے اب تک کئی مرتبہ سیاسی با شعوری کا مظاہرہ کیا لیکن اس مرتبہ اتر پردیش انتخابات کے متعلق تجسس پیدا ہونے کے کئی وجوہات ہیں جن میں ایک اہم وجہ مرکز میں برسر اقتدار بھارتیہ جنتا پارٹی کو اترپردیش کیا دے گا؟ اترپردیش اسمبلی انتخابات میں سماج وادی پارٹی کے موقف اور ملائم سنگھ خاندان میں بغاوت کس حد تک حقیقی ہے یہ کہا نہیں جا سکتا کیونکہ سیاست میں باپ بیٹے کا نہیں ہوتا یہ کہا جاتا ہے لیکن اس کا عملی مظاہرہ ایسا ہونا ممکن نہیں ہے کیونکہ لاشعور رائے دہندوں کے درمیان بھائی کے خلاف بھائی کوانتخابی میدان میں اتارا جانا ممکن ہے لیکن باشعور رائے دہندوں کے درمیان باپ کے تائیدی اور بیٹے کے معلنہ امیدواروں کے درمیان انتخابی مقابلہ حالات کو غیر یقینی بنا سکتا ہے۔ اتر پردیش انتخابات کو بھارتیہ جنتا پارٹی کسی بھی حالات میں اپنے حق میں لانے کیلئے کوشاں ہے اور اس کیلئے ممکن ہے کہ بی جے پی ان انتخابات میں مذہبی منافرت پھیلانے کی کوشش بھی کرے کیونکہ سی بی آئی ‘ چچا۔ بھتیجا اور جھوٹا وکاس کا نعرہ کامیاب نہ ہونے کی صورت میں منافرت کی سیاست کا بیج بو دیا گیا ہے اور انتخابی شیڈول کی اجرائی کے بعد اسے کھاد دینے کی کوشش کی جا ئے گی تاکہ سیکولر ووٹ کی تقسیم کو ممکن بنایا جا سکے۔
2002میں ہندستان کے معروف صنعتکار آنجہانی دھیرو بھائی امبانی کی موت کے بعد ریلائنس کمپنی کی دو سرکردہ شخصیات یعنی انیل امبانی اور مکیش امبانی کے درمیان ہونے والے تنازعہ نے ریلائنس کمپنی کے حالات میں عدم استحکام کی کیفیت پیدا کردی تھی اور ان حالات میں دونوں بھائیوں نے اپنے کمپنی کے اثاثہ جات کو تقسیم کرنے کا اعلان کردیا تو یہ سمجھا گیا کہ ریلائنس کا زوال شروع ہو جائے گا لیکن جب کمپنیوں و اداروں کی تقسیم کا عمل مکمل ہوا تو دونوں بھائیوں نے جو اثاثہ جات کا اعلان کیا تھا اس کیکچھ عرصہ بعد کئے گئے اثاثوں و منافع کے اعلانات نے معاشی امور کے ماہرین کوچونکا دیا تھا اور اس اعلان کے کچھ وقفہ کے بعد ہی دونوں بھائی جو حریف بن چکے تھے نے ایک اور دھماکہ کیا اور حلیف ہو گئے۔ انیل امبانی کچھ وقت کیلئے سماج وادی پارٹی کے رکن راجیہ سبھا بھی رہے اور سماج وادی پارٹی عام طور پر ملک کی معروف شخصیتوں کے علاوہ سرکردہ تاجرین کی سیاسی پناہ گاہ رہی ہے۔ ایسا نہیں ہے کہ صرف سماج وادی پارٹی میں ہی صنعتکار اور تاجر رہے ہیں بلکہ ملک کی بیشتر سیاسی جماعتوں میں ان تاجرین نے اپنے اثر چھوڑ رکھے ہیں اور اپنے نظریات کا ان پر غلبہ ڈال دیا ہے۔

جب کبھی تجارتی ذہن رکھنے والا طبقہ اقتدار کی گلیاریوں پر اثرانداز ہونے لگتا ہے تو ایسی صورت میں غریب او ر مزدور طبقات کی سنوائی باقی نہیں رہتی بلکہ عام انسان جو ملازمت ‘ مزدوری اور روزمرہ کی کمائی پر انحصار کرنے والا ہوتا ہے وہ نا دانستہ طور پر اس تجارتی برادری جسے ’کارپوریٹ لابی‘کہا جاتا ہے اس کا غلام بننے لگتا ہے ۔زمانہ ٔ قدیم میں کسی کو غلام بنانے کیلئے اسے بندھوا مزدور بنانا پڑتا تھا لیکن سوشل میڈیا کے اس اظہار خیال کی آزادی کے اس دور میں جہاں سوشل میڈیا کے کئی پلیٹ فارم موجود ہیں ایسے میں انسان کو بندھوا مزدور بنانا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہوتا جا رہا ہے تو اس لابی کی جانب سے ایسے منصوبے تیار کئے جارہے ہیں کہ ایک عام آدمی کو اس لابی کو فائدہ پہنچائے بغیر کوئی چارہ نہ رہ جائے بلکہ عام آدمی ان کے تجارتی مفادات کے تحفظ کیلئے مجبور ہونے لگ جائے۔ دنیا میں فاشسٹ اور سرمایہ دارانہ نظام کے خلاف غریبوں اور مزدوروں کی تحریک کے نام پر سوشلسٹ اور کمیونسٹ تحریکوں نے جنم لیا لیکن ان تحریکوں کی عمر بتدریج گھٹتی رہی اور سرمایہ دارانہ نظام نے اپنے وجود کی برقراری کیلئے ہر وہ حربہ اختیار کیا جس کے ذریعہ انسانوں کے حقوق کو کچلنے کیلئے انہیں آزادی کے نام پر ذہنی غلامی کا شکار بنایا جاتا رہا اور ترقی پسندی کے نام پر ہر کس و ناکس اس کا غلام بنتا چلا گیا۔
8نومبر 2016ملک کی تاریخ کا ایسا دن ہے جسے کوئی فراموش نہیں کرسکتا کیونکہ اس دن وزیر اعظم کے اعلان نے ملک میں بھکاری سے متمول ترین شخص تک کو حیرانی میں ڈال دیا تھا لیکن اس کے بعد جو حالات پیدا ہوئے اس کا راست فائدہ چنندہ کارپوریٹ اداروں کو ہونے لگا ہے اور یہ کہا جا رہا ہے کہ ان کمپنیوں کو ہونے والا فائدہ بالواسطہ طور پر عوام کا ہی فائدہ ہے اس بات میں کس حد تک صداقت ہے یہ کہا نہیں جا سکتا لیکن یہ بات ضرور کہی جا سکتی ہے کہ ملک کے جمہوری طرز حکمرانی پر بالواسطہ ہی سہی سرمایہ دارانہ نظام کا قبضہ ہو چکا ہے اور اس مرتبہ برطانوی سامراج نہیں بلکہ گجراتی سامراج نے ملک کو اپنے کنٹرول میں لے رکھا ہے۔ہندستان میں ایسٹ انڈیا کمپنی نے 1757میں اپنی اجارہ داری و حکمرانی کے قیام کا اعلان کرتے ہوئے نواب آف بنگال سراج الدولہ سے تمام اختیارات حاصل کرلئے تھے اور سرمایہ دارانہ نظام کی حکمرانی کا سورج ہندستان میں مشرق سے طلوع ہوا تھا اور اب 2016میں سرمایہ دار طبقہ کی حکمرانی کا سورج مغرب سے طلوع ہورہا ہے۔1757کے کمپنی راج کا خاتمہ 1857میں ہوا اور اس کے ساتھ ساتھ مراٹھا اور مغل ادوار حکومت بھی ختم ہوگئے اور برطانوی سامراج نے ہندستان پر مکمل کنٹرول حاصل کرلیا۔1947تک اس جدوجہد آزادی کے دوران لاکھوں شہید‘ ہزاروں بیوہ ‘ لاکھوں یتیم ہوئے لیکن مقصد کا حصول ملک کے مغربی حصہ گجرات کے علاقہ پوربندر میں پیدا ہونے والے رہنماء موہن داس کرمچند گاندھی کی قیادت میں ممکن ہوا۔
کمپنی راج کے خاتمہ کیلئے نہیں بلکہ اپنے اقتدار کو بچانے کیلئے اس وقت کے شاہوں نے برطانوی سامراج کی غلامی کو قبول کیا اور لاکھوں کی قربانی کے بعد آزادی حاصل ہوئی اور اب کمپنی راج گجرات سے شروع ہوا ہے جسے کارپوریٹ کا نام حاصل ہے اور اس کارپوریٹ سے ہندستان کا ہر بااثر طبقہ واقف ہے جو اپنے اقتدار کے تحفظ کیلئے اس کارپوریٹ کے مفادات کا تحفظ کررہا ہے۔ سودیشی اور ودیشی کے نام پر سودیشی کو اقتدار حاصل ہونے کے بعد کارپوریٹ کو اور بڑی کامیابی ملنے لگی ہے اور سودیشی ودیشی سرمایہ حاصل کرنے میں تیزی سے کامیاب ہورہا ہے ۔ ان حالات میں اترپردیش انتخابات کے دوران اگر سودیشی کا جاپ جپنے والی فرقہ پرست قوتیں کامیابی حاصل کرتی ہیں تو ایسی صورت میں ہندستان کی دیگر ریاستیں بھی تیزی سے ان سازشیوں کے جال میں پھنستی چلی جائیں گی جس کے سنگین نتائج برآمد ہوسکتے ہیں بلکہ 2014کے بعد ملک کے شمالی حصہ بلکہ یوں کہئے کہ پائے تخت دہلی کی جامعہ جواہر لعل یونیورسٹی سے اٹھی آواز’ہم کیا چاہتے ؟ آزادی‘ ہی کہیں اس غلامانہ دور کے آغاز کی پہلی تحریک نہ بن جائے۔اتر پردیش انتخابات 2012میں ووٹوں کی تقسیم کا جائزہ لیا جائے تو یہ بات سامنے آئے گی کہ 29.29فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی نے سب سے بڑی طاقت بن کر ابھری تھی اور 25.95 فیصد ووٹ حاصل کرتے ہوئے بہوجن سماج پارٹی دوسرا مقام حاصل کیا تھا۔ راشٹرا لوک دل نے ان انتخابات میں 20.05ووٹ حاصل کرتے ہوئے تیسرا مقام حاصل کیا تھا جبکہ ملک میں اقتدار نہ ہونے کے باوجود بھارتیہ جنتا پارٹی کو 15.21فیصد ووٹ حاصل ہوئے تھے اورپانچویں مقام پر کانگریس نے 13.26فیصد ووٹ حاصل کئے تھے۔
ملائم اور اکھلیش کے درمیان اگر واقعی اختلاف ہے تو مخالف ملائم رائے دہندے جو اب تک بی ایس پی کے حق میں ووٹ کا استعمال کیا کرتے تھے وہ اکھلیش کے حق میں جا سکتے ہیں لیکن وزیر اعظم نے تالکٹورہ اسٹیڈیم میں ’بھیم ایپلیکیشن‘ کی شروعات کے ذریعہ بہوجن سماج کو قریب کرنے کی کوشش کی ہے اور اترپردیش میں مجلس کے کردار کو بھی مسترد نہیں کیا جا رہا ہے کیونکہ مجلس بھی ’جئے بھیم اور جئے میم‘ کے نعرہ کے ساتھ اترپردیش کے انتخابی میدان میں قدم رکھنے کی منصوبہ بندی کررہی ہے ۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کااصل نشانہ دلت اور مسلم ووٹ کی تقسیم ہے اور مسلم ووٹ کو منقسم کرنے کی حکمت عملی کے بعد اب بھیم راؤ امبیڈکر کے چاہنے والے دلتوں کو نشانہ بنانے کی کوشش کا آغاز کیا جا چکا ہے۔سماج وادی پارٹی ‘ کانگریس کے علاوہ راشٹرا لوک دل کے درمیان اتحاد ہوتا ہے تو ایسی صورت میں بی جے پی کو خفت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے لیکن شائد سماج وادی پارٹی اور نیتا جی بھی تقسیم کے ذریعہ منافع حاصل کرنے کی تجارتی پالیسی اختیار کئے ہوئے ہیںلیکن اگر اس کے منفی اثرات برآمد ہوئے تو ملک کا شیرازہ بکھر جائے گا اور غریب کو جدوجہد شروع کرنی پڑے گی۔ بازار سیاست میں جاری اس تجارت میں اخراج اور واپسی کی پالیسیاں اہل علم و حکمت کی نظر میں کسی چالبازی سے کم نہیں جو اپنے حریف کو مخمصہ میں مبتلا رکھنے کیلئے چلی جارہی ہے۔یہ چالبازیاں نہ صرف اترپردیش کیلئے بلکہ ملک کیلئے بھی خطرناک رجحان کی حامل ثابت ہوسکتی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT