Friday , August 18 2017
Home / Top Stories / یہ ملک صرف ہندوؤں کا نہیں تمام ہندوستانیوں کا ہے : سہگل/ دیشپانڈے

یہ ملک صرف ہندوؤں کا نہیں تمام ہندوستانیوں کا ہے : سہگل/ دیشپانڈے

دادری پر مودی کا بیان مطلب کی بھول ، شیوسینا اور اپوزیشن کی وزیراعظم پر سخت تنقید

نئی دہلی ۔ 14 اکٹوبر (سیاست ڈاٹ کام) سرکردہ مصنفین نین تارا سہگل اور ششی دیشپانڈے نے دادری قتل واقعہ اور غلام علی کے غزل پروگرام کی مخالفت کرنے کی وزیراعظم نریندر مودی کی جانب سے پرزور مذمت کئے جانے کے بعد کہا کہ یہ ملک صرف ہندوؤںکا نہیں بلکہ تمام ہندوستانیوں کا ہے۔ ہمیں بڑھتے ہوئے تشدد کے پیش نظر ہندوستانیوں کا تحفظ کرنا چاہئے۔ ایک بیان میں نین تارا سہگل نے کہا کہ یہ ملک تمام ہندوستانیوں کا ہے اور ہمیں تمام ہندوستانیوں کی حفاظت کرنے کی ضرورت ہے۔ حکومت اپنی ذمہ داریوں پر غور کرے اور ہر مذہب کا احترام کرے۔ ہمارے کثیرالوجود سماج نے ہی ہمیں وقار بخشا ہے۔ ایسے واقعات ہرگز نہیں ہونے چاہئے۔ نین تارا سہگل نے ملک میں بڑھتی ہوئی عدم رواداری کے خلاف احتجاج کرتے ہوئے ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈ واپس کیا تھا۔ 88 سالہ ادیبہ نے کہا کہ تشدد میں اضافہ ہورہا ہے اور کئی عوام اپنے مستقبل کے تعلق سے فکرمند ہیں۔ انہوں نے مہاتما گاندھی کے پسندیدہ قول کا حوالہ دیا اور کہا کہ رواداری کے جذبہ پر عمل کرنا چاہئے۔ وزیراعظم کو بھی اس کی پابندی کرنی ہوگی۔ بنگلور کے مصنف ششی دیشپانڈے نے جو ساہتیہ اکیڈیمی کی جنرل کونسل سے مستعفی ہوئے ہیں، کہاکہ مودی نے دادری قتل واقعہ کو بدبختانہ قرار دیتے ہوئے بہت ہی کمزور لفظ کا استعمال کیا ہے۔ بدبختانہ لفظ نہایت ہی کمزور ہے اور ملک کے لیڈر کو ملک کے اندر ہونے والے واقعات کی اخلاقی ذمہ داری قبول کرنی ہوگی۔ ساہتیہ اکیڈیمی ایوارڈس واپس کرنے والے مصنفین کی صف میں شامل ہوتے ہوئے شاعر کے کے دارو والا نے کہا کہ وہ بھی اپنا ایوارڈ واپس کررہے ہیں۔ انہوں نے ساہتیہ اکیڈیمی پر تنقید کی کہ وہ اپنے ادیبوں کے ساتھ نہیں ہیں بلکہ سیاسی دباؤ میں آرہا ہے۔ نین تارا سہگل اور اشوک واجپائی کے بشمول اب تک 28 مصنفین نے اپنے اکیڈیمی ایوارڈس کو واپس کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اس ادبی ادارہ سے پانچ مصنفین نے استعفیٰ دے دیا ہے۔

ساہتیہ اکیڈیمی نے 23 اکٹوبر کو ایک ہنگامی اجلاس طلب کیا ہے جس میں مصنفین میں بڑھتی ناراضگی پر غور کیا جائے گا۔ پاناجی میں گوا کے 14 ساہتیہ اکیڈیمی مصنفین نے مشترکہ طور پر اپنے ایوارڈ واپس کردیئے، کونکنی مصنف این شیوداس نے کہا کہ ہم نے متفقہ طور پر احتجاج کا فیصلہ کیا ہے اور اس کو بین الاقوامی فلم فیسٹول تک جاری رکھیں گے۔دریں اثناء دادری قتل پر وزیراعظم کے بیان کو مسترد کرتے ہوئے بی جے پی حلیف پارٹی شیوسینا نے کہا کہ نریندر مودی جب 2002ء میں گجرات کے چیف منسٹر تھے تو فسادات نہیں ہوئے تھے۔ کانگریس نے الزام عائد کیا کہ نریندر مودی ’’مطلب کی بھول‘‘ کا شکار ہیں۔ مہاراشٹرا حکمراں اتحادی پارٹیوں بی جے پی اور شیوسینا میں اختلافات بڑھنے کے دوران شیوسینا ایم پی سنجے راوت نے مابعد گودھرا فسادات کا متنازعہ حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مودی یہ بہتر جانتے ہیں کہ گودھرا اور احمدآباد میں کیا ہوا تھا۔ اگر وزیراعظم ایسا بیان دیتے ہیں تو یہ بڑی بدبختی کی بات ہے۔ ساری دنیا جانتی ہیکہ نریندر مودی کے باعث ہی گودھرا سے احمدآباد تک فساد برپا ہوا تھا اور ہم ان کی اسی وجہ سے عزت کرتے ہیں۔ اب یہی نریندر مودی غلام علی اور (سابق وزیرخارجہ پاکستان) خورشید محمود قصوری کا حوالہ دیتے ہیں تو یہ بدبختانہ ہے۔ راوت نے تاہم دادری قتل واقعہ پر نریندر مودی کے نظریات کی حمایت کی اور کہا کہ یہ واقعہ شدید بدبختانہ ہے۔ ایسا نہیں ہونا چاہئے تھا۔ نریندر مودی پر مطلب کی بھول میں ملوث ہونے کا الزام عائد کرتے ہوئے کانگریس نے کہا کہ اس طرح کے بیان کی ضرورت نہیں ہے بلکہ انہیں خاطیوں کے خلاف کارروائی کرنی چاہئے۔ کانگریس کے چیف ترجمان رندیپ سورج والا نے دہلی میں کہا کہ نریندر مودی یہ بھول گئے کہ وہ سارے ملک کے وزیراعظم ہیں اور انہیں ملک کے 125 کروڑ شہریوں کی زندگی کا تحفظ ان کی ذمہ داری ہے۔ سی پی آئی ایم کے ڈی راجہ نے بھی مودی کے ریمارکس پر تنقید کی اور کہا کہ انہوں نے دیر سے زبان کھولی ہے۔

TOPPOPULARRECENT