Saturday , August 19 2017
Home / سیاسیات / یہ پبلک ہے جو سب جانتی ہے

یہ پبلک ہے جو سب جانتی ہے

پانچ ریاستوں کی 824 اسمبلی نشستوں میں سے بی جے پی کی صرف 65 پر کامیابی

٭ آسام میں زعفرانی پارٹی کی فتح بدر الدین اجمل کی بے وقوفی کا نتیجہ
٭ مسلم ووٹوں کی تقسیم کے لئے بڑی سازش پر عمل آوری
حیدرآباد۔ 20مئی، ( سیاست ڈاٹ کام ) ملک کی پانچ ریاستوں کے اسمبلی انتخابات کے نتائج کا اعلان کردیا گیا  جس کے ساتھ ہی کامیابی حاصل کرنے والی جماعتوں میں خوشی اور اقتدار سے محروم جماعتوں میں مایوسی کی لہر دوڑ گئی ہے۔ مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی کے حلقوں میں کانگریس کو آسام میں اقتدار سے بیدخل کرنے کا جشن منایا جارہا ہے۔ حالانکہ بی جے پی کو جشن کی بجائے غم منانا چاہیئے اس لئے کہ بی جے پی قائدین اس زعم میں مبتلا ء ہے کہ ان کی پارٹی مرکز میں برسر اقتدار ہے اور ملک کی کم از کم 9 ریاستوں میں اس کی حکومتیں ہیں۔ آسام میں آسام گنا پریشد اور بوڈو پیپلز فرنٹ کے ساتھ اتحاد کے ذریعہ بی جے پی صرف 61نشستیں حاصل کرسکی جبکہ ماضی میں 126 رکنی آسام اسمبلی میں اس کے صرف5ارکان تھے۔ مغربی بنگال کی 294 رکنی اسمبلی کے انتخابات میں بی جے پی نے بڑے زور و شور کے ساتھ حصہ لیا ۔ وزیر اعظم نریندر مودی اور صدر بی جے پی امیت شاہ نے بار بار دورے کئے لیکن مغربی بنگال میں عوام نے انتہائی دانشمندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے پھر ایک بار ممتا بنرجی کی ترنمول کانگریس کو اقتدار سونپا ہے۔ بی جے پی کو اس ریاست میں شرمناک شکست کا سامنا کرنا پڑا اس کے صرف تین امیدوار کامیاب ہوسکے۔ کیرالا میں تو اس قومی جماعت کا اس قدر برا حال ہوا کہ 140 رکنی اسمبلی میں اس کا صرف ایک امیدوار کامیاب رہا۔ داغدار کرکٹ سری سانت کو امیت شاہ نے بطور حامی اپنا پارٹی امیدوار نامزد کیا تھا لیکن وہ بھی کیرالہ کے تعلیم یافتہ اور باشعوررائے دہندوں کی زد میں آگیا۔ پڈوچیری میں جہاں کانگریس کو اقتدار حاصل ہوا 30رکنی ریاستی اسمبلی کیلئے بی جے پی کا ایک بھی امیدوار منتخب نہ ہوسکا۔جہاں تک آسام میں کانگریس کی شکست اور بی جے پی کا سوال ہے اس میں جہاں کانگریس کو چیف منسٹر نہ صرف گوگوئی کی نااہلی ذمہ دار ہے وہیں بی جے پی کی کامیابی میں اے آئی یو ڈی ایف کے بدر الدین اجمل کی بیوقوفی یا اقتدار پر فائز ہونے کی خواہش کا بڑا دخل ہے۔

پچھلے انتخابات میں کانگریس کے ساتھ اتحاد کے ذریعہ  18 نشستیں حاصل کرنے والی AIUDF کو اس مرتبہ صرف 13 نشستوں پر کامیابی حاصل ہوئی لیکن اس نے بی جے پی کو کامیابی دلانے میں اہم رول ادا کیا۔ آسام کے سیاسی اور ملی حلقوں میں یہی کہا جارہا ہے کہ بدر الدین اجمل نے درپردہ بی جے پی کی کامیابی کی راہ ہموار کی لیکن ان کا حال اب ’’ گھر کا نہ گھاٹ ‘‘ والا ہوکر رہ گیا ہے سیاسی سمجھ بوجھ سے عاری بدر الدین اجمل کو بھی ان اسمبلی انتخابات میں شرمناک شکست سے دوچار ہونا پڑا۔ بدر الدین اجمل پر سیکولر حلقوں میں کافی ناراضگی پائی جاتی ہے۔ سیاسی پنڈتوں کے خیال میں کانگریس آسام اسمبلی انتخابات میں 33.3 فیصد ووٹ حاصل کرنے کے باوجود بھی اقتدار سے محروم ہوگئی اور زائد از 30فیصد ووٹ حاصل کرنے والی بی جے پی 61 نشستیں حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔2011 کے انتخابات میں اسے صرف 5نشستیں حاصل ہوئیں۔ مغربی بنگال میں دیدی، مودی امیت شاہ بلکہ ساری بی جے پی اور آر ایس ایس کیلئے ’’ دادا ‘‘ ثابت ہوئیں۔ کیرالا میں بی جے پی کو ایک نشست مل سکی۔ ان تمام اعداد و شمار سے ظاہر ہوتا ہے کہ پانچ ریاستوں کی جملہ 824 اسمبلی حلقوں میں سے بی جے پی کو صرف 65 حلقوں میں کامیابی حاصل ہوئی جو ایک قومی پارٹی کیلئے شرمناک بات ہے۔ اس کے لئے اسے بدر الدین اجمل اور مسلم ووٹ کاٹنے والے دوسرے مسلم سیاسی قائدین کا شکریہ ادا کرنا چاہیئے۔ ٹاملناڈو میں بتایا جاتا ہے کہ مسلم لیگ کو ایم آئی ایم کے میدان میں اُترنے کے باعث شکست کا سامنا کرنا پڑا ایک حلقہ میں ایم آئی ایم امیدوار نے10117 ووٹ حاصل کئے۔ اس حلقہ سے AIDMK امیدوار کے مقابلہ مسلم لیگ امیدوار کو 4500 ووٹوں کی اکثریت سے شکست ہوئی۔ تجزیہ نگاروں کے خیال میں ان تمام حقائق سے ظاہر ہوتا ہے کہ مسلم قائدین مسلمانوں اور دلتوں کے اتحاد کے نام پر کس کے اشارے پر ناچ رہے ہیں اور کوئی بڑا کھیل کھیل رہے ہیں میڈیا کے بعض گوشوں میں اے آئی یو ڈی ایف اور ایم آئی ایم کے رول پر شبہات ظاہر کئے جارہے ہیں۔ بہرحال جو کچھ بھی عوام اچھی طرح جان چکی ہے کہ کون کس کے اشارہ پر کام کررہا ہے، اس کی صورتحال کو فلم ’’ روٹی ‘‘ کے مقبول عام نغمہ ’’ یہ پبلک ہے جو سب جانتی ہے ‘‘ کا مکھڑا واضح کردیتا ہے۔

TOPPOPULARRECENT