Wednesday , August 23 2017
Home / مضامین / یہ کون لوگ ہیں موجود تیری محفل میں

یہ کون لوگ ہیں موجود تیری محفل میں

مودی قیادت پر سوال…ارون جیٹلی نشانہ پر
انتقامی کارروائیاں …پارلیمنٹ ہنگامہ کی نذر

رشیدالدین
عدم رواداری اور عدم برداشت کے ماحول سے ملک ابھی ابھر نہیں سکا کہ مرکز میں برسر اقتدار بی جے پی نے سیاسی انتقامی کارروائیوں کا آغاز کردیا ہے۔ بہار میں شرمناک شکست کے بعد نریندر مودی کی مقبولیت کا گراف تیزی سے گھٹنے لگا ہے۔ آئندہ دو برسوں میں بعض اہم ریاستوں کے مجوزہ انتخابات نے سنگھ پریوار اور بی جے پی قیادت کو اندیشوں میں مبتلا کردیا۔پارٹی اور پارٹی کے باہر عوام میں یہ بحث چھڑ گئی ہے کہ 18 ماہ کے اقتدار میں مودی کی شخصیت نے عوامی کشش اور مقبولیت کو ووٹ  میں تبدیل کرنے کی صلاحیت کس طرح کم ہوگئی۔ پارٹی میں یہ سوال تیزی سے گشت کر رہا ہے کہ آیا نریندر مودی آسام ، اترپردیش ، مغربی بنگال ، کیرالا اور ٹاملناڈو کے اسمبلی انتخابات میں پارٹی کو کامیابی سے ہمکنار کر پائیں گے؟ ان تمام ریاستوں میں برسر اقتدار جماعتوں کی گرفت مضبوط ہے۔ بعض گوشوں سے بی جے پی میں متبادل قیادت کی آواز اٹھ رہی ہے۔ ان حالات میں بی جے پی نے اپوزیشن کو مسائل میں الجھاکر رکھنے کیلئے اور عوام کی توجہ پارٹی کے اندرونی خلفشار سے موڑنے کیلئے سیاسی انتقامی کارروائیوں کا آغاز کردیا گیا ۔ بی جے پی میں موجود مخالف نریندر مودی لابی کو کمزور کرنے بعض تنازعات پیدا کئے گئے۔ مودی اور ان کے حامیوں کو اس بات کی کوئی پر واہ نہیں کہ تنازعات کے سبب پارٹی کو نقصان ہوسکتا ہے بلکہ ان کیلئے تو پانچ برسوں تک نریندر مودی قیادت کو کسی بھی امکانی چیلنج سے بچانا اہم مقصد ہے۔ پارلیمنٹ کے سرمائی سیشن کے دوران جس طرح تنازعات کو ہوا دی گئی ، اس سے صاف ظاہر ہے کہ ’’کہیں پہ نگاہیں کہیں پہ نشانہ‘‘ کا معاملہ ہے۔ پارلیمنٹ سیشن کے آغاز پر حکومت نے پرسکون کارروائی کو یقینی بنانے کیلئے کانگریس کو اعتماد میں لینے کی کوشش کی لیکن پھر اچانک یکے بعد دیگرے تنازعات کھڑے کردیئے گئے ہیں۔

اروناچل پردیش میں گورنر کے ذریعہ کانگریس حکومت کو  غیر مستحکم کرنے کی کوشش ، نیشنل ہیرالڈ مقدمہ میں سبرامنیم سوامی کا کانگریس قیادت کے خلاف استعمال اور دہلی کے چیف منسٹر اروند کجریوال کے دفتر پر سی بی آئی دھاوے اسی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔ ان مسائل کے سبب پارلیمنٹ کی کارروائی متاثر ہورہی ہے ۔ بظاہر یہ اقدامات اپوزیشن کو الجھاکر رکھنے کا حربہ دکھائی دے رہے ہیں لیکن درپردہ پارٹی میں ابھرنے والے اور مودی قیادت کو امکانی چیلنج بننے والے قائدین کو کمزور کرنے کی حکمت عملی ہے۔ دہلی کے چیف منسٹر کے دفتر پر سی بی آئی دھاوؤں کے بعد جس طرح دہلی کرکٹ اسوسی ایشن نے  دھاندلیوں کے الزامات ، وزیر فینانس ارون جیٹلی کا تعاقب کرنے لگے ۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ سوچی سمجھی حکمت عملی کا ایک حصہ ہے اور ایک طریقہ سے ارون جیٹلی کو متبادل قیادت کی دوڑ سے علحدہ کردیا گیا۔ اس حقیقت سے کوئی انکار نہیں کرسکتا کہ بہار کے نتائج کے بعد مودی کی کشش ماند پڑچکی ہے۔ سنگھ پریوار کو اس بات کی فکر ستا رہی ہے کہ مودی کمزور موقف کے ساتھ کس طرح ہندوتوا ایجنڈہ پر عمل کرپائیں گے ۔لہذا اس نے مودی کے متبادل کی تلاش شروع کردی ہے۔

ان حالات میں ارون جیٹلی ایک طاقتور متبادل کے طور پر ابھرے تھے ، وہ اپنی قابلیت اور صلاحیت کے ذریعہ ایک باوقار قیادت فراہم کرنے کے موقف میں ہیں لیکن کجریوال کے دفتر پر سی بی آئی دھاوے کی آڑ میں دانستہ طور پر جیٹلی کو ٹارگٹ کردیا گیا ۔مبصرین کا ماننا ہے کہ بی جے پی کی داخلی گروپ بندیوں اور رسہ کشی کے نتیجہ میں نریندر مودی اور ان کے حامیوں کی حکمت عملی کامیاب ہوگئی۔ اگرچہ اروند کجریوال اور ان کی ٹیم نے ارون جیٹلی پر دہلی کرکٹ اسوسی ایشن کی بے قاعدگیوں میں ملوث ہونے کا الزام عائد کیا ہے لیکن درپردہ اصل محرک تو نریندر مودی کی لابی ہے۔ نریندر مودی اور ان کے وزیر باتدبیر امیت شاہ کسی بھی حالت میں پارٹی اور حکومت پر اپنی گرفت برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔ انہیں ملک اور عوام کو درپیش مسائل سے زیادہ کرسی بچانے کی فکر ہے۔ جس طرح آج ارون جیٹلی کے موقف کو کمزور کیا گیا ، حال ہی میں للت مودی اسکام میں سشما سوراج کو پھانس کر قیادت کی دوڑ سے علحدہ کردیا گیا۔ عام طور پر کوئی بھی حکومت پارلیمنٹ سیشن کے دوران کوئی ا یسا قدم نہیں اٹھاتی جس سے اپوزیشن کو فائدہ ہو لیکن یہاں جان بوجھ کر تنازعات کو ہوا دی جارہی ہے۔ عام انتخابات سے قبل نریندر مودی کو جس انداز میں پراجکٹ کیا گیا، اس کی زد میں اڈوانی جیسے قائدین آگئے جو پارٹی کیلئے کبھی اثاثہ تھے لیکن آج بوجھ بن چکے ہیں ۔ بی جے پی نے مودی کی قیادت میں کم از کم دس برس تک اقتدار کا خواب دیکھا ہے لیکن 18 ماہ میں نریندر مودی عوام میں غیر مقبول ہوگئے۔ یہ بھی وجہ ہے کہ وہ زیادہ تر ملک کے باہر رہتے ہوئے اپنی انا کی تسکین کا سامان کررہے ہیں  اور غیر مقیم ہندوستانیوں کی واہ واہی لوٹ رہے ہیں۔ نریندر مودی بیرون ملک قیام کے اس قدر عادی ہوچکے ہیں کہ پارلیمنٹ میں جب وہ اپنی نشست پر پہنچے تو بتایا جاتا ہے کہ انہوں نے سیٹ بیلٹ تلاش کیا کیونکہ انہیں طیارہ میں سیٹ بیلٹ لگانے کی عادت سی ہوگئی ہے۔ کسی نے مودی کے دوروں پر طنز کرتے ہوئے کارٹون بنایا کہ یو پی اے دور میں منموہن سنگھ موبائیل فون کے سائیلنٹ موڈ کی طرح تھے لیکن نریندر مودی ہمیشہ فلائیٹ موڈ میں رہتے ہیں۔

جن ریاستوں میں آئندہ دو برسوں میں اسمبلی انتخابات ہوں گے ، وہاں کسی بھی ریاست میں بی جے پی برسر اقتدار نہیں ہے اور موجودہ حالات میں بی جے پی کسی بھی ریاست کا اقتدار چھیننے کے موقف میں نہیں، لہذا سنگھ پر یوار کو بی جے پی کیلئے کسی ایسی شخصیت کی تلاش ہے جو غیر بی جے پی ریاستوں میں ووٹ حاصل کرسکے۔ اروناچل پردیش میں گورنر کا استعمال کرتے ہوئے کانگریس حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کی گئی۔ گورنر نے دستور کی کھلی خلاف ورزی کرتے ہوئے کانگریس کے باغی ارکان اور بی جے پی ارکان کو ہوٹل میں اجلاس منعقد کرنے کی اجازت دی اور چیف منسٹر کے خلاف تحریک عدم اعتماد اسمبلی کے بجائے ہوٹل میں منظور کی گئی۔ ہائی کورٹ نے گورنر کے اس اقدام پر ناراضگی کا اظہار کرتے ہوئے اس ساری کارروائی پر حکم التواء جاری کردیا ہے ۔ اس طرح دستوری عہدہ پر فائز گورنر کے غیر دستوری اقدام پر عدالت کو مداخلت کرنی پڑی اور اس نے دستور کا تحفظ کیا ہے کیونکہ بی جے پی اپنی طاقت سے مزید کسی بھی ریاست میں اقتدار حاصل کرنے کے موقف میں نہیں ہے لہذا باغیوں کی مدد کرتے ہوئے عدم استحکام پیدا کرنے کی کوشش کی جارہی ہے ۔ بی جے پی کا یہ اقدام کانگریس کیلئے مزید فائدہ مند ہوگا اور بی جے پی کی ساکھ دیگر ریاستوں میں بھی متاثر ہوگی۔ دہلی میں عام آدمی حکومت کو کمزور کرنے کی کوشش جاری ہے۔ چیف منسٹر کے دفتر کے ایک عہدیدار کے خلاف شکایات کی آڑ میں اروند کجریوال کے دفتر پر سی بی آئی نے دھاوا کیا ۔ بظاہر یہ دعویٰ کسی عہدیدار کے خلاف تھا لیکن دہلی کرکٹ اسوسی ایشن میں دھاندلیوں سے متعلق فائلوں کی تلاش تھی۔ عام آدمی حکومت نے اس معاملہ کی جانچ کا اعلان کیا تھا ۔  اس اسکام میں ارون جیٹلی کے ملوث ہونے کا شبہ ہے۔ جب اس فائل کا خلاصہ ہوا تو ارون جیٹلی کے دفاع میں بی جے پی برائے نام انداز میں نظر آئی۔ یو پی اے دور حکومت معاملہ جس انداز میں دوبارہ اچھالا گیا ، وہ بی جے پی کی داخلی سیاست کا حصہ ہے۔ قیادت میں تبدیلی کی صورت میں ارون جیٹلی ، راجیہ سبھا میں قائد ایوان کی حیثیت سے اہم دعویدار کے طور پر ابھرسکتے ہیں۔ نیشنل ہیرالڈ معاملہ میں جس طرح گاندھی خاندان کو نشانہ بنانے کی کوشش کی گئی ، وہ واضح طور پر انتقامی کارروائی ہے۔ اس مقدمہ کیلئے سبرامنیم سوامی کا استعمال کیا گیا جو ملک میں عدم استحکام کی ایک علامت کے طور پر جانے جاتے ہیں ۔ جنتا پارٹی کے دور حکومت میں جب اندرا گاندھی کو گرفتار کیا گیا تھا، وہیں سے جنتا پارٹی حکومت کا زوال شروع ہوا۔ اور اندرا گاندھی دوبارہ برسر اقتدار آگئیں۔ ایسا محسوس ہوتا ہے کہ تاریخ اپنے آپ کو دہرا رہی ہے۔

عوامی نمائندوں کے مستقبل کے بارے میں فیصلہ عوام کرتے ہیں لیکن عدالتوں کے ذریعہ انتقامی کارروائی کرنا غیر جمہوری ہے۔ اس طرح کی کارروائی سے نہ صرف اپوزیشن کو فائدہ ہوگا بلکہ حکومت کی ساکھ متاثر ہوگی۔ کانگریس کو چاہئے کہ وہ عدالتی کارروائی سے سڑکوں پرنہیںبلکہ قانونی طریقہ سے نمٹنے کی کوشش کرے۔ عوام نے پانچ سال تک اپوزیشن میں رہنے کا فیصلہ دیا ہے لہذا عوامی فیصلہ کا احترام کیا جانا چاہئے ۔ بہار میں شکست کے بعد بی جے پی میں قوت برداشت کم ہوتی جارہی ہے اور مخالفین کو نت نئے انداز سے نشانہ بناتے ہوئے اپوزیشن کو کمزور کرنے کا منصوبہ ہے۔ کوئی بھی حکومت ان حربوں کو استعمال کرتے ہوئے مستحکم باقی نہیں رہ سکتی۔ وقتی طور پر کچھ فائدہ ضرور ہوگا لیکن انتخابات میں عوام اپنا فیصلہ سنائیں گے۔ جس طرح بہار میں مودی کی منفی مہم نے پارٹی کو نقصان پہنچایا ، اسی طرح سیاسی انتقامی کارروائیاں مختلف ریاستوں میں بی جے پی کیلئے مضرت رساں ثابت ہوسکتی ہیں۔ پارلیمنٹ کا سرمائی سیشن عوامی مسائل کے بجائے سیاسی مسائل پر ہنگامہ آرائی کی نذر ہوتا دکھائی دے رہا ہے ۔ اب جبکہ سیشن کے اختتام کو صرف ایک ہفتہ باقی رہ گیا ہے ، دونوں ایوانوں میں روزانہ کسی نہ کسی مسئلہ پر حکومت اور اپوزیشن میں محاذ آرائی کا ماحول ہے۔ اگر یہ سلسلہ جاری رہا تو سرمائی سیشن بھی ہنگاموں کی نذر ہوجائے گا۔ حکومت کی انتقامی کارروائیوں نے اپوزیشن جماعتوںکو متحد ہونے کا موقع فراہم کردیا ہے۔ مجوزہ اسمبلی انتخابات میں اترپردیش ، آسام اور مغربی بنگال میں مخالف بی جے پی طاقتیں متحدہ طور پر مقابلہ کرسکتی ہیں اور ان ریاستوں میں بی جے پی کا موقف پہلے ہی سے کمزور ہے۔ انتقامی کارروائیوں اور بی جے پی کی داخلی رسہ کشی پر احمد فراز کا یہ شعر صادق آتا ہے   ؎
یہ کون لوگ ہیں موجود تیری محفل میں
جو لالچوں سے تجھے، مجھ کو جل کے دیکھتے ہیں

TOPPOPULARRECENT