Tuesday , July 25 2017
Home / Top Stories / ۔ایچ ون بی ویزا کے بارے میں امریکی انتظامیہ کو اعلیٰ سطح پر واقفیت

۔ایچ ون بی ویزا کے بارے میں امریکی انتظامیہ کو اعلیٰ سطح پر واقفیت

ہندوستانی آئی ٹی کمپنیاں مسابقتی اور تعمیری رول ادا کررہی ہیں ۔ آئی ٹی کی دنیا ’’لو اور دو ‘‘ پالیسی پر قائم : روی شنکر پرساد

نئی دہلی ۔ 7 مارچ ۔ ( سیاست ڈاٹ کام ) حکومت ہند نے ایچ ون بی ویزا پروسیسنگ سے نمٹنے کیلئے حالیہ اقدامات کے سلسلے میں امریکی انتظامیہ کو انتہائی اعلیٰ سطح پر اپنی تشویش سے واقف کروایا ۔ وزیر قانون اور آئی ٹی روی شنکر پرساد نے آج یہ بات بتائی ۔ انھوں نے ایک کانفرنس کے موقع پر ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے امریکہ میں پیش آرہی تازہ تبدیلیوں کے بارے میں پوچھے جانے پر کہا کہ وہ سمجھتے ہیں کہ انتہائی سینئر سطح پر ہم نے اپنی تشویش سے حکومت امریکہ کو واقف کروادیا ہے ۔ وہ اس بارے میں مزید تفصیلات میں جانا نہیں چاہتے اور یہ ضرور کہیں گے کہ ہندوستانی آئی ٹی کمپنیاں وہاں امریکی کمپنیوں کیلئے قابل قدر خدمات انجام دے رہے ہیں ۔ امریکہ نے گزشتہ ہفتہ کہا تھا کہ وہ 3 اپریل سے H-1B ویزا کی پریمیم پروسیسنگ کو عارضی طورپر ملتوی کررہا ہے ۔ اس کے نتیجہ میں مختصر مدت کیلئے انتظار کی سہولت ختم ہوجائے گی اور امریکی فرمس میں انتہائی باصلاحیت غیرملکی افراد کو مدد ملے گی ۔ موجودہ نظام کے تحت ایسی کمپنیاں جو امکانی ملازمین کے لئے H-1B ویزا کی درخواست دیا کرتی ہیں وہ عاجلانہ خدمات کیلئے اضافی رقم ادا کرسکتی ہیں اور اسے پریمیم پروسیسنگ کہا جاتا ہے ۔ عارضی طورپر عائد کردہ یہ التواء تقریباً 6 ماہ جاری رہے گا ۔ امریکن سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سرویسیس نے یہ بات بتائی ۔

H-1B ویزا کا ہندوستانی آئی ٹی کمپنیوں کی جانب سے بہت زیادہ استفادہ کیا جاتا ہے ۔پریمیم پروسیسنگ کے نتیجہ میں اضافی 1225 ڈالر کی رقم ادا کرنی ہوگی اور اس کے نتیجہ میں امریکی سٹیزن شپ اینڈ امیگریشن سرویسیس کی جانب سے اندرون 15 یوم جواب یقینی طورپر دیا جائیگا ، بصورت دیگر اداکردہ فیس واپس کردی جائے گی ۔ عام طورپر H-1B ویزا درخواستوں کی پروسیسنگ کے لئے تین تا چھ ماہ کا وقت درکار ہوتا ہے ۔ روی شنکر پرساد نے کہاکہ ہندوستانی آئی ٹی کمپنیاں امریکہ میں خدمات انجام دے رہی تقریباً 500 کمپنیوں کا 75 فیصد ہے ۔ وہ غیرمعمولی خدمات انجام دیتے ہوئے زیادہ سے زیادہ مسابقتی ماحول فراہم کررہی ہیں اور قابل قدر خدمات بھی انجام دے رہی ہیں۔ وہ سمجھتے ہیں کہ گزشتہ پانچ سال کے دوران ان کمپنیوں نے تقریباً 20 بلین ڈالر ٹیکس کی شکل میں امریکہ کو ریونیو ادا کیا ۔ ان کمپنیوں نے چار لاکھ ملازمتیں فراہم کیں اور نہ صرف امریکہ بلکہ دنیا کے مختلف دیگر حصوں میں بھی روزگار کے مواقع فراہم کئے ۔ ہندوستانی آئی ٹی کمپنیاں اور آئی ٹی پروفیشنلس کی وجہ سے ہندوستان میں کئی امریکی کمپنیوں کو اپنی خدمات انجام دینے کا بھی موقع فراہم ہوا ۔ انھوں نے کہاکہ دنیا بھر میں انفارمیشن ٹکنالوجی تحریک لو اور دو پالیسی پر برقرار ہے ۔ آدھار ڈیٹا کے بیجا استعمال سے متعلق حالیہ اطلاعات کے بارے میں پوچھے جانے پر روی شنکر پرساد نے کہاکہ منفرد نوعیت کا یہ شناختی نمبر پوری طرح محفوظ ہے ۔ بعض عناصر منظم انداز میں اسے نقصان پہنچانے کی کوشش کررہے ہیں اور ان کے خلاف پولیس کارروائی کی جارہی ہے ۔ انھوں نے کہاکہ آدھار ڈیٹا کے بارے میں فکرمند ہونے کی ضرورت نہیں اور یہ بالکل محفوظ ہے ۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT