Tuesday , August 22 2017
Home / عرب دنیا / ۔10 ارب ڈالر کا بیرونی قرض لینے سعودی عرب کا فیصلہ

۔10 ارب ڈالر کا بیرونی قرض لینے سعودی عرب کا فیصلہ

تیل کی قیمتوں اور قومی آمدنی میں کمی،دولتمند مملکت میں مالیہ کی قلت کا شاخسانہ
ریاض ۔ 20 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سعودی عرب اپنے تیل سے ہونے والی آمدنی میں اچانک انحطاط کے پیش نظر مملکتی مالیہ میں پیدا شدہ ثقافت کو دور کرنے کے مقصد سے مختلف بیرونی بینکوں سے 10 ارب امریکی ڈالر کا قرض لے سکتا ہے۔ بلوم برگ نیوز نے سعودی عرب میں اس منصوبہ سے واقفیت رکھنے والے تین اہم شخصیات کے حوالے سے کہا کہ تیل برآمد کرنے والا دنیا کا سب سے بڑا ملک کم سے کم 15 سال کے دوران پہلی مرتبہ بیرونی قرض حاصل کررہا ہے۔ بلوم برگ کے ذرائع نے کہا کہ پانچ سال میں قابل واپسی اس قرض کے حصول سے متعلق دستاویزات پر رواں مہینہ کے اختتام تک دستخط کئے جائیں گے۔ تاہم ذرائع نے اپنی شناخت مخفی رکھنے کیلئے اصرار کرتے ہوئے کہا کہ یہ معلومات نجی نوعیت کے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی، یوروپی، جاپانی اور چین بینکس سعودی عرب کو لندن کے انٹر بینک کی طرف سے کی گئی پیشکش سے 120 بنیادی پوائنٹس سے زائد شرح پر یہ فنڈز فراہم کررہی ہیں۔ خام تیل کی قیمتوں میں گذشتہ دو سال کے دوران زبردست کمی ہوئی ہے۔ 2014ء میں فی بیرل تیل کی قیمت 100 امریکی ڈالر تھی جو مسلسل گھٹتی ہوئی فی الحال 40 ڈالر فی بیرل ہوچکی ہے جس کے نتیجہ میں سعودی عرب کو اپنے مصارف میں کمی کے علاوہ متبادل اقتصادی ذرائع تلاش کرنے کیلئے شدید دباؤ کا سامنا ہے۔

علامتی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں مسلسل انحطاط کے سبب 2015ء کے سعودی عرب میں 98 ارب امریکی ڈالر کا خسارہ دکھایا گیا اور رواں سال 87 ارب ڈالر کے خسارہ کا تخمینہ کیا گیا ہے۔ سعودی عرب نے آمدنی میں کمی کے مسائل سے نمٹنے کیلئے اپنے طاقتور و مستحکم مالی ذخائر سے استفادہ کیا جس کے نتیجہ میں اس کے مالیاتی ذخائر جو 2014ء میں 732 ارب امریکی ڈالر تھے، 2015ء کے دوران 611-19 ارب امریکی ڈالر تک گھٹ گئے۔ علاوہ ازیں سعودی عرب نے اس سخت قدم اٹھاتے ہوئے ڈسمبر کے دوران اندرون ملک ایندھن کی قیمتوں میں 80 فیصد اضافہ کیا۔ اس قسم کے سخت اقدام کی ماضی میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اس کے ساتھ برقی، آبرسانی و دیگر خدمات پر دی جانے والی سبسیڈی میں کٹوتی کی گئی۔ مالیہ کی قلت کی وجہ سے سعودی عرب میں چند بڑے پراجکٹوں کو ملتوی کردیا ہے ۔ علاوہ ازیں کئی صنعتوں کو خانگی شعبہ کے حوالہ کرنے کے علاوہ شہریوں اور بیرونی تارکین وطن پر مختلف ٹیکس عائد کرنے کے منصوبے بھی زیرغور ہیں۔

TOPPOPULARRECENT