Monday , July 24 2017
Home / Top Stories / ۔100 کروڑ روپئے مالیتی جائیداد کیلئے ذاکر نائک سے پوچھ تاچھ

۔100 کروڑ روپئے مالیتی جائیداد کیلئے ذاکر نائک سے پوچھ تاچھ

78 بینک کھاتوں اور جائیداد میں ذاکر نائک اور اُن کے ساتھیوں کی سرمایہ کاری کا ادعا
نئی دہلی 19 جنوری (سیاست ڈاٹ کام) متنازعہ مبلغ اسلام ذاکر نائک سے امکان ہے کہ قومی محکمہ تحقیقات (این آئی اے) پوچھ تاچھ کرے گا۔ اُن کے 78 بینک کھاتوں اور جائیداد کے کاروبار میں سرمایہ کاری کی نگرانی کی جارہی ہے جن کی مالیت کم از کم 100 کروڑ روپئے ہے۔ ممبئی اور اُس کے مضافات میں اُنھوں نے اور اُن کے قریبی بااعتماد ساتھیوں نے سرمایہ کاری کی ہے۔ محکمہ تحقیقات نے گزشتہ سال نومبر میں اُن کے اور اُن کے ساتھیوں کے خلاف انسداد دہشت گردی قانون کے تحت ایک مقدمہ درج کرتے ہوئے اُن پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ مختلف گروپس کو مذہب کی بنیاد پر فروغ دے رہے ہیں لیکن ماورائے عدالت خیرسگالی برقرار رکھتے ہوئے 23 اداروں کے سلسلے میں اُن کے کردار کا انکشاف ہوا۔ یہ ادارے انفرادی بھی تھے اور کارپوریٹ بھی جو مبلغ اسلام سے مربوط ہیں۔ این آئی اے کے ذرائع کے بموجب اُن کے 20 ساتھیوں سے بشمول اُن کی بہن مائلہ نوشاد نورانی سے سرمایہ کاری کے سلسلہ میں پوچھ تاچھ کی جاچکی ہے۔ این آئی اے کے ایک ذریعہ نے کہاکہ ہم نے بعض دستاویزات بشمول اُن کے انکم ٹیکس کے حسابات اور دیگر دستاویزات طلب کی ہیں۔ اس کے علاوہ ملک کے مختلف بینکوں میں اُن کے 78 کھاتے ہیں جن کی نگرانی جاری ہے۔ جائزہ لینے کے بعد ذاکر نائک کو پوچھ تاچھ کے لئے طلب کیا جائے گا۔ ذرائع کے بموجب محکمہ تحقیقات نے بینکوں کو ایک مکتوب روانہ کرتے ہوئے اُن کے بینک کھاتوں کی بشمول سودوں کی تفصیلات طلب کی ہیں۔ جن کی مالیت مبینہ طور پر 100 کروڑ روپئے سے زیادہ ہے۔

یہ رقم جائیداد کے کاروبار میں ذاکر نائک اور اُن کے ساتھیوں نے مشغول کی ہے۔ یہ جائیدادیں ممبئی اور اُس کے مضافات میں واقع ہیں۔ این آئی اے کے عہدیداروں نے پتہ چلایا ہے کہ یہ رقم مختلف مالی سودوں سے جو لوگوں نے اُن کے ساتھ کئے ہیں، حاصل کی گئی ہے۔ ذرائع کے بموجب محمود جو ہارمونی میڈیا پرائیوٹ لمیٹیڈ کے مالک ہیں، مذہبی اور تعلیمی ویڈیوز میں نظر آتے ہیں، اُن پر بھی اِس مقدمہ کے سلسلہ میں نظر رکھی جارہی ہے۔ ذاکر نائک کی این جی او اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن پہلے ہی مرکزی حکومت کی جانب سے غیر قانونی ’’انسدادی‘‘ سرگرمیوں قانون کے تحت ممنوعہ قرار دی جاچکی ہے۔ ذاکر نائک کی تقریروں کی وجہ سے اُنھیں گرفتار کیا جانے والا تھا لیکن وہ گرفتاری سے بچنے کے لئے بیرون ملک مقیم ہیں۔ برطانیہ، کنیڈا اور ملیشیا میں اُن کے داخلہ پر پہلے ہی امتناع عائد کیا گیا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT