Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ۔10/10 حاصل کرنے والے ایم ایس کے تین طلبہ میں ایک حافظ قرآن شامل

۔10/10 حاصل کرنے والے ایم ایس کے تین طلبہ میں ایک حافظ قرآن شامل

ایس ایس سی امتحانات میں ایم ایس کا لگاتار چھٹویں سال بھی شاندار مظاہرہ
حیدرآباد ۔ 3 ۔ مئی : ( پریس نوٹ ) : ایک ایسے وقت جب پانچ لاکھ طلبہ امید و عزم ، جوش و جستجو کے علاوہ والدین کی توقعات کے ساتھ ایس ایس سی نتائج کا بے چینی سے انتظار کررہے تھے کہ آج ان نتائج کا اعلان کردیا گیا ۔ جس کے مطابق 84.15 فیصد امیدواروں نے کامیابی حاصل کی ۔ تاہم نتائج کے معیار کا تجزیہ ہنوز باقی ہے ۔ اس دوران ایم ایس کیمپ نے اقلیتی برادری کے تمام گوشوں میں اپنی فقید المثال کامیابیوں کا پھر ایک مرتبہ عملی ثبوت پیش کیا ۔ ایم ایس کے دو طلبہ حافظ محمد اسمعیل اویس خطیب ( ہال ٹکٹ نمبر 1722142749 ) اور محمد مصطفی ( ہال ٹکٹ نمبر 1722126389 ) نے تمام مضامین میں 10/10 نشانات حاصل کرتے ہوئے نہ صرف اپنی غیر معمولی صلاحیتوں کا لوہا منوالیا بلکہ ہونہار طالبہ صوفیہ نشاد ( ہال ٹکٹ نمبر 1722144764 ) کے ساتھ ایک نیا ریکارڈ قائم کیا ۔ صوفیہ نے بھی اپنے ساتھی طلبہ کی طرح 10/10 cGPA حاصل کی ہے جو نہ صرف ان ذہین طلبہ کے عزم عہد اور جستجو کا ثبوت ہے بلکہ اسکول انتظامیہ ، اساتذہ اور سرپرستوں کے تعاون کی ایک بہترین مثال بھی ہے ۔ ایم ایس کے ان نتائج نے نہ صرف طلبہ ، اولیائے طلبہ ، اسکول انتظامیہ اور اساتذہ بلکہ ساری ملت مسلمہ کے لیے فخر کا احساس فراہم کیا ہے ۔ الحمدﷲ ! لگاتار چھٹویں سال ایم ایس کے ہونہار طلبہ نے ایس ایس سی امتحانات میں 10/10 cGPA حاصل کیا ہے ۔ مزید برآں یہ اس اعتبار سے بھی کہیں زیادہ غیر معمولی رہا کہ چار حافظ قرآن امیدواروں نے 9.0 cGPA حاصل کیا ۔ ان میں حافظ اسمعیل سرفہرست ہیں جنہوں نے 10/10 حاصل کرتے ہوئے نہ صرف اس اسکول بلکہ حافظ پس منظر رکھنے والوں کے لیے ایک نئی امنگ پیدا کی ہے ۔ علاوہ ازیں ایم ایس طلبہ نے ساری ریاست تلنگانہ کے دیگر تعلیمی اداروں کے بہ نسبت کئی اعتبار سے بہترین تعلیمی مظاہرہ کیا ہے اور تلنگانہ کے طول و عرض میں واقع ایم ایس کی مختلف شاخوں سے اس کے سینکڑوں ایس ایس سی طلبہ تمام مضامین میں A1 رینک حاصل کیے ہیں ۔ بالخصوص یہ بات قابل ذکر ہے کہ ایم ایس کے 16 امیدواروں کا 9.8 cGPA یا اس سے زائد ہے ۔ 25 نے 9.7 حاصل کیا ۔ 34 ایم ایس طلبہ کا 9.5 ، 48 کا 9.3 ، 65 کا 9.2 ، 89 کا 9.0 cGPA رہا ۔ جو سارے ملک میں کسی واحد اقلیتی تعلیمی ادارہ کا فقید المثال کارنامہ بھی ہے ۔ منیجنگ ڈائرکٹر ایم ایس جناب محمد لطیف خاں نے کہا کہ اساتذہ اپنی جگہ مسلمہ اہمیت رکھتے ہیں لیکن اس سے بھی زیادہ اہمیت دیانتداری ، برادری کے لیے ثمر آور صلاحیتیں پیدا کرنے اور ملک و قوم کی ترقی میں حصہ ادا کرنے کے جذبہ کی ہوتی ہے ۔ چنانچہ ایم ایس نے اپنے طلبہ کی تعلیم و تربیت اور مثالی کردار سازی کو ترجیح دی ۔ بالخصوص ’ ہندوستان کے لیے سیکھو ‘ مہم کے ذریعہ ہونہار طلبہ میں بڑی کامیابیاں اور مقاصد حاصل کرتے ہوئے ملک کو اپنی صلاحیتیں دینے کا جذبہ پیدا کرنے کے لیے انتھک کام کیا ۔ جناب محمد لطیف خاں نے 10/10 حاصل کرنے والے تین ہونہار طلبہ کو فی کس 30,000 روپئے مالیتی جی آر کے اسکالر شپس دینے کا اعلان بھی کیا ۔ سینئیر ڈائرکٹر جناب معظم حسین نے طلبہ اور اولیائے طلبہ کو ان مثالی کامیابیوں پر شخصی طور پر مبارکباد دی ۔ انہوں نے کہا کہ ایم ایس کے بنیادی نظریہ کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ ’ ایم ایس تلنگانہ کے ان معدود چند تعلیمی اداروں میں ایک ہے جہاں طلبہ کو تعلیمی نصاب کے ساتھ اخلاقی اقدار کا درس دیا جاتا ہے تاکہ وہ مستقبل میں ایک اچھے شہری بن کر اپنے ملک اور قوم کے لیے گرانقدر خدمات انجام دے سکیں ۔۔

TOPPOPULARRECENT