Sunday , September 24 2017
Home / اضلاع کی خبریں / ۔12فیصد تحفظات کی فراہمی تک جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان

۔12فیصد تحفظات کی فراہمی تک جدوجہد جاری رکھنے کا اعلان

دستوری اختیارات کا استعمال کرنے حکومت سے مطالبہ، نلگنڈہ میں مسلم تنظیموں کی بھوک ہڑتال ، مختلف شخصیتوں کا خطاب

نلگنڈہ۔/9مارچ، ( سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) مسلمانوں کو تعلیم اور روزگار کے میدان میں حکومت اپنے وعدے اور تیقنات پر عمل کرتے ہوئے 12فیصد تحفظات فراہم کرنے اور آبادی کے تناسب پر بجٹ مختص کرتے ہوئے سب پلان کمیٹی تشکیل دینے کا مطالبہ کرتے ہوئے آج مسلم ریزرویشن کمیٹی و دیگر تنظیموں کی جانب سے کلاک ٹاور سنٹر ( تلنگانہ چوک ) پر ایک روزہ بھوک ہڑتال و دھرنا منظم کیا گیا۔ اس موقع پر تحفظات کمیٹی، آواز کمیٹی کے علاوہ دیگر مسلم رضاکارانہ تنظیموں کے نمائندوں نے کیمپ پہنچ کر اظہار یگانگت کرتے ہوئے تحفظات کی فراہمی تک اپنی جدوجہد کو جاری رکھنے کا اعلان کیا۔ اس موقع پر ریاستی سکریٹری ایم ایس آر اے ایس محمد جہانگیر، سید ہاشم ضلع سکریٹری سی پی ایم بلدی فلور لیڈر محمد سلیم ضلع صدر کمیٹی غلام محمود، میر خواجہ علی، قادر احمد شیخ حسین، شیخ لطیف، محمد حسن کلیم، محمد سجاد خان، موظف اکاؤنٹ آفیسر محکمہ ٹرانسکو محمد عبدالقیوم کے علاوہ محمود علی، محمد غوث، رحمان خان و دیگر موجود تھے۔ ان قائدین نے دھرنے کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ریاستی حکومت کے سربراہ نے جدوجہد تلنگانہ کے دوران تلنگانہ کے مختلف اضلاع اور مواضعات کا دورہ کرتے ہوئے مسلمانوں کی پسماندگی سے متعلق تفصیلات سے واقف ہونے اور جسٹس راجندر سچر کمیٹی اور رنگناتھ مشرا کمیشن کی سفارشات کی عمل آوری کا تیقن دیا اور مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات تمام شعبوں میں فراہم کرنے کا وعدہ کیا اور اپنے انتخابی منشور میں شامل بھی کیا لیکن اقتدار حاصل ہونے کے18ماہ کے بعد بھی اس خصوص میں کوئی سنجیدہ اقدامات نہیں کئے۔ ان قائدین نے بتایا کہ مسلمانوں کی پسماندگی سے متعلق مختلف کمیٹیوں نے اپنی رپورٹس میں واضح کردیا ہے کہ مسلمان ملک میں دلتوں سے زیادہ نچلی سطح کی غربت سے دوچار ہیں، مسلمانوں کو مساویانہ حقوق کے ساتھ ساتھ تمام شعبوں میں دیگر ترقی یافتہ طبقات کی طرح ترقی دینے کیلئے جملہ بجٹ کا تناسب کے حساب سے بجٹ مختص کرنے اور تحفظات فراہم کرنے کی سفارش کی ہے۔ تلنگانہ سرکار نے مسلمانوں کی پسماندگی سے واقفیت حاصل کرنے کیلئے سدھیر کمیٹی تشکیل دی ہے

 

جو تلنگانہ کے مختلف مقامات کا دورہ کررہی ہے۔ ان قائدین نے کہا کہ گزشتہ میں کی گئی سفارشات پر عمل کیا جاسکتا ہے۔ ان قائدین نے بتایا کہ رنگناتھ مشرا کمیشن نے ملک میں 15فیصد تحفظات اور بجٹ میں 15فیصد حصہ مختص کرنے کی بات کی تھی۔ تلنگانہ سرکار نے 2014-15 میں اقلیتوں کیلئے 1030 کروڑ روپئے بجٹ مختص کیا تھا جو کہ صرف ایک فیصد حصہ ہے۔ سال 2015-16 میں جملہ 1,15,680 کروڑ سے اقلیتوں کو صرف 1105 کروڑ روپئے مختص کئے گئے جو جملہ بجٹ کا 0.95 فیصد حصہ ہے اس میں کتنا حصہ خرچ کیا گیا ہے۔ جاریہ بجٹ میں مسلمانوں کو تلنگانہ ریاست میں آبادی کے تناسب سے 14فیصد بجٹ مختص کرتے ہوئے سب پلان کی تشکیل عمل میں لانا چاہیئے تاکہ مختص کردہ بجٹ کا استعمال ہوسکے۔ ان قائدین نے بتایا کہ آئے دن مسلمانوں کی معاشی حالت اور بھی کمزور ہوتی جارہی ہے۔ حکومت کو چاہیئے کہ مسلمانوں کی معاشی و تعلیمی میدانوں میں تحفظات کی فراہمی کیلئے دستور کے آرٹیکل 16 میں معاشی طور پر پسماندہ رہنے پر تحفظات فراہم کرنے کی گنجائش کے مطابق حکومت کو اختیار دیا گیا ہے۔ دستور میں فراہم کردہ اختیارات کا استعمال کرتے ہوئے مسلمانوں کو تحفظات فراہم کرنے کا ریاستی حکومت بالخصوص چیف منسٹر سے پرزور مطالبہ کیا گیا۔ اس موقع پر حافظ محمد خالد ضلع سکریٹری کمیٹی، محمد رزاق، محمد الیاس و دیگر موجود تھے۔

TOPPOPULARRECENT