Thursday , September 21 2017
Home / اضلاع کی خبریں / ۔12% تحفظات: بی سی کمیشن کے قیام تک جدوجہد جاری رکھنے مسلمان کمربستہ

۔12% تحفظات: بی سی کمیشن کے قیام تک جدوجہد جاری رکھنے مسلمان کمربستہ

وعدوں پر بھروسہ نہیں عمل پر یقین ، مختلف قائدین کا تاثر ، ’’سیاست‘‘ کی تحریک میں این آر آئی بھی شامل ، نمائندگیوں کا سلسلہ جاری
ورنگل۔12 نومبر (سیاست ڈسٹرکٹ نیوز) تلنگانہ میں مسلمانوں کیلئے 12% تحفظات کی چلائی جارہی سیاست کی مہم میں این آر آئی بھی شامل ہورہے ہیں۔ بغیرتحفظات مسلمانوں کی ترقی مشکل ہے۔ حکومت کو سنجیدگی مظاہرہ کرنے کی ضرورت ہے، نہ کہ کمیشن بنانے کی تلنگانہ کے تمام مسلمان سیاسی پارٹیوں سے بالاتر ہوکر 12% تحفظات تحریک میں شامل ہوں۔ ان خیالات کا اظہار ورنگل کے ممتاز این آر آئی ایم اے خلیل (انجینئر) نے کیا۔ انہوں نے تلنگانہ حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ جلد از جلد بی سی کمیشن کے ذریعہ مسلمانوں کو 12% تحفظات پر عمل آوری کیلئے ٹھوس اقدام کریں۔ مسلمانوں کی معاشی پسماندگی دور ہوسکے اور ہر محکمہ میں مسلم تعلیم یافتہ بیروزگار نوجوانوں کو روزگار حاصل ہوسکے۔ مختلف محکمہ جات میں مخلوعہ جائیدادوں کا سروے کرتے ہوئے ایک لاکھ سے زیادہ مخلوعہ جائیدادوں پر بھرتی کرنا بتایا جارہا ہے۔ جبکہ ان تمام جائیدادوں پر انصاف ضروری ہے۔ ایم اے خلیل نے کہا کہ سیاست کی جانب سے جاری اس 12% تحفظات کی تحریک میں ہر ایک مسلمان کو شامل ہونے کی ضرورت ہے۔ یہ کسی ایک فرد کا خاندان کا معاملہ نہیں بلکہ ریاست تلنگانہ کے تمام مسلمانوں کا ہے۔ تحفظات حاصل ہونے پر تمام مسلمانوں کو فائدہ حاصل ہوگا۔ تمام سیاسی پارٹیوں میں رہنے والے اقلیتی قائدین کو چاہئے کہ وہ اس تحریک کا حصہ بنتے ہوئے 12% تحفظات کے مطالبہ کو یقینی بنانے کیلئے حکومت پر دباؤ ڈالنے کی ضرورت ہے۔ مسلمان اپنے اختلافات کو دور کرتے ہوئے اس تحریک میں شامل ہوجائیں گے۔ سیاست اخبار کی جانب سے چلائی جارہی 12% تحفظات تحریک میں ملک سے دور رہنے والے این آر آئی کافی متاثر ہیں اور اس تحریک کا حصہ تیار ہیں۔
یلاریڈی : تلنگانہ حکومت 12% فیصد تحفظات کا وعدہ پورا کرنے فوری اپنی خاموشی توڑنے اور فوری ٹھوس اقدامات کرتے ہوئے تلنگانہ کے مسلمانوں کو راحت پہنچانے، پسماندہ طبقہ کو تحفظات دیئے بناء ہی ریاست میں سرکاری ملازمتوں کا سلسلہ کا آغاز کرنا حکومت کی منفی پالیسی کو ظاہر کرتا ہے۔ مسٹر اعجاز احمد مسرور سابق رکن معاون منڈل پریشد نے اپنے ایک بیان میں 12% تحفظات پر مزید کہا کہ کے سی آر مسلمانوں کو تحفظات دیئے بغیر ہی کیوں ملازمتوں پر بھرتی کا سلسلہ شروع کیا ہے۔ کیا یہ مسلمانوں کے ساتھ غداری نہیں، ادارہ سیاست اقلیتوں کو بیدار کرنے کی جدوجہد میں 12% تحفظات کی مہم چلا رہا ہے۔ اگر تلنگانہ کا مسلمان کامل طریقہ سے بیدار ہوکر احتجاج پر اُتر آئے تو حکومت کا زوال یقینی لگتا ہے۔ چیف منسٹر ریاست میں تمام ملازمتوں پر بھرتی ہونے کے بعد اگر تحفظات دیں گے تو مسلمانوں سے یہ کھلے عام دغابازی ہوگی، فی الوقت چیف منسٹر کی نیت بھی کچھ اس طرح کی لگتی ہے۔ مسلمانوں کیلئے ہمدردی رکھنے والے چیف منسٹر سچ میں ہمدرد ہوتے تو مسلمانوں کی 12% تحفظات دیئے جانے تک ایک جائیداد پر بھی بھرتی نہ کرتے۔ اس سے پہلے کہ تلنگانہ کے مسلمان سڑکوں پر آجائیں۔ حکومت کو چاہئے کہ وہ اپنا وعدہ پورا کرے یا پھر تلنگانہ کے پہلے غدار چیف منسٹر بنیں۔ اب تک تو چیف منسٹر نے مسلمانوں کے ساتھ صرف وعدوں کے سواء کیا ہی کیا ہے۔ فوری حکومت عمل آوری شروع کردے تاکہ پسماندہ مسلمانوں کو ان کا حق میسر ہوسکے اور ترقی کی سمت گامزن ہوسکے۔
عادل آباد : ملک کے پہلے وزیر تعلیم مولانا ابوالکلام آزاد کے بتائے ہوئے اصولوں پر عمل کرتے ہوئے انہیں صحیح انداز میں خراج عقیدت پیش کرنے کا مشورہ ضلع مائناریٹی صدر مسٹر ساجد خان نے اپنے خطاب کے دوران دیا۔ سینئر کانگریس قائد مسٹر سی رامچندر ریڈی کی قیام گاہ پر مولانا ابوالکلام آزاد کو خراج عقیدت پیش کرنے کیلئے منعقدہ تقریب میں موصوف مخاطب تھے۔ اس موقع پر انہوں نے تلنگانہ ریاست کے چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ کی جانب سے مسلمانوں کو 12% تحفظات فراہم کرنے کے وعدہ کو یاد دلاتے ہوئے 12% تحفظات پر عمل کرنے پر زور دیا اور کہا کہ 12% تحفظات کی عمل آوری میں تاخیر کی بناء پر ہزاروں مسلمانوں کو ملازمتوں سے محروم ہونے کا خدشہ ہے۔ محکمہ پولیس میں تقررات کے عمل کو 12% تحفظات یقینی ہونے کے بعد عملی جامہ پہنانے کا جہاں ایک طرف مطالبہ کیا، وہیں دوسری طرف محکمہ پولیس جائیدادوں کے تقررات میں مسلمانوں کی خاطر 12% کوٹہ مختص کرنے کی بھی تجویز پیش کی۔ اس موقع پر مائناریٹی ٹاؤن کمیٹی صدر مسٹر شکیل احمد، ایس کے کلیم، منیر خان ، صابر احمد، ڈگمبر راؤ پاٹل اور دیگر قائدین بھی موجود تھے۔
نظام آباد :   مولانا آزاد کی یوم پیدائش کے موقع پر ضلع کانگریس اقلیتی ڈپارٹمنٹ کی جانب سے صدر ضلع اقلیتی سیل سمیر احمد نے ضلع کلکٹر ڈاکٹر یوگیتا رانا سے ملاقات کرتے ہوئے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی، اُردو اساتذہ کی بھرتی کو فوری عمل میں لانے کیلئے اقدامات کرنے کا مطالبہ کیا۔ مسٹر سمیر احمد نے مصطفی الکاف سکریٹری اقلیتی سیل، سید ارشد سٹی کنونیر، اکبر، محمد ربانی و دیگر کے ہمراہ آج ضلع کلکٹر ڈاکٹر یوگیتا رانا سے ملاقات کرتے ہوئے ایک تفصیلی یادداشت پیش کی اور کہا کہ ریاستی حکومت انتخابات کے موقع پر مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کا اعلان کیا تھا لیکن ابھی تک اس خصوص میں کوئی اقدامات نہیں کئے گئے جس کی وجہ سے مسلمانوں میں تجسس پایا جارہا ہے مسلمانوں میں موجودہ بے چینی کو دور کرنے کیلئے فوری بی سی کمیشن کا قیام عمل میں لاتے ہوئے 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کو یقینی بنانے کیلئے جنگی خطوط پر اقدامات کئے جائیں تو بہتر ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ سدھیر کمیٹی کے تقرر سے مسلمانوں کو کوئی فائدہ حاصل ہونے والا نہیں ہے اور نہ ہی سدھیر کمیٹی کو تحفظات کی فراہمی کا اختیار حاصل ہے لہذا چیف منسٹر کی جانب سے کئے گئے اعلان پر عمل کرنے کی خواہش کی۔ اس کے علاوہ ضلع نظام آباد میں 262 اُردو میڈیم مدارس میں 25 ہزار سے زائد طلباء و طالبات زیر تعلیم ہیں اور اُردو کی 405 جائیدادیں مخلوعہ ہیں اُردو کو فروغ دینے کی زبانی ہمدردی کے بجائے عملی جامہ پہنانے کیلئے مخلوعہ تمام جائیدادوں پر اساتذہ کا تقرر کرنے اور کلکٹریٹ میں اُردو کے مترجم کا تقرر کرنے کا مطالبہ کیا۔

Top Stories

TOPPOPULARRECENT