Thursday , March 30 2017
Home / مضامین / ۔12 فیصد تحفظات! غضب کیا ترے وعدہ پر اعتبار کیا

۔12 فیصد تحفظات! غضب کیا ترے وعدہ پر اعتبار کیا

غضنفر علی خان
آخر کار وہی ہوا جس کا ڈر تھا ۔ ہر عام سیاست داں کی طرح چیف منسٹر تلنگانہ مسٹر کے سی آر بھی مسلم اقلیت کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کے وعدہ کو پورا کرنے میں ویسی ہی بہانہ بازی اور مکر و فریب کی روش اختیار کئے ہوئے ہیں جیسی مسلمانوں کے تعلق سے اور سیاست داں کرتے رہے ہیں اور کرتے رہیں گے۔ تلنگانہ حکومت سے زیادہ یہ وعدہ چیف منسٹر کے سی آر کا شخصی تیقن تھاجو انہوں نے انتخابی مہم سے پہلے اور اس کے دوران بار بار دیاتھا ۔ انہیں یہ یاد رکھنا چاہئے کہ تحفظات کا فیصد انہوں نے تجویز کیا تھا ۔ مسلم اقلیت نے ان سے کوئی مطالبہ نہیں کیا تھا کہ وہ زندگی کے ہر شعبہ میں ہم مسلمانوں کو ریزرویشن فراہم کریں۔ مسلمان بیچارے ان کی بار بار کی یقین دہانی پر پگھل گئے اوران کی پارٹی کو زبردست کامیابی سے ہمکنار کردیا ۔ یہ مسلمانوںکی سادہ لوحی تھی کہ انہوں نے سمجھ لیا کہ کے سی آر اپنا وعدہ پورا کریں گے ۔ اس وقت انہیں (مسلمانوں کو) یہ اور بھی زیادہ یقین ہوگیا کہ اب کی بار ان سے کوئی دھوکہ یا فریب نہیں ہوگا ۔ جب ریاست کی برسر اقتدار پا رٹی ٹی آر ایس (تلنگانہ راشٹریہ سمیتی) کو اسمبلی میں قطعی اکثریت مل گئی ۔ اس کے بعد تو صرف ٹی آر ایس اور چیف منسٹر نے طفل تسلیاں ہی دیں اور یہ تاثر پیدا کردیا کہ ان کی حکومت جو وعدے کرتی ہے اس کو پورا کرنے سے دریغ نہیں کرے گی چنانچہ ایک وعدہ کسی مسلم منتخبہ رکن کو ڈپٹی چیف مسٹر بنانے کا تھا جو روز اول ہی پورا ہوگیا ۔ واقعی قابل تعریف کام تھا جس کی مسلم تنظیموں ادارں اور رہنماؤں  نے ستائش بھی کی تھی لیکن جب بھی 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کی بات آئی ، ہروقت ٹی آر ایس حکومت ایک نئے بہانے ایک نئے چہرہ کے ساتھ آئی۔ تقریباً 3 سال سے ٹی آر ایس حکمراں ہے لیکن ان 3 برسوں کے دوران کبھی سنجیدگی سے ریاستی حکومت نے اپنے اس کلیدی وعدہ کو پورا کرنے کی کوشش نہیں کی ۔ زبانی جمع خرچ ہی ہوتا رہا ۔ بیاک ورڈ کلاس کمیٹی کے قیام سے بھی گریز کیا گیا ۔ اگر یہ کمیشن بروقت قائم ہوجاتا تو یقیناً حکومت کے لئے آسانی ہوتی لیکن اس کے قیام سے بھی قصداً گریز کیا گیا اور سابقہ ایسی تمام رپورٹس کو بھی نظر انداز کردیا گیا جس میں نہ صرف ریاست تلنگانہ بلکہ ملک بھرمیں اقلیتوں کی زبوں حالی کا اعتراف کیا گیا تھا۔ سچر کمیٹی نے جو یو پی اے حکومت نے تشکیل دی تھی تو سب سے زیادہ تفصیلی رپورٹ مرتب کی تھی جس میں یہ اعتراف بار بار جگہ جگہ کہا گیا تھا کہ ہندوستان میں مسلمانوں کی تعلیمی پستی ، معاشی بدحالی اور زندگی کے تمام شعبوں میں ان کی پسماندگی اتنی زیادہ ہے کہ وہ ملک کا سب سے زیادہ پسماندہ طبقہ بن گئے ہیں، اس رپورٹ پر ظاہر ہے کہ چیف منسٹر موصوف کی بھی نظر پڑی ہوگی۔ انہوں نے کیا سمجھ کر 12 فیصد تحفظات کا اعلان کیا تھا ۔ اگر ان کے خیال میں تلنگانہ کے لگ بھگ 85 لاکھ یا ایک کروڑ مسلمان اپنی معاشی زندگی دلتوں اور دیگر پسماندہ طبقات سے بھی بدتر انداز میں گزار رہے ہیں۔ اگر مسلمانوں سے ان کی ہمدردی حقیقی ہوتی اگر تہہ دل سے وہ محسوس کرتے ہوتے تو انہیں مقررہ فیصد تحفظات فراہم کرنے میں کوئی مشکل نہ ہوتی لیکن جس طرح وزیراعظم مودی ’’من کی بات‘‘ چھپاکر بہت کچھ کہہ دیتے ہیں اصل بات در پردہ رہتی ہے ۔ اسی طرح کے سی آر بھی اپنے دل کی بات پر مختلف مصلحتوں کے پردے ڈالتے جارہے ہیں۔ اگر مسلمانوں نے گزشتہ اسمبلی انتخابات میں ٹی آر ایس کا ساتھ دیا تھا جو ایک سچائی ہے تو یہ سچائی بھی حکمراں پارٹی کو تسلیم کرنی چاہئے کہ یہی مسلم اقلیت پارٹی کو وعدہ خلافی کیلئے آئندہ انتخابات میں سبق سکھائے گی، اقلیتی اقامتی اسکولس کا قیام ایک قابل تعریف قیام ہے ۔ ان اسکولوں کے لئے تقررات کا بھی اعلان ہوا ہے ۔ اگر نیت صاف ہے تو پھر ان تقررات میں ہی سے 12 فیصد تحفظات کا وعدہ پورا کرنے کا عمل کیوں نہیں کیا جاتا ۔ اگر عزم جواں ہے اور نیک نیتی کا جذبہ کارفرما ہے تو ڈبل بیڈروم فراہم کرنے کی اسکیم میں بھی اس فیصد کو روبہ عمل لایا جاسکتا ہے ۔ ایسی اور اسکیمات بھی آئندہ سامنے آئے گی ۔ پوری قانونی کارروائی سے پہلے اپنے وعدے کو پورا کرنے کے لئے کیوں کے سی آر حکومت اقدامات نہیں کرتی ؟ رہا سوال 12 فیصد کے مسئلہ کو مرکزی حکومت سے Refer کرنے کا تو یہ بھی مسلمانوں کے آنکھوں میں دھول جھونکنے کے مماثل ہے ۔ مرکز میں بی جے پی برسر اقتدار ہے جس کی مسلم دشمنی ایک مسلمہ سیاسی حقیقت ہے ۔ اگر تحفظات کے مسئلہ پر مرکز کی منظوری کا سہارا لینے کی کوشش کی گئی جیسا کہ موجودہ ٹال مٹول کی پالیسی سے ظاہر ہوتا ہے تو پھر یہ  کہا جائے گا کہ یہ وعدہ نہیں بلکہ صرف دھوکہ تھا جو بات نہیں ہوسکتی  اس کو کرنے کے لئے ریاستی حکومت مرکز کی بی جے پی حکومت کی منظوری کا انتظار کرے گی تو یہ کبھی حاصل نہیں ہوگی۔ اگر کچھ فی الواقعی ریاستی حکومت کو کرنا ہے  جسکا وقتاً فوقتاً ریاستی حکومت اور اس کے  ذمہ دار  وزراء برسبیل تذکرہ حوالہ دیتے بھی ہیں تو پھر ریاستی اسمبلی ہی میں منظوری کے مراحل طئے کرلینے چاہئے ۔ حکمراں ٹی آر ایس کی نظام آباد سے منتخب ہونے والی رکن پارلیمان مسز کویتا جو چیف مسنٹر کی دختر ہیں، نے غیر ضروری طور پر حال ہی میں کہا تھا کہ حکومت کسی اخبار کی جانب سے 12 فیصد تحفظات کیلئے چلائی جانے والی مہم سے خوف زدہ نہیں ہے ۔ یہ ان کی ناتجربہ کاری کا ثبوت ہے ۔ ان کا اشارہ روزنامہ سیاست کی طرف تھا ۔ رکن پارلیمنٹ نہ تو مسلمانوں کی حالت زار سے واقف ہیں نہ ان کے مسائل کا کوئی علم رکھتی ہیں۔ اخبار سیاست ان کے خیال میں اگر صرف ایک روزنامہ ہے تو ان کی اس غلط فہمی کو پارٹی میں موجود تجربہ کار افراد یا خود چیف منسٹر دور کرسکتے ہیں کہ سیاست محض اخبار نہیں ہے بلکہ ایک طاقتور تحریک ہے ، اس تحریک کے علمبردار ایڈیٹر جناب زاہد علی خان کے صاحبزادے نیوز ایڈیٹر جناب عامر علی خان نے مسلم اقلیت کی زندگی کے ہر شعبے میں رہنمائی کرنے کا بیڑا اٹھایا ہے ۔ زاہد علی خان کے ساتھ ان کے تجربات کا سامان سفر ہے تو عامر علی خان کے پاس ایک عزم جواں سال ہے ۔ اخبار اور ان دونوں کی کوشش صرف یہی ہے کہ مسلم اقلیت کو اس کے جائز اور دستوری حق مل جائیں۔ ملت کے ہر ذی شعور فرد کو اب اچھی طرح اندازہ ہوگیا ہے کہ ان دونوں کی تحریک اخلاص نیت پرمبنی ہے ۔ اس میں کوئی ذاتی مفاد مخفی نہیں ہے ۔ ملت ان پر اٹوٹ اعتماد کرتی ہے اور ان کی رہنمائی کو قبول کرتی ہے ۔ کسی بھی پارٹی بشمول ٹی آر ایس کی رکن پارلیمنٹ کے کہنے سننے سے ان کا قافلہ رک نہیں سکتا ۔ ایسی دھمکیوں سے اخبار کبھی اپنی تحریک اپنے جائز مقاصد کی تکمیل کی جدوجہد سے دستبردار نہیں ہوگا ۔ 12 فیصد تحفظات کی فراہمی بھی ایک تحریک کی شکل اختیار کر گئی ہے۔ جس انداز میں عوام و خواص نے اس مسئلہ پر اپنی زبانی اور تحریری رائے ظاہر کی ہے، جس انداز میں شہروں اور اضلاع تلنگانہ کے علاوہ چھوٹے چھوٹے قصبوں اور دیہاتوں تک عوام 12 فیصد کیلئے حرکت میں آگئے ہیں ۔ اس کا سہرا بھی اخبار سیاست کی تحریک کے سر جاتا ہے ۔ عوام میں شعور و آگہی کو بیدار کرنا ہی کسی ذمہ دار اخبار کا کام ہوتا ہے اور جو تحریک اخلاص نیت سے چلائی جاتی ہے ، اس کی کامیابی بارگاہ رب العزت میں یقینی ہوتی ہے ، یہ قدرت کی سنت ہے کہ وہ جس فرد یا ادارے سے کام لینا چاہتی ہے ، عزم و حوصلہ کا مثبت جذبہ اس میں پیدا کرتی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT