Thursday , August 17 2017
Home / شہر کی خبریں / ۔12 فیصد تحفظات ندارد ، رمضان پیاکیج کے نام پر غرباء کا مذاق

۔12 فیصد تحفظات ندارد ، رمضان پیاکیج کے نام پر غرباء کا مذاق

395 روپئے مالیتی کپڑا ، زکواۃ قیمت سے بھی کم ، حکومت سے ٹھوس اقدامات کی ضرورت
حیدرآباد ۔ 15 ۔ جون (سیاست نیوز) تلنگانہ حکومت نے مسلمانوں کو خوش کرنے کیلئے عیدالفطر سرکاری طور پر منانے اور مساجد میں افطار کے اہتمام اور دو لاکھ غریبوں کو کپڑا تقسیم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ تلنگانہ میں مسلمانوں کی معاشی اور سماجی ترقی کیلئے اس طرح کے اعلانات سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ پسماندگی کے خاتمہ کیلئے ٹھوس اقدامات کئے جائیں۔ عام انتخابات سے قبل چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا اعلان کیا تھا لیکن گزشتہ دو برسوں میں اس وعدہ کی تکمیل کی سمت کوئی پیشرفت نہیں کی گئی۔ مسلمانوں کو رمضان پیکیج کے ذریعہ خوش کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جبکہ حقیقت یہ ہے کہ حکومت ایک غریب خاندان کو صرف 395 روپئے مالیتی کپڑے فراہم کر رہی ہے جو بازار میں زکوٰۃ کی تقسیم کیلئے موجود کپڑوں کی قیمت سے بھی کافی کم ہے۔ دو لاکھ غریب خاندانوں کو 395 روپئے کے کپڑوں کی تقسیم دراصل ان کی غربت کے ساتھ ایک مذاق ہے۔ اگر یہی حکومت 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کی سمت سنجیدگی سے اقدامات کرے تو ریاست کے کم سے کم 60 لاکھ مسلمانوں کو فائدہ ہوگا اور ان کی تعلیمی اور معاشی ترقی ہوگی۔ جن دو لاکھ غریب خاندانوں کو حکومت کپڑا دینا چاہتی ہے، اگر تحفظات فراہم کئے گئے تو یہی دو لاکھ خاندان دوسروں کو زکوٰۃ دینے کے موقف میں آسکتے ہیں۔ ہر سال کی طرح اس سال بھی حکومت نے مسلمانوں کیلئے 15 کروڑ روپئے پر مشتمل پیکیج تیار کیا ہے جس کے تحت شہر کی 100 اور اضلاع کی 95 مساجد میں 26 جون کو چیف منسٹر کی دعوت افطار کے موقع پر افطار کا اہتمام کیا جائے گا اور ہر مسجد میں 1000 افراد کے کھانے کا انتظام کیا جائے گا ۔ اس کے لئے ہر مسجد کو دو لاکھ روپئے منظور کئے جائیں گے۔ 17 تا 22 جون دو لاکھ غریبوں میں کپڑوں کی تقسیم عمل میں آئے گی۔ بتایا جاتا ہے کہ جاریہ سال کپڑوں کے پیکیج میں کرتا پائجامہ کیلئے 5.5 میٹر کپڑا ، 6 میٹر کی ایک ساڑی معہ بلاؤز، خواتین کیلئے چڑی دار کرتا پائجامہ معہ اوڑھنی شامل رہیں گے۔ گزشتہ سال اس پیکیج کے تحت دو ساڑیاں اور کرتا پائجامہ کا کپڑا تقسیم کیا گیا تھا ۔ گزشتہ سال جس کمپنی کو کپڑوں کی تقسیم کی ذمہ داری دی گئی اس میں فی پیاکٹ 455 روپئے وصول کئے تھے۔ اس مرتبہ اسی کمپنی نے 395 روپئے میں یہ تمام ملبوسات کی سربراہی سے اتفاق کیا ہے۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ مارکٹ میں کم سے کم 5 میٹر کپڑے کی خریدی کیلئے 300 روپئے ادا کرنے پڑیں گے۔ ایسے میں باقی 95 روپئے میں کس طرح ایک ساڑی اور لڑکیوں کا ایک جوڑا سربراہ کیا جاسکتا ہے۔ عہدیداروں نے کپڑے کے معیار کی جانچ کا کام بھی مکمل کرلیا لیکن اکثر یہ دیکھا جاتا ہے کہ جس کپڑے کی منظوری حاصل کی جاتی ہے اس معیار کا کپڑا سربراہ نہیں کیا جاتا۔ اقلیتی بہبود کے ایک عہدیدار نے ریمارک کیا کہ اس قدر کم قیمت میں سربراہ کیا جانے والا کپڑا شائد صرف عید کے ایک دن کیلئے ہی ہے۔ اسی دوران حکومت کے اس پیکیج کے اعلان سے مسلمانوں میں کوئی خاص دلچسپی نہیں ہے کیونکہ اس پیکیج کے بجائے مسلمانوں کی معاشی ترقی کیلئے ٹھوس اقدامات کے بارے میں وہ منتظر ہیں۔ حکومت نے جن تحفظات کا وعدہ کیا تھا، اس سلسلہ میں آج تک سوائے کمیشن کے قیام کے کچھ نہیں کیا گیا اور کمیشن کی میعاد ہر 6 ماہ میں توسیع کی جارہی ہے۔ تحفظات کی فراہمی کیلئے بی سی کمیشن کے قیام کی ضرورت ہے اور اس بارے میں حکومت نے کوئی فیصلہ نہیں کیا ۔ حیرت تو اس بات پر ہے کہ مسلمانوں کی قیادت کا دعویٰ کرنے والی جماعتیں اور قائدین صرف رمضان پیکیج سے خوش ہیں۔ ٹی آر ایس کے عوامی نمائندوں اور اقلیتی قائدین کو بھی مسلمانوں کے جذبات کا احساس کرتے ہوئے تحفظات کے مسئلہ پر حکومت سے نمائندگی کرنی ہوگی۔ افسوس کہ پارٹی کے اقلیتی قائدین کو غریب مسلمانوں سے زیادہ اپنے سرکاری عہدوں کی فکر ہے۔ رمضان کے موقع پر افطار ، کھانا اور معمولی قسم کے کپڑوں کی سربراہی سے مسلمانوں کا دل جیتا نہیں جاسکتا اور نہ ہی اس سے مسلمانوں کی پسماندگی کا خاتمہ ہوگا۔ حکومت چاہے کسی پارٹی کی ہو، رمضان میں اس طرح کے اقدامات عام بات ہیں۔ چونکہ ٹی آر ایس نے مسلمانوں سے تحفظات کا وعدہ کیا تھا لہذا ان سیاسی اقدامات کے بجائے ٹھوس اقدامات کی امید کی جارہی ہے۔

TOPPOPULARRECENT