Tuesday , October 24 2017
Home / شہر کی خبریں / ۔12 فیصد تحفظات کیلئے حکومت اسمبلی میں قرارداد کی منظوری کیلئے تیار

۔12 فیصد تحفظات کیلئے حکومت اسمبلی میں قرارداد کی منظوری کیلئے تیار

مرکز سے منظوری کیلئے ’’سازگار ماحول‘‘ کا انتظار، جامع سروے رپورٹ بھی ناگزیر، ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی کا خطاب

حیدرآباد۔/10نومبر، ( سیاست نیوز) ڈپٹی چیف منسٹر محمد محمود علی نے کہا ٹی آر ایس حکومت مسلمانوں کو 12فیصد تحفظات کی فراہمی کے وعدہ پر قائم ہے اور اس پر عمل آوری کے طریقہ کار کا تعین کیا جارہا ہے۔ حکومت قانونی اور دستوری ماہرین سے اس مسئلہ پر مشاورت کررہی ہے تاکہ وعدہ کی تکمیل میں کوئی رکاوٹ پیدا نہ ہو۔محمد محمود علی آج یہاں تلنگانہ یونین آف ورکنگ جرنلسٹس کے صحافت سے ملاقات پروگرام سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ محمد محمود علی نے میڈیا کے نمائندوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت آئندہ اسمبلی اجلاس میں 12فیصد مسلم تحفظات کے حق میں قرارداد کی منظوری کیلئے تیار ہے

تاہم  مرکزی حکومت کی منظوری حاصل کرنے کیلئے ساز گار ماحول کا انتظار کیا جارہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ مرکز کی بی جے پی حکومت اقلیتوں اور بالخصوص مسلمانوں کو تحفظات کے حق میں نہیں ہے لہذا ٹی آر ایس حکومت جلد بازی میں کوئی ایسا فیصلہ کرنا نہیں چاہتی کہ مرکزی حکومت اسے مسترد کردے۔ انہوں نے کہا کہ ملک کے موجودہ سیاسی حالات کے پیش نظر مرکزی حکومت کو تلنگانہ میں مسلم تحفظات میں اضافہ کیلئے راضی کرنے کی کوشش کی جارہی ہے جس کے بعد اسمبلی میں قرارداد منظور کرتے ہوئے مرکز کو روانہ کیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ تحفظات کی فراہمی کیلئے پیش قدمی کے طور پر سدھیر کمیشن آف انکوائری کیا گیا ہے جو تلنگانہ میں اقلیتوں کی تعلیمی، معاشی اور سماجی صورتحال کا جائزہ لے رہا ہے۔ کمیشن کی رپورٹ ملتے ہی اس کی سفارشات کے مطابق حکومت آئندہ قدم اٹھائے گی اور بی سی کمیشن قائم کیا جائے گا۔ انہوں نے مسلمانوں سے کہا کہ تحفظات کی فراہمی کے سلسلہ میں چندر شیکھر راؤ سنجیدہ ہیں اور وہ اس وعدہ کی تکمیل کو یقینی بنائیں گے۔ انہوں نے کہا کہ تحفظات کی فراہمی کیلئے جامع سروے رپورٹ ناگزیر ہے کیونکہ عدالت میں کسی سروے کے بغیر تحفظات کی فراہمی قابل قبول نہیں۔ نائب وزیراعلی الحاج محمد محمو دعلی نے کہاکہ چیف منسٹر کے چندرشیکھر رائو ایک سکیولر قیادت کا نام ہے جس کا مقصد ریاست تلنگانہ کو سنہری بنانا ہے اور اس کی ترقی میں ریاست کے تمام مذاہب او رطبقات کی عوام کو شامل کرنا بھی ہے۔انہوں نے اوقافی جائیدادوں کی صیانت کے متعلق کئے گئے سوال کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ نئی ریاست تلنگانہ کی تشکیل اور ٹی آر ایس حکومت کے اقتدار میں آنے کے بعدپور ی ریاست میںکہیں پر بھی ایک انچ وقف اراضی پر غیرمجاز قبضوں کی کوئی اطلاع موصول نہیںہوئی ۔ انہوں نے لینکو ہلز کی وقف جائیدادوں کی بازیابی کے متعلق بھی جواب دیتے ہوئے کہاکہ آندھرائی حکمرانوں کے دور اقتدار میںلینکو ہلز کی وقف جائیداد کو فروخت کیا گیاتھا۔ (سلسلہ صفحہ 8 پر)

TOPPOPULARRECENT