Thursday , September 21 2017
Home / شہر کی خبریں / ۔12 فیصد مسلم تحفظات ورنگل لوک سبھا ضمنی انتخاب میں اہم انتخابی موضوع

۔12 فیصد مسلم تحفظات ورنگل لوک سبھا ضمنی انتخاب میں اہم انتخابی موضوع

مسلمانوں کے دباؤ سے ٹی آر ایس الجھن کا شکار، قائدین سے چیف منسٹر کی مشاورت ، تحفظات کے وعدہ کو دہرانے کا فیصلہ
حیدرآباد ۔ 4 ۔ نومبر ( سیاست نیوز) مسلمانوں کو 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کا مسئلہ ورنگل لوک سبھا حلقہ کے ضمنی چناؤ میں اہم انتخابی موضوع کے طورپر ابھر سکتا ہے۔ اس مسئلہ پر چیف منسٹر کے چندر شیکھر راؤ نے انتخابی مہم میں مصروف وزراء سے مشاورت کی۔ بتایا جاتاہے کہ چیف منسٹر اس بات پر فکر مند ہیں کہ ورنگل لوک سبھا حلقہ میں اقلیتوں کی تائیدکے حصول کیلئے 12 فیصد تحفظات کے وعدے کو کس طرح نمٹا جائے۔ ٹی آر ایس نے اقتدار کے حصول کے اندرون4 ماہ 12 فیصد تحفظات فراہم کرنے کا وعدہ کیا تھا ۔ اب جبکہ ورنگل لوک سبھا کا ضمنی چناؤ ٹی آر ایس حکومت کے لئے سخت آزمائش کا باعث بن چکا ہے ۔ایسے میں 12 فیصد تحفظات اہم انتخابی موضوع بننے کا امکان ہے ۔ حکومت اس بات پر فکرمند ہے کہ انتخابی مہم کے دوران اس مطالبہ کے بارے میں کیا موقف اختیار کرے۔ بتایا جاتاہے کہ ریاستی وزراء انتخابی مہم کے سلسلہ میں ورنگل کے جن علاقوں کا دورہ کر رہے ہیں، وہاں مسلمانوں کی جانب سے 12 فیصد تحفظات کے وعدے کی یاد دہانی کرائی جارہی ہے ۔ ٹی آر ایس کو اس بات کا اندیشہ ہے کہ اگر اس وعدہ کی تکمیل کے بارے میں مثبت موقف اختیار نہیں کیا گیا تو اس کا فائدہ راست طور پر کانگریس پا رٹی کو ہوگا

کیونکہ کانگریس نے مسلمانوںکی تائید حاصل کرنے کیلئے اس مسئلہ کو انتخابی موضوع بنانے کا فیصلہ کیا گیا جس کا آغاز کانگریس امیدوار کے پرچہ نامزدگی کے ادخال سے قبل قومی قائدین نے حیدرآباد میں کیا۔ چیف منسٹر کے قریبی ذرائع کے مطابق انتخابی مہم میں مصروف وزراء اور قائدین نے چیف منسٹر سے خواہش کی کہ وہ 12 فیصد تحفظات کے مسئلہ پر پارٹی کے موقف کی وضاحت کریں تاکہ ورنگل کے مسلم اقلیتی رائے دہندوں کو مطمئن کیا جاسکے۔ چیف منسٹر نے وزراء اور قائدین سے کہا کہ وہ کسی بھی صورت میں مسلم رائے دہندوں کی تائید کو حاصل کرنے کی کوشش کریں اور اس کیلئے 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے وعدے کا اعادہ کیا جائے۔ پارٹی کی جانب سے  تحفظات کے وعدے کا اعادہ کرتے ہوئے اسمبلی میں دیئے گئے چیف منسٹر کے بیان کا حوالہ دیا جائے گا جس میں انہوں نے سدھیر کمیشن آف انکوائری کی رپورٹ کے بعد اسمبلی میں قرارداد پیش کرنے کا وعدہ کیا ہے۔ چیف منسٹر جو ورنگل کی انتخابی مہم میں حصہ لینے والے ہیں، وہ خود بھی انتخابی جلسوں میں 12 فیصد تحفظات کی فراہمی کے وعدے کو دہرائیں گے۔ بتایا جاتا ہے کہ ورنگل لوک سبھا حلقہ کے کئی علاقوں میں وزراء اور عوامی نمائندوں کو اقلیتوں کی جانب سے تحفظات کے وعدے کے بارے میں استفسارات کئے جارہے ہیں ، جس سے ٹی آر ایس حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ بتایا جاتاہے کہ پارٹی نے مسلمانوں کی تائید حاصل کرنے کیلئے تحفظات کے حق میں موقف ظاہر کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کیلئے مسلمانوں کو تیقن دیا جائے گا کہ حکومت وعدے کی تکمیل کیلئے سنجیدگی سے اقدامات کرے گی۔ حکومت کے دیڑھ سال کی تکمیل کے بعد یہ پہلا امتحان ہے جس میں اقلیتی رائے دہندے قابل لحاظ تعداد میں ہیں اور ان کی تا ئید کے بغیر ٹی آر ایس  امیدوار کی کامیابی ممکن نہیں۔ ورنگل میں طلبہ اور کمزور طبقات کی جانب سے ٹی آر ایس کی بڑھتی مخالفت کو دیکھتے ہوئے مسلم اقلیت کے ووٹ فیصلہ کن موقف اختیار کرچکے ہیں۔ ان حالات میں اگر مسلم رائے دہندے حکومت پر وعدے کی تکمیل کے سلسلہ میں مدت کے تعین کیلئے دباؤ بنائیں گے تو یقینی طور پر حکومت کو اس سلسلہ میں ٹھوس اقدامات کیلئے مجبور ہونا پڑے گا ۔
اگر ٹی آر ایس مسلم ووٹ حاصل کرنے صرف وعدوں سے کام لے گی تو اس کا خمیازہ اسے گریٹر حیدرآباد میونسپل کارپوریشن کے مجوزہ انتخابات میں بھگتنا پڑسکتا ہے۔ کانگریس پا رٹی جو 12 فیصد تحفظات کے حق میں ہے ، وہ انتخابی مہم کے دوران اقلیتوں کی تائید حاصل کرنے ٹی آر ایس کے اس وعدہ کو پوری شدت کے ساتھ انتخابی موضوع بنانے کا فیصلہ کرچکی ہے ۔ ورنگل میں چونکہ سہ رخی مقابلہ کا امکان ہے، لہذا ٹی آر ایس اور کانگریس کے درمیان اقلیتی تائید کے حصول کیلئے 12 فیصد تحفظات اہم موضوع رہے گا۔ بتایا جاتا ہے کہ تلنگانہ کے تمام اضلاع میں 12 فیصد تحفظات کے حق میں جاری مہم کو دیکھتے ہوئے ٹی آر ایس کی قیادت الجھن کا شکار ہے اور ورنگل میں اسے مسلم رائے دہندوں کے موقف کا اندازہ ہوجائے گا۔ اقلیتوں کو چاہئے کہ وہ اس موقع سے فائدہ اٹھاتے ہوئے حکومت کو مجبور کردیں کہ وہ تحفظات کے وعدہ پر عمل آوری کیلئے مدت کا تعین کرے۔

TOPPOPULARRECENT