Monday , September 25 2017
Home / شہر کی خبریں / ۔13 جون سے اقلیتی اقامتی اسکولس کا آغاز

۔13 جون سے اقلیتی اقامتی اسکولس کا آغاز

اساتذہ کے تقررات کے لیے اسکولس سے متعلق سوسائٹی سرگرم
حیدرآباد۔ /19مئی، ( سیاست نیوز) تلنگانہ میں اقلیتوں کیلئے قائم کئے جانے والے 71 اقامتی اسکولس کا 13 جون سے آغاز ہوگا اور ان اسکولوں میں پرنسپل اور دیگر جائیدادوں پر تقررات کے سلسلہ میں اسکولوں سے متعلق سوسائٹی سرگرم ہوچکی ہے۔ تلنگانہ پبلک سرویس کمیشن کی جانب سے تقررات میں تاخیر کے امکانات کو دیکھتے ہوئے ابتدائی دو برسوں کیلئے ریٹائرڈ پرنسپلس و ٹیچرس کی خدمات حاصل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔ اس کے علاوہ دیگر سرکاری اسکولوں سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کو ڈیپوٹیشن پر حاصل کیا جاسکتا ہے۔ ہر اسکول کیلئے ایک پرنسپل کے علاوہ مضامین کے ٹیچر، ایک پی ٹی ٹیچر، ایک کرافٹ ٹیچر اور ایک نرس کا تقرر کیا جائیگا۔ حکومت نے تقررات کے اس عمل کیلئے متعلقہ ضلع کلکٹرس کو ذمہ داری دی ہے لیکن بڑی تعداد میں خواہشمند ریٹائرڈ پرنسپلس و ٹیچرس حج ہاؤز کے واقع اسکول سوسائٹی کے دفتر کے چکر کاٹ رہے ہیں۔ اس کے علاوہ سکریٹری اقلیتی بہبود اور اسکول عمارتوں کے انتخاب سے منسلک اسٹیٹ آفیسرس سے رجوع ہورہے ہیں۔ بڑی تعداد میں خواہشمندوں کو دیکھتے ہوئے درمیانی افراد سرگرم ہوچکے ہیں جو تقرر کا وعدہ کرتے ہوئے رقم کی مانگ کررہے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اس طرح کی بعض ٹولیاں سرگرم ہوچکی ہیں اور وہ شہر اور اضلاع سے آنے والے امیدواروں کے بائیو ڈاٹا جمع کررہے ہیں۔ حالانکہ تقررات کے سلسلہ میں کسی کا کوئی رول نہیں ہے۔ تقررات کے لئے متعلقہ ضلع کلکٹرس کو ذمہ داری دی گئی ہے جو محکمہ سماجی بھلائی سے وابستہ آؤٹ سورسنگ ایجنسی کے ذریعہ اساتذہ اور دیگر عملے کا تقرر کریں گے۔ امیدواروں کو درمیانی افراد سے رجوع ہونے کے بجائے راست طور پر متعلقہ ضلع کلکٹرس اور ان کے تحت اسکولوں سے متعلق عہدیدار سے رجوع ہونا چاہیئے۔ بتایا جاتا ہے کہ جاریہ ماہ کے اختتام تک پرنسپلس اور اساتذہ کے تقررات کا عمل مکمل کرلیا جائے گا۔ کئی امیدواروں نے شکایت کی کہ حج ہاوز میں بعض افراد ان سے رجوع ہوکر تقرر کا لالچ دے رہے ہیں۔ اسکول سوسائٹی سے وابستہ عہدیداروں نے امیدواروں کو مشورہ دیا کہ وہ درمیانی افراد کے جھانسہ میں آکر دھوکہ نہ کھائیں اور کسی بھی رہنمائی کیلئے راست طور پر عہدیداروں سے رجوع ہوں۔ انہوں نے کہا کہ اس طرح کے افراد کی اعلیٰ عہدیداروں سے نشاندہی کی جائے تاکہ ان کے خلاف کارروائی کی جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT