Thursday , August 17 2017
Home / ہندوستان / ۔16برسوں سے قید مسلم پی ایچ ڈی کا طالب علم دہشت گردی کے الزام سے بری

۔16برسوں سے قید مسلم پی ایچ ڈی کا طالب علم دہشت گردی کے الزام سے بری

ممبئی۔/19اپریل، ( سیاست ڈاٹ کام ) گزشتہ16سالوں سے زائد عرصہ سے ملک کی مختلف جیلوں کی سلاخوں کے پیچھے اپنی جوانی کے ایام گزارچکے مسلم نوجوان کو جو پی ایچ ڈی کا طالب علم بھی ہے آج آگرہ کی ایڈیشنل سیشن عدالت نے ناکافی ثبوت و شواہد کی بنیاد پر بم دھماکہ انجام دینے کا منصوبہ بنانے کے الزامات سے بری کردیا۔ یہ اطلاع آج یہاں ممبئی میں ملزم کو قانونی امداد فراہم کرنے والی تنظیم جمعیتہ علماء مہاراشٹرا ( ارشد مدنی) قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے دی۔ گلزار اعظمی نے کہا کہ9 اگسٹ 2000 ئو کو آگرہ کے صدر بازار میں واقع ایک گھر میں بم دھماکہ ہوا تھا جس کے بعد تحقیقاتی دستوں نے گلزار وانی کو گرفتار کیا اور اس پر الزام عائد کیا کہ وہ یوم آزادی سے قبل آگرہ میں بم دھماکوں کی سازش انجام دے رہا تھا اور وہ اس کے دیگر ساتھیوں کے ہمراہ بم سازی میں مصروف تھا جس وقت وہ بم پھٹا۔ انہوں نے کہا کہ آگرہ سیشن عدالت کے جج اجیت سنگھ کے روبرو جمعیتہ علماء کی جانب سے ملزم کی پیروی کیلئے مقرر کئے گئے وکیل عارف علی نے عدالت کو بتایا کہ استغاثہ  عدالت میں یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ ملزم کا اس واقعہ سے کوئی تعلق ہے نیز اس معاملے کے دیگر دو ملزمین معروف اور مبین جو پہلے ہی بری ہوچکے ہیں نے مبینہ طور پر ملزم کے کردار کا ذکر کیا تھا لیکن اب جبکہ دونوں ملزم پہلے ہی بری ہوچکے ہیں

لہذا  ملزم گلزار وانی کے خلاف صرف اور صرف شک کی بنیاد پر مقدمہ قائم کیا گیا اور اس تعلق سے تحقیقاتی دستہ نے عدالت میں ایسا کوئی بھی گواہ پیش نہیں کیا ہے جو اس بات کی گواہی دیتا کہ ملزم گلزار وانی بم دھماکہ منصوبہ کی تیاریوں میں ملوث تھا۔ ایڈوکیٹ عارف علی نے عدالت میں زبانی بحث کرتے ہوئے بتایا کہ ملزم کے خلاف کل 11مقدمات قائم کئے گئے تھے اس میں سے اب تک وہ 10میں باعزت بری ہوچکا ہے اور ایک مقدمہ زیر سماعت ہے۔ اس موقع پر جمعیتہ علماء قانونی امداد کمیٹی کے سربراہ گلزار اعظمی نے بتایا کہ ملزم کے خلاف پولیس نے 121A، 121، 120B، 123، 122 اور دھماکہ خیز مادہ رکھنے کے قانون کے تحت مقدمہ قائم کیا تھا لیکن 16سال کا طویل عرصہ گزرجانے کے باوجود استغاثہ یہ ثابت کرنے میں ناکام رہا ہے کہ ملزم کا اس معاملے سے کوئی تعلق تھا۔ نیز حرکت الجہاد اور حرکت المجاہدین جیسی ممنوعہ تنظیموں کا رکن ہونا بھی استغاثہ عدالت میں ثابت کرنے میں ناکام ہوا ہے۔ مقدمہ نمبر 988/2000 سے باعزت بری ہوجانے کے بعد اب گلزار وانی کے خلاف بارہ بنکی عدالت میں ایک مقدمہ زیر سماعت ہے اور انہیں امید ہے کہ بقیہ مقدمات کی طرح وہ بارہ بنکی مقدمہ سے بھی باعزت بری ہوجائیں گے اور مذکورہ بالا مقدمہ میں ملزم کی ضمانت پر رہائی کے تعلق سے عرضداشت عدالت عظمیٰ میں زیر سماعت ہے اور عدالت نے یو پی حکومت سے جواب طلب کیا ہے۔

TOPPOPULARRECENT