Friday , September 22 2017
Home / شہر کی خبریں / ۔17 ستمبر کو سقوط حیدرآباد کا جشن منانے کی اجازت نہ دی جائے

۔17 ستمبر کو سقوط حیدرآباد کا جشن منانے کی اجازت نہ دی جائے

کمشنر پولیس حیدرآباد سے تعمیر ملت کی نمائندگی ، یادداشت کی پیش کشی
حیدرآباد ۔ 13 ۔ ستمبر : ( پریس نوٹ ) : کل ہند مجلس تعمیر ملت کی سرکردگی میں ڈائرکٹر جنرل پولیس تلنگانہ شری انوراگ شرما کو پیش کردہ یادداشت میں بعض عناصر کی جانب سے 17 ستمبر کو سقوط حیدرآباد کا جشن منانے کی اجازت نہ دینے کا مطالبہ کیا گیا اور کہا گیا کہ ماضی میں کسی بھی حکومت نے نہ تو ایسا جشن منایا اور نہ اس کی اجازت دی ۔ اب ایسا جشن منانے کی اجازت دینے سے امن و امان کی فضا متاثر ہوگی اور فرقہ وارانہ تشدد کو ہوا ملے گی اور دو مذہبی گروپوں کے درمیان نفرت بڑھے گی ۔ اس لیے ہم یہ مطالبہ کرتے ہیں کہ کسی بھی انتہا پسند گروپ کو عوامی طور پر ایسی تقریب منانے سے باز رکھا جائے اور اس کی اجازت نہ دی جائے ۔ اس یادداشت پر جناب ضیا الدین نیر نائب صدر تعمیر ملت ، جناب خواجہ آصف احمد نائب صدر کل ہند مجلس تعمیر ملت ، کیپٹن ایل پانڈو رنگاریڈی صدر وائس آف تلنگانہ ، ڈاکٹر کولوری چرنجیوی صدر حیدرآباد دکن ڈیموکریٹک الائنس ، مولانا رحیم الدین انصاری صدر یونائٹیڈ مسلم فرنٹ ، مولانا احمد الحسینی ، جناب محمد منیر الدین مختار سکریٹری مسلم یونائیٹیڈ فرنٹ ، جناب کے ایم عارف الدین صدر مجلس مشاورت تلنگانہ ، جناب رام داس اور جناب سیف الرحیم قریشی ڈپٹی جنرل سکریٹری تعمیر ملت نے دستخط کئے ہیں ۔ یادداشت میں کہا گیا کہ سابق ریاست حیدرآبادکا انڈین یونین میں 26 جنوری 1956 کو الحاق عمل میں آیا اور نظام حیدرآباد ایچ ای ایچ نواب میر عثمان علی خاں نے دستور ہند کا افتتاح کیا ۔ یا اس سے پہلے ، اس وقت کے غیر یقینی حالات میں رضاکاروں اور کمیونسٹوں نے تشدد برپا کیا اور بعد میں سیاسی جماعتوں نے مفادات حاصلہ کے تحت ان مظالم کے لیے نظام کو بدنام کرنا شروع کیا اور اس میں وہ کامیاب رہے ۔ 13 تا 17 ستمبر 1948 کے دوران پولیس ایکشن ہوا جس کے ذریعہ نظام کی حکومت کا خاتمہ کردیا گیا لیکن بعد میں ان کو راج پرمکھ کی حیثیت سے دستوری حیثیت دی گئی ۔ وفد نے سوال کیا کہ کیا کسی متوفی دستوری سربراہ کے خلاف مظاہرے منظم کرنا مناسب اور مہذب سماج کے شایان شان ہے ؟ یادداشت میں کہا گیا ہے کہ پولیس ایکشن میں مسلمانوں کا بہت زیادہ جانی و مالی نقصان ہوا عورتوں اور بچوں کو بھی نہیں چھوڑا گیا ۔ مساجد کو شہید کیا گیا ، زبردستی مذہب تبدیل کروایا گیا مکانات اور اراضیات ضبط کرلی گئی ۔ پنڈت سندر لال کمیٹی نے بھی اس کی نشاندہی کی ۔ سرکاری اندازوں کے مطابق 40,000 لوگ مارے گئے جب کہ غیر سرکاری اعداد و شمار کے مطابق مہلوکین کی تعداد دو لاکھ سے زیادہ ہے ۔ مملکت حیدرآباد کو تین علاقوں میں تقسیم کرتے ہوئے تلنگانہ کے نو اضلاع کا آندھرا میں انضمام عمل میں آیا ۔ تلنگانہ میں اب بھی ایسے ہزاروں خاندان موجود ہیں جن کے ذہنوں میں پولیس ایکشن کی تلخ یادیں تازہ ہیں اور ایسے میں اس قسم کا جشن منانا ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے کے مترادف ہے ۔۔

TOPPOPULARRECENT