Thursday , October 19 2017
Home / شہر کی خبریں / ۔2 اکٹوبر تک خواتین کے لیے شی ٹائیلٹس !

۔2 اکٹوبر تک خواتین کے لیے شی ٹائیلٹس !

عوامی مقامات پر بھی بیت الخلاء تعمیر کیے جائیں گے
حیدرآباد۔3اگسٹ (سیاست نیوز) شہر میں خواتین کے لئے مخصوص بیت الخلاء کی تعمیر کا سال 2014میں اس وقت کے کمشنر مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد مسٹر سومیش کمار نے اعلان کیا تھا اور کہا تھا کہ دونوں شہروں حیدرآباد و سکندرآباد میں خواتین کیلئے مخصوص 100بیت الخلاء تعمیر کئے جائیں گے اور ان کیلئے جگہ کی نشاندہی کا عمل جاری ہے۔ سابق کمشنر جی ایچ ایم سی نے تو اس سلسلہ میں کوئی عملی اقدامات نہیں کئے لیکن اب یہی خواب ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی راما راؤ نے ریاست بھر کی بلدیات کو دکھانا شروع کر دیا ہے۔ سال 2014کے اواخر میں مجلس بلدیہ عظیم تر حیدرآباد کی جانب سے معلنہ اس منصوبہ پر شہر میں تو عمل آوری نہیں ہوئی لیکن اب اسی منصوبہ کو ریاست کے دیگر اضلاع و شہروں میں قابل عمل بنانے کی بات کہی جا رہی ہے۔ ریاست تلنگانہ کی تشکیل کے بعد جو صورتحال پیدا ہوئی اس میں عوام کی توقعات میں ہوتے اضافہ کو دیکھتے ہوئے سرکاری طور پر اعلانات تو کئے جانے لگے لیکن ان پر عمل آوری کے معاملہ میں ہونے والی کوتاہی کو آشکار کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ شہری حدود میں حکومت نے اپوزیشن کے خاتمہ کو یقینی بنایا اور اپوزیشن جماعتوں میں موجود منتخبہ عوامی نمائندوں کو برسراقتدار جماعت میں شامل کرتے ہوئے ان کی زبان بندی کردی گئی جبکہ جو کوئی منتخبہ نمائندے شہری حدود میں رہتے ہیں جن کا تعلق برسراقتدار جماعت سے نہیں ہے وہ ہمیشہ ہدایت کے منتظر رہے ہیں۔

ریاستی حکومت کی جانب سے ’’شی ٹائیلٹ ‘‘ منصوبہ کی بات کی جانے لگی ہے اور ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق نے ایک مرتبہ پھر اعلان کیا ہے کہ 2اکٹوبر 2016تک تمام میونسپل اور کارپوریشن کے حدود میں خواتین کیلئے مخصوص بیت الخلاء کی تعمیر عمل میں لائی جائے گی لیکن اس اعلان پر کس حد تک عمل ہوگا یہ خود وزیر اور عہدیدار ہی بہتر جانتے ہیں۔ باوثوق ذرائع سے موصولہ اطلاعات کے بموجب اس سلسلہ میں ریاستی حکومت نے پہلے سے تیار کردہ فائیبر کے پبلک ٹائلیٹ کو خواتین کیلئے مخصوص قرار دینے کی منصوبہ بندی کی ہے جو کہ مناسب نہیں ہے۔ دونوں شہروں میں عوامی مقامات پر عوامی بیت الخلاء کی تعمیر پر گذشتہ 10برسوں کے دوران کروڑہا روپئے خرچ کئے جا چکے ہیں

لیکن ان کروڑہا روپئے کے اخراجات کے باوجود اب تک بھی کوئی قابل لحاظ نتائج برآمد نہیں کئے جا سکے ہیں۔ گذشتہ دو برسوں کے دوران شہر کے مختلف علاقوں میں بائیو ٹائلیٹ کا منصوبہ پیش کیا گیا لیکن اس منصوبہ کو عملی جامہ پہنانے کے نام پر صرف ٹائلیٹ کے ڈھانچے نصب کئے گئے۔ ریاستی حکومت کی جانب سے کئے جانے والے اعلانات شہریوں کیلئے بے معنی ہوتے جا رہے ہیں

جس کی بنیادی وجہ حکومت کے ذمہ دار وزراء بھی صرف اعلانات کر رہے ہیں اور ان اعلانات پر عمل آوری کے کوئی امکانات نظر نہیں آرہے ہیں۔ ریاستی وزیر بلدی نظم و نسق مسٹر کے ٹی راما راؤ نے گذشتہ دنوں مئیرس و کمشنرس بلدیہ کی کانفرنس کے دوران اس منصوبہ کو از سر نو پیش کیا ہے جو منصوبہ دو سال قبل کمشنر جی ایچ ایم سی کی جانب سے پیش کیا جا چکا ہے۔ ریاست کے عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی کے ساتھ شہر کے سیاحتی مقامات پر عوام کو سہولتوں کی فراہمی ریاست کی شبیہہ کو بہتر بنا سکتی ہے اور زمینی حقائق کی بنیاد پر ہی ریاست کی ترقی کا شمار ہوگا لیکن ایسا محسوس ہو رہا ہے کہ ریاستی حکومت بھی مرکزی حکومت کے نقش قدم پر چلتے ہوئے ٹوئیٹر و فیس بک کے ذریعہ حکمرانی کو بہتر بنانے اور پیش کرنے میں مصروف ہو چکی ہے۔شہر کے عوام کو بنیادی سہولتوں کی فراہمی یقینی بنانا اس لئے بھی ضروری ہے کیونکہ بلدیہ اور حکومت کی جانب سے عوام پر ٹیکس کا بوجھ عائد کیا جا تا ہے تا کہ انہیں فراہم کی جانے والی خدمات میں بہتری کو برقرار رکھا جا سکے۔

TOPPOPULARRECENT