Tuesday , March 28 2017
Home / شہر کی خبریں / ۔2 ہزار روپئے نئی کرنسی کی بھی منسوخی کا خوف

۔2 ہزار روپئے نئی کرنسی کی بھی منسوخی کا خوف

رشوت ستانی طریقہ کار تبدیل ، اراضیات ، فلیٹس اور قیمتی اشیاء کے تحفے
نوٹ بندی کے منفی و مثبت اثرات ، بے نامی اثاثہ جات کی تبدیلی پر انٹلی جنس کی نظر
حیدرآباد ۔ 23 ۔ نومبر : ( سیاست نیوز ) : بڑے نوٹوں کی منسوخی کے بعد کرپشن میں اضافہ ہونے کے ساتھ ساتھ اس کا طریقہ کار بھی تبدیل ہوگیا ہے ۔ 2000 روپئے کی نوٹ بھی منسوخ ہونے کے ڈر سے 5 لاکھ سے زائد معاملت ، اراضیات ، فلیٹس یا قیمتی تحفوں کی شکل میں قبول کیے جارہے ہیں ۔ اعلیٰ عہدیدار پارٹیوں میں شرکت کرنے ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں ملاقات کرنے سے احتراز کررہے ہیں ۔ جب بھی ملک میں اصلاحات کے لیے کوئی بڑے اور سخت فیصلے کئے جاتے ہیں اس کے نتائج برآمد ہونے سے پہلے اس کا توڑ بھی نکال لیا جاتا ہے ۔ بڑے نوٹوں کی منسوخی کے بعد سکریٹریٹ اور کلکٹریٹ کے علاوہ دوسرے سرکاری دفاتر میں لگثرری گاڑیوں کی آمد و رفت بڑی حد تک گھٹ گئی ہے اور فائیلوں کا مومنٹ تھم سا گیا ہے ۔ سرکاری دفاتر میں بدعنوانیاں عام بات ہے ۔ سب سے زیادہ بدعنوانیاں محکمہ مال ، محکمہ رجسٹریشن کے علاوہ دوسرے محکمہ جات میں پائی جاتی ہے ۔ بڑے نوٹوں کی منسوخی اور انٹلی جنس کی چوکسی کے بعد عہدیدار بھی احتیاط برتنے میں اپنی عافیت محسوس کررہے ہیں ۔ عہدیدار قبل ازیں راست طور پر رشوت قبول کرتے تھے یا اپنے ارکان خاندان کے بنک کھاتوں میں رشوت کی رقم جمع کرایا کرتے تھے ۔ مرکزی حکومت اور آر بی آئی کے سخت رہنمایانہ خطوط کی اجرائی کے بعد اپنا طریقہ کار تبدیل کرچکے ہیں ۔ راست رشوت قبول کرنے کے بجائے اپنے لیے رازدار ایجنٹس کی خدمات سے استفادہ کررہے ہیں ۔ 5 لاکھ روپئے کی رشوت قبول کررہے ہیں اس سے زیادہ کی رقم کو بے نامی اراضیات یا فلیٹس کی صورت میں قبول کررہے ہیں ۔ اس کو ’ ڈیڈیکیٹ بے نامی ‘ کا نام دیا جارہا ہے ۔ زیادہ تر یہ کاروبار رئیل اسٹیٹ اور رجسٹریشن جیسے اداروں میں لے اوٹ اور دیگر منظوریوں ، اراضیات کا رجسٹریشن وغیرہ میں اس کا چلن شروع ہوگیا ہے ۔ انجینئرنگ کے علاوہ دیگر محکمہ جات میں کنٹراکٹرس سے معمول طلب کرنے والے عہدیدار انہیں فوری رقم ادا کرنے کے بجائے انہیں معمول اپنے پاس رکھنے اور حالت سازگار ہونے کے بعد ادا کرنے کی مہلت دے رہے ہیں ۔ بڑے نوٹوں کے منسوخی کے بعد عہدیداروں پر انٹلی جنس کی نگاہ بڑھ گئی ہے ۔ بڑے بڑے کنٹراکٹرس یا تاجرین اپنے کاموں کی انجام دہی کے لیے اعلیٰ عہدیداروں کو ہوٹلوں اور ریسٹورنٹس میں پارٹیاں دیا کرتے تھے ان ملاقاتوں کا سلسلہ بھی ختم ہوگیا ہے ۔ سرکاری عہدیدار اپنے پاس جمع منسوخ شدہ نوٹوں کو ایجنٹس کے ذریعہ 30 فیصد کمیشن پر باقاعدہ بنانے کی بھی اطلاعات وصول ہورہی ہیں ۔ ریاست میں بلاک منی کو وائیٹ کرنے کے کاروبار میں مصروف کئی افراد گرفتار بھی ہوئے ہیں ۔ بڑے نوٹوں کی منسوخی کے بعد بدعنوانیاں بھی بڑھ گئی ہیں ۔ سرکاری دفاتر میں فائیلوں کو آگے بڑھانے کے لیے 100 تا 1000 روپئے تک معمول وصول کیا کرتے تھے ۔ اب وہ 2 ہزار روپئے کی نوٹ طلب کررہے ہیں ۔ کرنسی کے بند ہوجانے کے بعد سونا خریدنے کے رحجان کو دیکھتے ہوئے آر بی آئی نے اس کی تحقیقات کرنے کا اعلان کیا ہے ۔ جس کے بعد عہدیدار سونا بطور رشوت قبول کرنے سے انکار کررہے ہیں ۔۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT