Friday , March 31 2017
Home / Top Stories / ۔2000 روپئے کے نئے نوٹوں کی بڑے پیمانے پر بلیک مارکیٹنگ

۔2000 روپئے کے نئے نوٹوں کی بڑے پیمانے پر بلیک مارکیٹنگ

تلنگانہ و آندھرامیں مختلف بینکوں کے 37اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف تحقیقات کا آغاز، انٹلیجنس رپورٹ پر آر بی آئی کی کارروائی

حیدرآباد۔/16نومبر، ( سیاست نیوز) دونوں تلگو ریاستوں تلنگانہ اور آندھرا پردیش میں 2000 روپئے کی نئی نوٹوں کی بڑے پیمانے پر بلیک مارکیٹنگ ہورہی ہے۔ انٹلی جنس کی رپورٹ کے بعد حیدرآباد کے 24اور وجئے واڑہ ، گنٹور، کرنول کے 13 جملہ 37 بینک کے اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف تحقیقات کا آغاز ہوگیا ہے۔ بینک  عہدیداروں کی جانب سے 25تا40 فیصد کمیشن قبول کرتے ہوئے بڑے  بابوؤں کو بھاری مقدار میں نئی کرنسی جاری کرنے کی شکایتیں وصول ہورہی ہیں، غریب عوام جائیں تو کہاں جائیں اور کس کو اپنی فریاد سنائیں۔ 500اور 1000 روپیوں کے نوٹ کی اچانک منسوخی کے بعد سارے ملک میں افراتفری کا ماحول ہے۔ روز مرہ کی زندگی کے گذر بسر کیلئے لاکھوں لوگ اے ٹی ایم اور بینکوں کے سامنے 2ہزار، 4 ہزار اور 10ہزار روپئے حاصل کرتے ہوئے گھنٹوں بھوکے پیاسے قطاروں میں ٹھہر رہے ہیں تاہم دولتمند افراد اپنے اثر و رسوخ اور بینک کے اعلیٰ عہدیداروں سے تعلقات کا بھرپور  فائدہ اٹھاتے ہوئے بغیر قطار میں کھڑے لاکھوں نہیں بلکہ کروڑہا روپئے حاصل کرنے کی ریزرو بینک آف انڈیا نے ابتدائی تحقیقات میں شناخت کی ہے۔ 10دن قبل وزیر اعظم نریندر مودی نے 500اور 1000 روپئے کی بڑی نوٹوں کو منسوخ کرنے کا اعلان کیا دوسرے دن بینکوں کو تعطیل دی گئی ، تیسرے دن سے اے ٹی ایم سے 2000 روپئے کے نوٹوں کی تبدیلی کے لئے 4000 روپئے اور بینک کھاتوں سے 10 ہزار روپئے کے نوٹ نکالنے کی حد مقرر کی گئی تاہم تلنگانہ اور آندھرا پردیش کے تمام بڑے شہروں میں پہلے دن 40 فیصد 13 نومبر تک 25تا30 فیصد کمیشن وصول کرتے ہوئے لاکھوں، کروڑوں روپئے جاری کرنے کی شکایتیں وصول ہوئیں۔ سنٹرل انٹلی جنس نے دونوں ریاستوں کے بڑے شہروں میں قومیائے ہوئے بینکوں کے پاس خفیہ طور پر نظر رکھی تھی اور 2 ہزار روپئے کے نوٹوں کی بلیک مارکیٹنگ کی مرکزی حکومت کو رپورٹ پیش کی جس کے بعد آر بی آئی نے حیدرآباد کے مختلف بینکوں کے 24 ، آندھرا پردیش کے تین شہروں وجئے واڑہ، گنٹور اور کرنول کے 13 اعلیٰ عہدیداروں کے خلاف تحقیقات کا آغاز کردیا۔ بیگم پیٹ کے ایک خانگی بینک سے بھاری نقد رقم کی لین دین ہوئی ہے۔

امدادی بینکوں سے سیاسی قائدین اپنے کالا دھن کو باقاعدہ رقم میں تبدیل کررہے ہیں۔ مرکزی محکمہ فینانس 2 ہزار کے نوٹوں کی اجرائی اور اس کی تقسیم کا گہرائی سے جائزہ لے رہی ہے۔ دلسکھ نگر کے قریب سنڈیکیٹ بینک کے دو ملازمین کو پولیس نے گرفتار کرلیا۔ اس بینک سے فرضی سرٹیفکیٹس پیش کرتے ہوئے 50لاکھ روپئے نکالے گئے ہیں جوبلی ہلز کے ایک بینک کے چیف منیجر نے اپنے دوست رئیل اسٹیٹ کاروبار سے وابستہ تاجر کو 25 فیصد کمیشن پر ڈھائی کروڑ روپئے ادا کرنے کی اطلاعات وصولی ہوئی ہیں۔ اتنی بڑی رقم بینک سے نکالنے کا ریزرو بینک آف انڈیا جائزہ لے رہا ہے۔ نیلور کے ایک بینک سے سینئر منیجر نے ایک تاجر کو 2 کروڑ روپئے پر مشتمل رقم 100 روپئے کے نوٹوں میں جاری کی ہے۔ کئی بینکوں میں چلر کی قلت ہونے کا بہانہ کرتے ہوئے بینکوں کی جانب سے عوام کے ہاتھوں میں 2ہزار روئے کی نوٹ تھمادی جارہی ہے اس کی بھی تحقیقات کی جارہی ہے۔ وجئے واڑہ اور ایلور، کرنول کے علاوہ دوسرے شہروں سے بھی ایسی شکایتیں وصول ہورہی ہیں۔ ایک طرف کالا دھن پر قابو پانے کی بات چل رہی ہے دوسری طرف کمیشن کا کاروبار عروج پر ہے اور 2 ہزار روپئے کی نئی نوٹ کی بلیک مارکیٹنگ ہورہی ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT