Thursday , August 17 2017
Home / Top Stories / ۔2000 روپئے کے نوٹوں کی منسوخی کی تجویز زیرغور نہیں

۔2000 روپئے کے نوٹوں کی منسوخی کی تجویز زیرغور نہیں

وزیرفینانس کا بیان، 1000، 2000 اور 100 روپئے کے سکوں کی اجرائی کے منصوبہ پر اپوزیشن کی وضاحت طلبی
نئی دہلی ۔ 26 جولائی (سیاست ڈاٹ کام) وزیرفینانس ارون جیٹلی نے راجیہ سبھا میں آج اعلان کیا کہ 2000 روپئے کے نوٹوں کی منسوخی کی کوئی تجویز حکومت کے زیرغور نہیں ہے۔ انہوں نے اس مسئلہ پر اپوزیشن ارکان کے مختلف سوالات پر جواب دیا۔ قبل ازیں راجیہ سبھا میں اپوزیشن نے آج وزیرفینانس ارون جیٹلی سے یہ وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا کہ حکومت آیا نئے جاری کردہ 2000 روپئے کے کرنسی نوٹ منسوخ کرتے ہوئے 1000 روپئے کا سکہ جاری کرنے کا فیصلہ کی ہے؟۔ تاہم جیٹلی نے جو اس وقت ایوان میںموجود تھے، اس مسئلہ پر وضاحت کیلئے اپوزیشن ارکان کے شدید اصرار کے باوجود کوئی جواب نہیںدیا۔ ایس پی کے نریش اگروال نے وقفہ صفر کے دوران یہ مسئلہ اٹھاتے ہوئے کہا کہ ’’حکومت 2000 روپئے کے نوٹوں کی منسوخی کا فیصلہ کی ہے۔ آر بی آئی کو 2000 روپئے کے نوٹ طبع نہ کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔ اگر پارلیمانی سیشن کے دوران کوئی پالیسی پر مبنی فیصلہ کیا جاتا ہے تو یہ روایت رہی ہے کہ ایوان میں اس کا اعلان کیا جا ئے‘‘۔ اگروال نے مزید کہا کہ ’’آر بی آئی 2000 روپئے کے تاحال 3.2 لاکھ نوٹ طبع کرچکی ہے اور اب اس کی طباعت روک دی ہے۔ آر بی آ ئی اختلاف نہیں کرسکتی۔ایک نوٹ بندی کی جاچکی ہے اور دوسری (نوٹ بندی) کا منصوبہ بنایا جارہا ہے۔ (اس مسئلہ پر) وزیرفینانس کو کچھ کہنا چاہئے‘‘۔ ان کے ریمارک پر نائب صدرنشین پی جے کوریئن نے کہا کہ ’’یہ آر بی آئی کا اقدام ہے‘‘۔ ان کے جواب میں اگروال نے کہا کہ پہلے بھی نوٹ بندی کا فیصلہ آر بی آئی نے نہیں بلکہ حکومت نے کیا تھا۔ آر بی آئی بورڈ نے اس کی مخالفت کی تھی لیکن حکومت نے یہ فیصلہ کیا تھا۔ پہلی مرتبہ نوٹ بندی کا فیصلہ بھی حکومت کا ہی رہے گا۔

اگروال کے نظریات سے اتفاق کرتے ہوئے اپوزیشن لیڈر غلام نبی آزاد نے بھی حکومت سے وضاحت طلب کی کہ آیا حکومت 1000 روپئے کے سکوں کی اجرائی کا منصوبہ بنارہی ہے۔ غلام نبی آزاد نے استفسار کیا کہ ’’ہر دن ہم 100روپئے، 200 روپئے اور 1000 روپئے کے سکوں کے بارے میں پڑھ رہے ہیں۔ اس کا حقیقی موقف کیا ہے؟۔ کیا ہمیں میڈیا جو کچھ لکھ رہا ہے اس کو درست سمجھنا چاہئے؟۔ وزیرفینانس کو چاہئے کہ وہ ایوان کو اس ضمن میں باخبر کریں اور یہ بتائیں کہ آخر سچ کیا ہے؟۔ غلام نبی آزاد نے برجستہ کہا کہ ’’اگر 1000 روپئے کے سکے آرہے ہیں تو ان سکوں کو رکھنے کیلئے کیا ہمیں پرس خریدنا ہوگا؟۔ ہم جانتے ہیں کہ ہماری بہنوں کے پاس پرس ہوا کرتے ہیں لیکن اب 1000 روپئے کے سکے رکھنے کیلئے ہمیں بھی پرس خریدنا ہوگا‘‘۔ کانگریس قائد نے کہا کہ اس مسئلہ پر کوئی سیاست نہ کی جائے۔ ڈی ایم کے کے تروچی سیوا نے کہا کہ وہ میڈیا اطلاعات پر مکمل یقین نہیں کرسکتے اور انہوں نے حکومت سے وضاحت کرنے کا مطالبہ کیا۔ جے ڈی (یو) کے شرد یادو نے کہا کہ یہ مسئلہ سنگین ہے کیونکہ شدت کے ساتھ افواہیں جاری ہیں۔ حکومت کو چاہئے کہ افواہوں کے خاتمہ کیلئے اس مسئلہ پر وضاحت کرے ورنہ عوام 2000 روپئے کے نوٹوں کو واپس کرنا شروع کردیں گے۔

TOPPOPULARRECENT