Wednesday , September 20 2017
Home / کھیل کی خبریں / ۔2016 ء : سندھو کواولمپک سلور میڈل ، ہندوستانی بیڈمنٹین کیلئے بہترین سال

۔2016 ء : سندھو کواولمپک سلور میڈل ، ہندوستانی بیڈمنٹین کیلئے بہترین سال

نئی دہلی ۔ /25 ڈسمبر ۔ (سیاست ڈاٹ کام) پی وی سندھو نے اولمپک سلور میڈل حاصل کرتے ہوئے عالمی سطح پر اپنا مستحکم مقام بنایا جبکہ سائینا نہیوال سال بھر اپنے زخموں سے مقابلہ کرتی رہیں اس طرح رواں سال کے دورہ ہندوستانی بیڈمنٹن نے عالمی سطح پر ایک بڑی چھلانگ لگاتے ہوئے ایک نئی بلندی کو چھولیا ۔ بالخصوص سندھو نے ریو اولمپکس میں سلور میڈل حاصل کرتے ہوئے عالمی بیڈمنٹن میں اپنا اہم مقام بنایا ۔ اس طرح یہ سال ان کے لئے کامیاب ثابت ہوا ۔ علاوہ ازیں سندھو کے مربی اور چیف کوچ پولیلا گوپی چند کیلئے بھی یہ کامیابی کا سال رہا کیونکہ وہ دو اولمپک میڈل یافتہ کھلاڑیوں کو تیار کرنے والے پہلے ہندوستانی کوچ کی حیثیت سے ابھرے ۔ رواں سال کا پہلا نصف سائینا کیلئے دشوار ثابت ہوا ۔ اس مدت کے دوران وہ اپنے زخموں سے مقابلہ کرتی رہی ۔ ان کے زخم سرخیوں میں اپنی جگہ بناتے رہے ۔ اس کے باوجود وہ ریو اولمپک کیلئے ہندوستان کی بہترین کھلاڑی سمجھی جاتی رہی ۔ چنانچہ ہندوستان کی یہ سرکردہ شٹلر ریو اولمپکس سے قبل اپنے زخموں کے علاج کی ممکنہ کوشش کرتی رہیں ۔ مشکلات کے باوجود وہ زخموں سے برآنے کے ساتھ کھیل پر توجہ مرکوز کرتی رہیں جس کے نتیجہ میں انہیں آسٹریلین سوپر سیریز میں کامیابی حاصل ہوئی ۔ ورلڈ چمپئین شپ میں اپنے دو برونز میڈلس کے باوجود سندھو اگرچہ میڈل کی ایک طاقتور ضرور  تھیں لیکن گولڈ میڈل کی سنجیدہ دعویدار نہیں رہیں کیونکہ ابتدائی کھیلوں میں وہ مقابلہ سے جلد خارج ہوگئی تھیں لیکن شومئی قسمت اولمپکس میں متضاد انجام ان دونوں لڑکیوں کا منتظر تھا ۔ سائینا دوسرے مرحلے میں کھیل سے باہر ہوگیئں اور بعد میں پتہ چلا کہ ان کی کہنی کی ہڈی سرک گئی ہے ۔ اس طرح سندھو اپنا سفر جاری رکھ پائیں اور اولمپکس میں سلور میڈل حاصل کرنے والی پہلی ہندوستانی بن گیئں ۔ یہ ایک ایسا واقعہ تھا جس نے سائینا کو بیڈمنٹن کے مناظر سے ہٹاکر پس منظر میں ڈھکیل دیا ۔ سائینا ممئبی میں سرجری کے بعد آرام و تربیت میں کافی وقت گزارتی رہیں ۔ اس دوران سندھو اولمپک کی عظیم کامیابی کا جشن مناتی رہیں ۔ اولمپک فتح کے علاوہ سندھو تاریخ کے دیگر کئی باب میں اپنے نام درج کرچکی ہیں ۔ چائینا اوپن جیتنے والی وہ تیسری ہندوستانی بن گیئں ۔ یہ ان کا پہلا سوپر سیریز پریمیئر ٹائیٹل بھی تھا ۔ بعد ازاں وہ ہانگ اوپن کے فائینلس تک پہونچیں ۔ علاوہ ازیں دبئی کے ورلڈ سوپر سیریز فائینلس کیلئے اپنے پہلے مقابلہ میں سیمی فائنل تک رسائی حاصل کیں ۔ ان کامیابیوں پر خوشی کے ساتھ سندھو نے کہا کہ ’’یہ میرے لئے ایک بہترین سال رہا کیونکہ کوئی اولمپکس میڈل جیتنا میرے لئے اہم کامیابی تھی ۔ ایک خواب تھا جو پورا ہوگیا ۔ سوپر سیریز ٹائیٹل جیتنا بھی ہمیشہ میرے ذہن میں رہا اور یہ خواب بھی پورا ہوگیا ۔ یقیناً نمبر ایک بننا میرا مقصد تھا ۔ مجھے اپنے کیرئیر کی چھ اہم کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں ۔ جس پر مجھے بیحد خوشی ہے ۔ میری خواہش ہے کہ یہ سلسلہ جاری رہے گا اور میں اپنا کھیل مزید بہتر بناتی رہوں گی ‘‘ ۔

TOPPOPULARRECENT