Thursday , September 21 2017
Home / Top Stories / ۔2022 میں چیف منسٹر یوپی کی رہائش گاہ پر فائر بریگیڈ سے گنگا جل کا چھڑکاؤ کیا جائیگا

۔2022 میں چیف منسٹر یوپی کی رہائش گاہ پر فائر بریگیڈ سے گنگا جل کا چھڑکاؤ کیا جائیگا

آدتیہ ناتھ کی سرکاری رہائش گاہ پر ہندو مذہبی رسوم کے مطابق صفائی پر اکھلیش کا طنز، کانگریس سے اتحاد جاری رکھنے کا فیصلہ

لکھنؤ 25 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر اترپردیش کی سرکاری رہائش گاہ کی ہندو مذہبی رسوم کے مطابق شدھی کرن (تطہیر و پاکیزگی) کی مذمت کرتے ہوئے سماج وادی پارٹی کے صدر اکھلیش یادو نے آج کہاکہ وہ (اکھلیش) 2022 ء میں اقتدار پر دوبارہ واپس آنے کے بعد فائر بریگیڈ کے ذریعہ گنگا جل کا چھڑکاؤ کروائیں گے۔ اکھلیش نے سماج وادی پارٹی کی قومی عاملہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہاکہ ’’2022 ء میں جب ہم اقتدار پر دوبارہف ائز ہوں گے فائر بریگیڈ (ٹرکوں) کے ذریعہ گنگا جل لائیں گے اور 5 کالیداس مارگ پر اس کا چھڑکاؤ کیا جائے گا۔ 5 کالیداس مارگ اترپردیش کے چیف منسٹر کی سرکاری رہائش گاہ ہے اور حالیہ اسمبلی انتخابات میں بی جے پی کے ہاتھوں اپنی بدترین شکست کے بعد اکھلیش نے اس عمارت کا تخلیہ کیا تھا۔ یادو نے کہاکہ ’’اس عمارت کے شدھی کرن (ہندو مذہبی رسوم کے مطابق صفائی و پاکیزگی) پر ہمیں کوئی مسئلہ یا پریشانی نہیں ہے۔ یہ اُمید کرتے ہیں کہ وہاں تین مور بھی تھے جن کی اچھی دیکھ بھال کی جائے گی‘‘۔ واضح رہے کہ بی جے پی حکومت کے ذمہ داری سنبھالنے کے ساتھ ہی ہندو سنتوں اور پجاریوں نے اس وسیع و عریض بنگلہ کی تطہیر و پاکیزگی کی رسوم انجام دیا تھا۔ یہ بنگلہ اب پجاری سے چیف منسٹر بننے والے یوگی آدتیہ ناتھ کی سرکاری رہائش گاہ ہوگا۔ اکھلیش یادو کے برجستہ تبصروں پر بی جے پی نے شدید ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے اُنھیں ناشائستہ قرار دیا اور ایس پی قائدین کے رویہ پر کئی سوالات اُٹھائے گئے۔

نئے چیف منسٹر یوگی آدتیہ ناتھ ہنوز اپنی سرکاری رہائش گاہ کو منتقل نہیں ہوئے ہیں۔ سمجھا جاتا ہے کہ وہ آئندہ ہفتہ سے شروع ہونے والے 9 روزہ تہوار نوراتری کے موقع پر اپنی نئی رہائش گاہ کو منتقل ہوں گے۔ اس دوران یوگی کے اس تبصرہ پر کہ اکھلیش سے وہ (یوگی) عمر میں ایک سال بڑے ہیں، اکھلیش نے ریمارک کیاکہ ’’یوگی جی عمر میں مجھ سے ایک سال سینئر ہیں لیکن کام کے معاملہ میں بہت پیچھے ہیں‘‘۔ اکھلیش یادو نے جن کی حکومت کو امن و قانون کے مسئلہ پر سخت تنقیدوں کا سامنا تھا ایسا محسوس ہوتا ہے کہ اُنھیں غلط موقف ظاہر کرنے پر وہ میڈیا کو مورد الزام ٹھہرانا چاہتے ہیں۔ سابق چیف منسٹر یادو نے کہاکہ ’’میں اُس دن کا انتظار کررہا ہوں جب میڈیا قتل اور عصمت ریزی کے واقعات کی خبر رسانی کے دوران یوگی کی تصاویر بالکل اس طرح دکھائے گا جس طرح میری تصاویر دکھایا کرتا تھا‘‘۔ ایس پی کے سربراہ نے الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں سے متعلق اپنی شکایات کی تحقیقات کا مطالبہ کا اعادہ کیا اور یہ مطالبہ کیاکہ مستقبل کے انتخابات میں بیلٹ پیپرس کے ذریعہ رائے دہی کروائی جائے۔ بی ایس پی کی سربراہ مایاوتی بھی الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے غلط استعمال کے الزامات عائد کرچکی ہیں۔ اکھلیش یادو نے کہاکہ کانگریس کے ساتھ ان کی پارٹی کا اتحاد برقرار رہے گا۔ اور سماج وادی پارٹی حالیہ انتخابات میں اپنی کارکردگی کا جائزہ لے گی۔

TOPPOPULARRECENT