Sunday , September 24 2017
Home / کھیل کی خبریں / ۔30 سال بعد: ’’میانداد کا وہ چھکا آج بھی پریشان کرتا ہے‘‘

۔30 سال بعد: ’’میانداد کا وہ چھکا آج بھی پریشان کرتا ہے‘‘

لندن ، 19 اپریل (سیاست ڈاٹ کام) سال 1986ء میں آسٹریلیشیا کپ کا فائنل جو 18 اپریل کا کھیلا گیا تھا، شاید ہی کوئی ہندوستانی کرکٹ مداح یاد رکھنا چاہے۔ لیکن ہر سال یہ دن آتا ہے اور گزشتہ 30 سالوں سے کسی تیر کی طرح ہندوستانی کرکٹ شائقین کے سینے میں لگتا ہے۔ دراصل، اسی دن شارجہ کرکٹ اسٹیڈیم میں پاکستانی اسٹار بیٹسمن جاوید میانداد نے چیتن شرما کے آخری اوور کی آخری گیند پر چھکا لگا کر پاکستان کو نہ صرف شاندار جیت دلائی بلکہ پاکستان کو اولین خطاب دلایا۔ اتنا ہی نہیں اس چھکے نے اس میچ کو کرکٹ کی تاریخ کے سب سے سنسنی خیز اور یادگار مقابلوں میں شامل کر دیا۔ میچ کی آخری گیند پر پاکستان کو چار رنز کی ضرورت تھی۔ آخری کھلاڑی کریز پر تھے جس میں سے ایک جاوید تھے جو 110 رنز بنا کر کھیل رہے تھے۔ اُس آخری گیند سے پہلے اُن کے ذہن میں کیا تھا، اس بارے میں جاوید میانداد نے آکسفرڈ پریس سے شائع اپنی سوانح عمری ’’کٹنگ ایج‘‘ میں تفصیل بتائی ہے۔ ’’میں 113 گیندوں پر 110 رنز بنا کر کھیل رہا تھا۔ میں گیند کو بہتر طریقے سے دیکھ پا رہا تھا۔ میں نے فیصلہ کر لیا تھا کہ گیند بیاٹ پر آئی تو باؤنڈری کے پار ہوگی۔ میں نے فیلڈ کا معائنہ کیا۔ مجھے پتہ تھا کہ کہاں کہاں فیلڈرز ہیں۔ پھر بھی میں نے دوبارہ فیلڈ کو دیکھا۔ ایک ایک کو گنا۔‘‘ ’’لوگ کہتے ہیں کہ چیتن شرما نے یارکر پھینکنے کی کوشش کی، شاید گیند اُن کے ہاتھ سے پھسل گئی۔ میں آگے بڑھ کر کھیل رہا تھا اور یہ گیند میرے لئے پرفیکٹ ثابت ہوئی۔ لیگ اسٹمپ پر اچھی اونچائی والی فل ٹاس تھی۔ میں نے بیاٹ گھمایا اور ہم جیت گئے، پاکستان جیت گیا۔ یہ میری زندگی کی سب سے بہترین یاد ہے۔‘‘ اس ٹورنمنٹ سے قبل پاکستان نے ونڈے کا کوئی بڑا ٹورنمنٹ نہیں جیتا تھا اور اس چھکے کی بدولت ہی پاکستان ٹیم انڈیا کے خلاف ہر مقابلے سے پہلے نفسیاتی برتری حاصل کرنے میں کامیاب رہی۔ جاوید اس چھکے سے پاکستان کے سب سے بڑے ہیرو بن گئے۔ دوسری طرف چیتن کیلئے یہ چھکا ایک داغ بن گیا جو اُن کے پورے کریئر پر بھاری پڑا۔ چیتن ایک بولر کے طور پر اپنے پہلے ٹسٹ کے پہلے اوور میں وکٹ حاصل کرچکے تھے۔ اَڈیلیڈ میں ایک ٹسٹ میچ میں دس وکٹیں حاصل کرنے والے پہلے ہندوستانی بولر بھی بنے تھے۔ بعد میں انھوں نے ورلڈ کپ میں ہیٹ ٹرک لینے کا پہلا کرشمہ 1987ء میں کردکھایا اور آل راؤنڈر کے طور پر ونڈے سنچری بھی بنائی۔ لیکن لوگ انہیں اُس چھکے کیلئے زیادہ یاد کرتے ہیں۔ خود چیتن شرما کئی بار کہہ چکے ہیں کہ میانداد کا وہ چھکا آج بھی انھیں پریشان کرتا ہے۔ (بہ شکریہ : بی بی سی ڈاٹ کام)

TOPPOPULARRECENT