Monday , October 23 2017
Home / عرب دنیا / ۔30 ہزار عراقیوں کی اقوام متحدہ کی امداد تک رسائی

۔30 ہزار عراقیوں کی اقوام متحدہ کی امداد تک رسائی

عراقی شہر قیارہ دولت اسلامیہ کے قبضہ سے آزاد، شہر پر دھوئیں کے بادل
بغداد 6 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) اقوام متحدہ نے آج کہاکہ اُس نے 30 ہزار سے زیادہ قیارہ میں ساکن عوام کو غذائی اجناس سربراہ کئے ہیں۔ گزشتہ دو سال میں یہ پہلی مرتبہ ہے جبکہ ایسی سربراہی عمل میں آئی ہے۔ عراق کے شمالی قصبہ کو عراقی افواج نے جہادیوں کے قبضہ سے آزاد کروالیا ہے۔ 25 اگسٹ کو سرکاری افواج نے دولت اسلامیہ کو قیارہ سے نکال باہر کیا تھا جو دفاعی اہمیت کا شہر ہے۔ جہادیوں نے اسے اپنی جارحانہ کارروائیوں کی منصوبہ بندی کے لئے منتخب کیا تھا۔ اب عراق کے شمال میں دولت اسلامیہ کا آخری مستحکم گڑھ موصل باقی رہ گیا ہے۔ قیارہ کے عوام کی گزشتہ دو سال تک اقوام متحدہ کے عالمی غذائی پروگرام تک رسائی نہیں تھی۔ عراق کے لئے اقوام متحدہ کے لئے پروگرام ڈائرکٹر سیلی ہیڈاک نے کہاکہ گزشتہ ہفتہ سربراہ کی جانے والی غذائی اشیاء میں کھجور، پھلیاں، ڈبہ بند غذائیں، دالیں، چاول، آٹا اور سبزیوں کا تیل جو ایک ماہ کے لئے کافی ہوسکتا ہے، شامل ہیں۔ شہر سنگین صورتحال سے گزر رہا ہے۔

اطراف و اکناف کے تیل کے کنوؤں کو جہادیوں نے جنگ کے دوران آگ لگادی تھی۔ جن سے اُٹھنے والے کثیف دھوئیں کے بادل شہر کی فضاء پر چھائے ہوئے ہیں۔ تمام دوکانیں یا تو تباہ ہوچکی ہیں یا بند ہیں۔ غذائی اجناس کے ذخائر خطرناک حد تک کم ہوچکے ہیں۔ عوام صرف گیہوں پر اپنا گزارا کررہے ہیں۔ جس کی حال ہی میں فصل اُگائی گئی ہے۔ پینے کا محفوظ پانی، برقی سربراہی اور طبی خدمات تقریباً ناقابل رسائی ہیں۔ اقوام متحدہ کے غذائی ادارہ کے بموجب تقریباً 2 ہزار بے گھر افراد کو جو کیمپوں میں مقیم ہیں، غذائی اجناس سربراہ کی گئی ہیں۔ قیارہ کے اطراف و اکناف کے علاقوں کے خاندان اِن بے گھر افراد کے میزبان ہیں۔ دریائے دجلہ کے کنارے آباد قیارہ پر عراق کی خصوصی فوج نے اقوام متحدہ زیرقیادت مخلوط اتحاد کے فضائی حملوں کی مدد سے آزاد کروایا ہے۔ اس پر قبضہ عراقی فوج کی مہم کا ایک حصہ تھا۔ اب عراق میں دولت اسلامیہ کا آخری مستحکم گڑھ شہر موصل باقی رہ گیا ہے۔ عراق میں خانہ جنگی کے آغاز سے اب تک 34 لاکھ افراد فرار ہوچکے ہیں۔ موصل پر حملہ کے لئے کم از کم 10 کروڑ 60 لاکھ امریکی ڈالرس کی ضرورت ہے تاکہ بے گھر ہونے والے خاندانوں کو 2016 ء کے اواخر تک بازآبادکاری فراہم کی جائے۔

TOPPOPULARRECENT