Friday , August 18 2017
Home / ہندوستان / ۔5 لاکھ سے زائد آمدنی کا انکم ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد صرف 5.5 لاکھ

۔5 لاکھ سے زائد آمدنی کا انکم ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد صرف 5.5 لاکھ

ملک میں صرف 24 لاکھ لکھ پتی لیکن سالانہ 25 لاکھ کاروں کی فروخت

نئی دہلی 27ڈ سمبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان میں صرف 24.4 لاکھ ایسے ٹیکس دہندگان ہیں جنھوں نے اعلان کیا ہے کہ ان کی سالانہ آمدنی 10 لاکھ روپئے سے زائد ہے لیکن یہ بھی ایک حقیقت ہے کہ اس ملک میں صرف 24 لاکھ لکھ پتی افراد ہونے کے باوجود گزشتہ 5 سال سے سالانہ 25 لاکھ کاریں فروخت ہوئی ہیں جن میں 35000 لکژری کاریں بھی شامل ہیں۔ ہندوستان کی آبادی 125 کروڑ نفوس پر مشتمل ہے اور صرف 3.65 کروڑ افراد نے سال 2014-15 ء کے لئے اپنے انکم ٹیکس ریٹرنس داخل کئے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ ایسے افراد کی ایک بھاری تعداد ہنوز ٹیکس کے حدود سے باہر ہے جن کی اچھی خاصی آمدنی ہے اور اُنھیں ٹیکس ادا کرنا لازمی ہے۔ ایک عہدیدار نے کہاکہ ’’صرف 3.65 کروڑ افراد 2014-15 ء میں اپنے انکم ٹیکس ریٹرنس داخل کئے۔ ان میں صرف 5.5 لاکھ ایسے افراد ہیں جنھوں نے اپنی سالانہ آمدنی 5 لاکھ روپئے سے زائد بتاتے ہوئے اس کا انکم ٹیکس ادا کیا۔ ٹیکس کی ادائیگی میں ان کا حصہ 57 فیصد ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ انکم ٹیکس ریٹرنس داخل کرنے والے 3.65 کروڑ افراد کے منجملہ 1.5 فیصد افراد ٹیکس کا 57 فیصد حصہ ادا کرتے ہیں۔ ٹیکس ریٹرنس اور کاروں کی فروخت کی تفصیلات سے حیرت انگیز حقائق کا انکشاف ہوتا ہے۔ گزشتہ پانچ سال کے دوران اوسطاً سالانہ 25 لاکھ کاریں فروخت ہوئیں۔ گزشتہ تین سال کے دوران کاروں کی فروخت بالترتیب 25.03 لاکھ ، 26 لاکھ اور 27 لاکھ رہی۔ یہ اعداد و شمار اس بات کا اشارہ کرتے ہیں کہ قیمتی کاریں خریدنے والے افراد کی ایک کثیر تعداد ہنوز ٹیکس ادائیگی کے دائرہ سے باہر ہے۔ انکم ٹیکس تفصیلات کے مطابق صرف 48,417 افراد نے اپنی سالانہ آمدنی ایک کروڑ روپئے سے زائد بتائی ہے۔ اس کے برخلاف بی ایم ڈبلیو، جاگوار، آؤڈی، مرسیڈیز، پورش اور میسارانی جیسی 35000 لکژری کاریں ہر سال فروخت ہوا کرتی ہیں۔ 2016 ء کے دوران ہندوستان میں ٹیکس سے ہونے والی آمدنی مجموعی گھریلو پیداوار کا 16.7 فیصد حصہ رہی۔ جبکہ امریکہ میں یہ 25.4 فیصد اور جاپان میں 30.3 فیصد ہے۔ چنانچہ ٹیکس چوری کے انسداد کے لئے حکومت مختلف اقدامات کررہی ہے تاکہ بھاری آمدنی والوں کو انکم ٹیکس ادا کرنے پر مجبور کیا جاسکے۔

TOPPOPULARRECENT