Tuesday , May 23 2017
Home / دنیا / ۔6مسلم ممالک پر امتناع کے باوجود امریکہ محفوظ نہیں : کملا ہیریس

۔6مسلم ممالک پر امتناع کے باوجود امریکہ محفوظ نہیں : کملا ہیریس

واشنگٹن ۔ 7 مارچ (سیاست ڈاٹ کام) امریکی صدر ڈونالڈ ٹرمپ نے جنوری میں جو متنازعہ ایگزیکیٹیو حکمنامہ جاری کیا تھا جس کے تحت سات مسلم اکثریتی ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلہ پر امتناع عائد کیا گیا تھا اور جس کے بعد پورے امریکہ میں اس حکمنامہ کے خلاف احتجاجی مظاہرے شروع ہوگئے تھے۔ ایسی صورتحال میں پنٹاگان اور اسٹیٹ ڈپارٹمنٹ نے بھی صدر موصوف کو مشورہ دیا تھا کہ وہ حکمنامہ پر نظرثانی کریں جس کے بعد عراق کا نام فہرست سے حذف کردیا گیا اور چھ مسلم ممالک کے شہریوں کے امریکہ میں داخلہ پر عارضی پابندی عائد کرتے ہوئے اس کی اجرائی عمل میں آئی لیکن اس کے باوجود اعلیٰ سطحی ہندوستانی نژاد امریکی قانون سازوں نے اندیشہ ظاہر کیا ہیکہ امریکہ کو ہنوز مکمل طور پر محفوظ نہیں کہا جاسکتا۔ کیلیفورنیا سنیٹیر کملاہیریس نے کہا کہ میری بات غور سے سن لیجئے۔ امریکی حکومت اگر مسلم ممالک پر امتناع عائد کررہی ہے تو اس سے کوئی فائدہ نہیں ہوگا۔ مسلم برادری کو یکاوتنہا کرکے امریکی شہری خطرہ مول لے رہے ہیں جبکہ ضرورت اس بات کی ہیکہ ہم اپنے ہی ملک میں پیدا ہونے والی دہشت گردی کی سرکوبی کریں۔ چاہے کچھ بھی کہو، امریکہ نے جو حکمنامہ جاری کیا ہے وہ بالکل غیرامریکی ہے اور امریکی روایتوں اور رواداری کی پاسداری نہیں کرتا۔ ایوان نمائندگان میں پہلی ہندوستانی نژاد امریکی سینیٹر کملاہیریس کے ساتھ دیگر چار ہندوستانی امریکی شہری ایمی بیرا، راجہ کرشنا مورتی، روکھنہ اور پرمیلاجے پال بھی شامل ہوگئے۔ انہوں نے کہا کہ ایک طرف توہم عراق کا نام امریکہ کی فہرست سے خارج کئے  جانے کی ستائش کرتے ہیں تاہم اس کے باوجود صدر ٹرمپ کو چھ دیگر مسلم ممالک کے تارکین وطن اور پناہ گزینوں سے قومی سلامتی کو لاحق خطرہ کا ثبوت دینا ہوگا۔ صدر ٹرمپ نے عدالت کے حکم التواء کے بعد امتناعی حکم نامہ میں ترمیم کرتے ہوئے کل اس پر دستخط کردیئے ہیں۔ عراق کو ممنوعہ فہرست سے حذف کردیا گیا ہے۔

Leave a Reply

TOPPOPULARRECENT