Wednesday , September 20 2017
Home / Top Stories / ۔70 فیصد عوام 1000 روپئے کے نوٹوں کی واپسی کے خواہاں

۔70 فیصد عوام 1000 روپئے کے نوٹوں کی واپسی کے خواہاں

حیدرآباد کے ادارہ کا سروے، خوردہ کی قلت سے نمٹنے 200 روپئے کے نئے نوٹوں پر اطمینان

ممبئی 12 ستمبر (سیاست ڈاٹ کام) ایک سروے سے یہ دلچسپ انکشاف ہوا ہے کہ 10 ماہ قبل نوٹ بندی کے موقع پر 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کی منسوخی کے بعد ملک کی تقریباً 70 فیصد آبادی 1000 روپئے کے بینک نوٹوں کی دوبارہ واپسی چاہتی ہے۔ حکومت نے گزشتہ سال 500 اور 1000 روپئے کے نوٹوں کو منسوخ کی تھی جو مارچ 2016ء میں زیرگشت 16.24 کھرب روپئے مالیتی بینک نوٹوں کا 86 فیصد حصہ تھیں۔ نوٹ بندی کے اقدام سے کھربوں روپئے کا کالے دھن برآمد ہونے نوٹ بندی کے حامیوں اور حکومت کی توقعات کے برخلاف ریزرو بینک آف انڈیا (آر بی آئی) نے گزشتہ ہفتہ یہ چونکا دینے والا انکشاف کیاکہ 99 فیصد منسوخ شدہ نوٹ بینکوں میں واپس پہونچ گئے ہیں۔ حیدرآباد میں واقع مقامی زبان کے مختصر نیوز ایپ وے 20 آن لائن کی طرف سے کئے گئے سروے کے مطابق سروے میں شامل تقریباً 69 فیصد آبادی نے 1000 روپئے کے نوٹ کی ضرورت سے متعلق ایک سوال پر ’ہاں‘ میں جواب دیا۔ نوٹ بندی کے بعد آر بی آئی کی طرف سے 500 اور 2000 روپئے کے نوٹ جاری کئے گئے تھے۔ سروے نے مزید کہا ہے کہ پرانے نوٹوں کی آسان تبدیلی کے لئے 500 اور 2000 روپئے کے نئے نوٹ جاری کئے گئے تھے جس کے نتیجہ میں چھوٹے کرنسی نوٹوں میں کاروبار کرنے کے لئے چھوٹے کرنسی نوٹوں کے حصول کا بہت کم موقع باقی رہ گیا تھا۔ سروے نے کہاکہ نوٹ بندی کے بعد تقریباً 62 جواب دہندگان کو خوردہ (چلر) کے حصول میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑا۔ جبکہ 38 جواب دہندگان کو چلر کے حصول میں کوئی دشواری پیش نہیں آئی۔ چلر کی قلت سے نمٹنے کے لئے آر بی آئی نے 200 روپئے کے کرنسی نوٹ متعارف کرنے کا اعلان کیا جس سے متعلق ایک سوال پر 67 فیصد افراد نے مثبت جواب دیا اور 17 فیصد نے کہاکہ ان نئے نوٹوں سے کوئی خاص فرق نہیں ہوگا۔

TOPPOPULARRECENT