Saturday , August 19 2017
Home / Top Stories / ’’۔90 سے زیادہ افراد مرچکے، اور کتنے مودی بابو؟‘‘

’’۔90 سے زیادہ افراد مرچکے، اور کتنے مودی بابو؟‘‘

Chief minister of eastern Indian state of West Bengal and Trinamool Congress party chief, Mamata Banerjee, speaks with the media before leaving for parliament in New Delhi March 19, 2012. Still smarting from defeat in regional elections last month, the government of Prime Minister Manmohan Singh is currently seeking to pass its 2012-13 budget in parliament and seems to be again bending to the wishes of ambitious coalition partner Banerjee. REUTERS/Parivartan Sharma (INDIA - Tags: POLITICS)

وزیراعظم سے استعفیٰ کا مطالبہ ، معیشت تباہی کے دہانے پر: ممتا بنرجی
کولکتہ 8 ڈسمبر (سیاست ڈاٹ کام) چیف منسٹر مغربی بنگال ممتا بنرجی نے کہاکہ نوٹ بندی کے ایک ماہ سے عوام مالی عدم تحفظ اور ہراسانی کا شکار ہیں۔ اُنھوں نے کہاکہ وزیراعظم نریندر مودی کو قوم کے سامنے صورتحال کی مکمل وضاحت کرنی چاہئے اور اِس کی مکمل ذمہ داری بھی قبول کرنی چاہئے۔ اُنھوں نے دعویٰ کیاکہ بڑی کرنسی بند کرنے کے سبب عوام کو جو مشکلات پیش آئیں اُس کی وجہ سے 90 افراد کی موت واقع ہوگئی۔ ممتا بنرجی نے ایک بیان میں کہاکہ یہ ہراسانی، تکلیف، نااُمیدی، مالی عدم تحفظ اور انتہائی افراتفری کا ایک ماہ رہا۔ اُنھوں نے کہاکہ 8 نومبر کو وزیراعظم نے جو کرنسی بند کرنے کا سیاہ فیصلہ کیا تھا، اُس کا نتیجہ یہ ہے کہ عوام صرف پریشان کن حالات سے گزر رہے ہیں۔ وزیراعظم کو قوم کے سامنے صورتحال کی وضاحت اور اِس سارے معاملہ کی ذمہ داری قبول کرنی چاہئے۔ اُنھوں نے دعویٰ کیاکہ اب تک کوئی کالا دھن برآمد نہیں کیا گیا۔ صرف عام آدمی کا سفید دھن چھین لیا گیا۔ ترنمول کانگریس کے ارکان پارلیمنٹ سرمائی سیشن کے آغاز سے
پارلیمنٹ کے دونوں ایوانوں میں مسلسل احتجاج کررہے ہیں۔ ممتا بنرجی نے کہاکہ بیرونی ممالک سے کالا دھن نہیں لایا گیا اور نام نہاد کالا دھن کی بازیابی کے نام پر مرکز میں حکمراں جماعت نے اراضیات، بینک ڈپازٹ، سونا، ہیروں کی شکل میں اثاثے تیار کرلئے ہیں اور وہ سب سے بڑی سرمایہ دارانہ جماعت بن چکی ہے۔ ممتا بنرجی نے مودی کے اعلان کے بعد سے کرنسی بندی کے خلاف بڑے پیمانے پر احتجاجی مہم شروع کررکھی ہے۔ اُنھوں نے ٹوئٹر پر لکھا کہ ’’کرنسی بندی کا اعلان ہوئے ایک ماہ گزر گیا، 90 سے زائد لوگ اپنی جان گنوابیٹھے۔ مزید کتنے چاہئے مودی بابو؟‘‘ اُنھوں نے کہاکہ ملک اِس وقت مالی ایمرجنسی سے گزر رہا ہے۔ پیداوار ٹھپ ہوگئی۔ زرعی سرگرمیاں ماند پڑی گئی ہیں اور خرید و فروخت میں کمی واقع ہوگئی۔ معیشت لڑکھڑا رہی ہے۔ اُنھوں نے کہاکہ کسان، مزدور، غیر منظم شعبہ کے ورکرس، روزگار سے وابستہ طبقہ، طلبہ، بیمار، معمر اور معذور افراد ناقابل بیان مصائب سے دوچار ہے۔

TOPPOPULARRECENT