Tuesday , September 26 2017
Home / دنیا / ۔9/11 خفیہ رپورٹ سعودی سازباز کا ثبوت نہیں

۔9/11 خفیہ رپورٹ سعودی سازباز کا ثبوت نہیں

منظر عام پر لانے کی تائید ، سی آئی اے سربراہ جان برنن کا انٹرویو
واشنگٹن ۔ /12 جون (سیاست ڈاٹ کام) سی آئی اے کے سربراہ جان برنن نے کہا ہے کہ 9/11 حملوں کے بارے میں کانگریس تحقیقاتی رپورٹ کی خفیہ معلومات کو سعودی عرب کے سرکاری طور پر سازباز کا ثبوت تصور نہیں کیا جانا چاہئیے ۔ اس رپورٹ کا  خفیہ حصہ جو 28 صفحات پر مشتمل ہے اسے برسرعام لایا جائے یا نہیں اس بارے میں عنقریب فیصلہ کیا جائے گا ۔ سابق سنیٹر باب گراہم جو سنیٹ انٹلیجنس کمیٹی کے اس وقت سربراہ تھے یہ الزام عائد کیا تھا کہ سعودی عہدیداروں نے 9/11 اغواء کنندوں کی مدد کی تھی اور انہوں نے یہ بھی کہا تھا کہ 28 صفحات کی یہ رپورٹ برسرعام لائی جائے ۔ جان برنن نے العربیہ چیانل کو دیئے گئے انٹرویو میں کہا کہ ان کا یہ اندازہ ہے کہ 28 صفحات پر مشتمل رپورٹ عوام کے سامنے لائی جائے گی ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ایسا کرنا اچھا ہوگا لیکن عوام کو چاہئیے کہ اسے حملوں میں سعودی سرکاری سازباز کا ثبوت نہ سمجھیں ۔

سی آئی اے کے سربراہ جان برینن نے کہا کہ انہیں یقین ہے کہ 28 خفیہ صفحات جو 11ستمبر سانحہ کی تحقیقات کرنے والے کمیشن کی رپورٹ میں شامل تھے ‘ سعودی عرب حکومت کی برہمی کی وجہ بن گئے ہیں ۔ اس کا ادعا ہے کہ 11ستمبر  کے القاعدہ دہشت گرد حملوں میں وہ ملوث نہیں تھا ان حملوں میں جن خاندانوں کے افراد ہلاک ہوئے ہیں وہ طویل مدت سے 2002ء کی اس رپورٹ کے خفیہصفحات طلب کررہے ہیں ۔ سرکاری طور پر محکمہ سراغ رسانی کے کارکنوں کی مشترکہ تفتیش کیلئے ایک کمیٹی 11ستمبر 2001ء کے حملوں کے بعد حکومت امریکہ نے ایک کمیٹی قائم کی تھی جس کی رپورٹ کا برسرعام اعلان کردیا گیا ہے ۔ وسیع پیمانے پر یہ قیاس آرائی کی جارہی ہے کہ یہ صفحات سعودی عرب سے متعلق ہیں ‘ اس کے دولت مند شہریوں نے دہشت گرد کارروائیوں کو مالیہ فراہم کیا تھا ۔

TOPPOPULARRECENT