Sunday , October 22 2017
Home / شہر کی خبریں / بابری مسجد کی شہادت ، مسلمانوںکے حقوق کے ساتھ ناانصافی

بابری مسجد کی شہادت ، مسلمانوںکے حقوق کے ساتھ ناانصافی

حیدرآباد ۔ /6 ڈسمبر (راست) زعفرانی طاقتوں نے رام مندر کی تعمیر کیلئے جھوٹی من گھڑت رام کی کہانیاں گھڑکر جھوٹ کو اتنا پھیلایا کہ معصوم ہندوستانیوں کے ذہن آلودہ ہوگئے ۔ ان خیالات کا اظہار ڈاکٹر اسماء زہرہ رکن عاملہ آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے متحدہ تحفظ شریعت کمیٹی کی جانب سے منعقدہ جلسہ احتجاج بعنوان ’’یوم شہادت بابری مسجد‘‘ پر خواتین و طالبات کو مخاطب کرتے ہوئے کیا ۔ انہوں نے کہا کہ مسجد کوڈھانے کیلئے تمام لوگوں نے اپنے وعدے توڑے ۔ مسجد کو ڈھانے کیلئے ہندوؤں کے ذہن کو جوڑا گیا ۔ ایک رتھ یاترا کے ذریعہ جھوٹ کی تحریک چلائی گئی ۔ اس تحریک کو اتنا پھیلایا گیا کہ تمام حکومت کو اپنے اقتدار میں لے کر حکومت قائم کرلی ۔ جبکہ ہم مسلمانوں میں ان 23 سالوں میں صرف بیداری پیدا ہوئی ۔ مگر ہمیں متحد کرنے والا کوئی بھی نہیں تھا ۔ مسلمانوں کے اختلافات نے اتحاد کو روکا ۔ بڑی بڑی جماعتوں نے ہر پروگرام کیا ۔ مگر بابری مسجد کو بالکل بھلادیا ۔ یہی وجہ ہے کہ مسجد تعمیر نہ ہوسکی ۔ ہمارا ایک پلیٹ فارم نہیں بن سکا ۔ بابری مسجد کی کمیٹی بھی ناکام رہی ۔ کیونکہ 2008 ء تا 2012 ء کے جو Judgments بھی آئے اس سے ہمارے مسئلے حل نہیں ہوسکے ۔ محترمہ شمیم فاطمہ نمائندہ جمعیت النساء اسلامی نے کہا کہ مسجد اللہ تعالیٰ کا پسندیدہ مقام ہے ۔ ایمان کی پہچان ہے ۔ وقت کی  یہ اہم ضرورت ہے کہ ہر مسلمان ایسا ہی ایمان اپنے اندر پیدا کرے ۔ پروفیسر جمیل النساء رکن آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ نے کہا کہ بازیابی بابری مسجد کیلئے ہم مسلمانان ہند ہر وہ ممکن کوشش کرتے رہیں گے جس کے ذریعہ ہماری مسجد ہمیں دوبارہ واپس مل جائے ۔ ڈاکٹر تسنیم احمد کنوینر جلسہ احتجاج نے کہا کہ 1992 ء ، /6 ڈسمبر کو بابری مسجد شہید کردی گئی  یہ ایک المناک واقعہ ہے ۔ ان سیاسی پارٹیوں کا مقصد مسلمانوں کو مسجد سے روکنا تھا ۔ انہوں نے مسلمانوں کی مسجد کو ڈھا کر ظلم عظیم کیا ہے ۔ محترمہ تہنیت اطہر صدر مسلم گرلز اسوسی ایشن نے کہا کہ /6 ڈسمبر ملت اسلامیہ کیلئے تاریک اور غم و الم کا دن ہے ۔ 23 سالوں کا جائزہ لینے سے یہ چیز مشاہدے میں آرہی ہے کہ مسلمانوں میں بابری مسجد کے سلسلے میں  بے حسی بتدریج بڑھتی جارہی ہے ۔ شعار اسلام کے معاملے میں لاپرواہی برتی جارہی ہے ۔ مائیں اور بہنیں اپنی ذمہ داری کو اچھی طرح محسوس کریں اور ایمان کے تحفظ ، شعائر اسلام کے تحفظ اور دین کے تحفظ کیلئے ہرممکنہ قربانی کیلئے اپنے آپ کو تیار رکھیں ۔ اپنی صلاحیتوں ،  اپنے علم و وقت اور پیسے سے ملت اسلامیہ کی سربلندی کیلئے کوشش کریں ۔ محترمہ میمونہ سلطانہ رکن عاملہ متحدہ تحفظ شریعت کمیٹی نے کہا کہ مساجد توحید کا مرکز ہے ، یہاں صرف اللہ کی عبادت ہوگی کسی اور کی عبادت نہ ہوگی ۔ لہذا بابری مسجد جو شہید کردی گئی ، ناجائز قبضہ کے ذریعہ مندر کا عارضی ڈھانچہ جو قائم کیا گیا ہے وہ سراسر ظلم ہے ۔ مسلمانوں پر ان کے حقوق کے ساتھ ناانصافی ہے اور ہم مسلمان جب تک اس مسجد کو دوبارہ حاصل نہ کرلیں گے چین سے نہ رہیں گے ۔ بھلے ہی اور کتنا صبر آزما دور ہم پر سے نہ گزرجائے ۔ مسجد کیلئے ہم ہر طرح کی قربانی دینے کیلئے تیار ہیں ۔ محترمہ رقیہ فرزانہ رکن عاملہ متحدہ تحفظ شریعت کمیٹی نے درس قرآن پیش کیا ۔ خواتین و طالبات کی کثیر تعداد اس جلسہ احتجاج میں شریک تھی ۔

TOPPOPULARRECENT