Sunday , September 24 2017
Home / شہر کی خبریں / اردو کی ترقی کے لیے محلہ واری کمیٹیوں کی تشکیل ضروری

اردو کی ترقی کے لیے محلہ واری کمیٹیوں کی تشکیل ضروری

نئی نسل کو مادری زبان پڑھنے اور پڑھانے پر زور ، پروفیسر مجید بیدار کا خطاب
حیدرآباد ۔ 10 ۔ نومبر : ( تبارک نیوز ) : ڈاکٹر مجید بیدار سابق صدر شعبہ اردو عثمانیہ یونیورسٹی نے کہا ہے کہ اردو کی ترقی کے لیے محلہ وار سطح پر کمیٹیوں کی تشکیل دے کر باضابطہ تعلیمی نظم کی نگرانی کریں اور ساتھ ساتھ اپنی ذمہ داریوں کو محسوس کرتے ہوئے نئی نسل کو اپنے گھر میں بچوں کے لیے مادری زبان پڑھنے اور پڑھانے کا کم از کم آدھا گھنٹہ نظم کریں ۔ پروفیسر مجید بیدار کل دوپہر اولڈ بوائز اسوسی ایشن مغل پورہ کے زیر اہتمام منعقدہ اجلاس بعنوان ’ اردو اور ہماری ذمہ داریاں ‘ سے مخاطب کرتے ہوئے ان خیالات کا اظہار کیا ۔ پروفیسر بیدار نے کہا کہ آج دنیا میں جتنی کتابیں اسلامی شائع کی گئی ہیں اگر ان کا جائزہ لیا جائے تو پتہ چلتا ہے کہ صرف اردو ہی ایسی زبان ہے جس میں سب سے زیادہ اسلامی کتب کی اشاعت عمل میں آئی ہے ۔ اردو زبان کی بقا ہی سے اسلامی تعلیمات کی بھی بقا ہوگی ۔ انہوں نے مزید کہا کہ دینی و اخلاقی تعلیم کے لیے ایک ایسا نصاب تیار کیا جائے جو آسان فہم اور بنیادی تعلیم سے لے کر روزمرہ کی زندگی کے اسلامی اصول پر مبنی ہوں ۔ جس طرح آج امریکہ اور یوروپ میں رہنے والے مسلمانوں نے اپنے بچوں کی اسلامی تعلیم و تربیت کے لیے مدون کیا ہے ۔ اجلاس کی صدارت ڈاکٹر نادر المسدوسی صدر اسوسی ایشن نے کی ۔جناب شوکت علی درد نے کہا کہ آج انگریزی میڈیم اسکولوں کا جال بچھا ہوا ہے ۔ آپ ڈاکٹر یا انجینئر و دیگر تعلیم کو انگریزی میڈیم سے پڑھائیے لیکن مادری زبان اردو میں اپنے نونہالوں کو مہارت سے ہمکنار کریں ۔ انہوں نے کہا کہ زبان میں مہارت پیدا کرنا ہی اہم ہے جس کی وجہ آج ہماری تہذیب و تمدن و تاریخ اور اسلامی علوم سے واقفیت کے لیے لازمی ہے ۔ جناب محمد الیاس بیگ پرنسپل علاء الدین ٹیکنیکل ایجوکیشن نے کہا کہ جب تک مادری زبان کو ہم نہ حاصل کریں ۔ دیگر علوم کو بھی کماحقہ حاصل نہیں کیا جاسکتا ۔ انہوں نے کئی مثالیں پیش کی کہ کس طرح قدیم اردو میڈیم کے طلبہ نے ملک و قوم کی خدمت کی اور بڑے بڑے عہدوں پر فائز ہوئے ۔ جناب فیض محمد اصغر سکریٹری اسوسی ایشن نے خیر مقدمی تقریر میں کہا کہ آج اردو کے لیے عملی اقدامات کی ضرورت ہے ۔ بعد ازاں جناب شوکت علی درد کی نگرانی میں مشاعرہ کا انعقاد عمل میں آیا ۔ جناب فرید سحر ، باقر محمد ، نادر المسدوسی و دیگر نے اپنے کلام سناکر خوب داد حاصل کی جب کہ جناب فرید سحر نے مزاحیہ اشعار کے ذریعہ محفل کو زعفران زار کردیا ۔ اس اجلاس کی یہ خصوصیت تھی کہ مغل پورہ اولڈ بوائز اسوسی ایشن کے اس اجلاس میں تمام سابقہ طلبہ نے شرکت کی ۔ جن میں مندرجہ بالا پروفیسر و دیگر مقررین بھی شامل ہیں ۔ جناب جاوید عارفی کے شکریہ پر محفل کا اختتام عمل میں آیا ۔۔

TOPPOPULARRECENT