Wednesday , August 23 2017
Home / سیاسیات / عدم رواداری پر بحث زرخرید افراد ـ کی کارستانی

عدم رواداری پر بحث زرخرید افراد ـ کی کارستانی

مرکزی وزیر وی کے سنگھ کا الزام، علاقائی پرواسی بھارتیہ دیوس سے خطاب
لاس اینجلس ۔ 16 نومبر (سیاست ڈاٹ کام) ہندوستان میں عدم رواداری پر بحث ’’غیرضروری‘‘ پر شروع کی گئی ہے اور اس کا آغاز چند ایسے اختراعی ذہنوں کی پیداوار ہے جنہیں ’’خطیر رقمیں‘‘ ادا کی گئی ہیں۔ مرکزی وزیر وی کے سنگھ نے الزام عائد کیا کہ بہار انتخابات سے پہلے کیا جانے والا یہ اقدام سیاسی مفادات پر مبنی تھا۔ انہوں نے کہا کہ بین الاقوامی سطح پر کوئی مباحث نہیں ہورہے ہیں۔ اس لئے یہ غیرضروری مباحث تھے جو چند اختراعی دماغوں کی تخلیق تھے جنہیں اس کیلئے خطیر رقم ادا کی گئی ہے۔ وہ وزیرخارجہ سشماسوراج کی جگہ علاقائی پرواسی بھارتیہ دیوس تقریب میں جو لاس اینجلس میں منعقد کی گئی، تقریر کررہے تھے۔ وہ مرکزی وزیر برائے مملکت وزارت خارجہ ہیں۔ سشماسوراج کو دبئی سے وطن واپس ہوجانا پڑا تھا کیونکہ پیرس میں دہشت گرد حملے ہوئے تھے۔ وی کے سنگھ نے الزام عائد کیا کہ ہندوستان میں عدم رواداری پر بحث سیاسی مفادات پر مبنی ہے اور بہار اسمبلی انتخابات سے پہلے دانستہ طور پر شروع کی گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وہ یہ تبصرہ نہیں کرسکتے کہ ہندوستانی ذرائع ابلاغ کی کارکردگی کیسی ہے۔ وہ ان تمام مزاحیہ باتوں سے ہٹ کر عدم رواداری کے بارے میں تبصرہ کرنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ آپ کا کیا مطلب ہے جبکہ دہلی اسمبلی انتخابات ہوئے تھے تو اچانک پتہ چلا تھا کہ مضامین کا سیلاب آ گیا ہے جس کی وجہ سے بڑے پیمانے پر ہیجان پیدا ہوا۔ یہ گرجا گھروں کی تخلیق تھے جن پر حملے کئے جارہے ہیں۔ عیسائی فرقہ الگ تھلگ ہوگیا ہے وغیرہ وغیرہ۔ وی کے سنگھ نے جو سابق سربراہ فوج ہیں، ہندوستان میں عدم رواداری کے بارے میں ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے کہا کہ گرجاگھر میں چوری کے معمولی واقعہ کو چرچ پر حملہ ظاہر کیا گیا کیوں؟ کیونکہ کوئی شخص تھا جو ووٹ حاصل کرنا چاہتا تھا اور ذرائع ابلاغ اس کے کھلونے بنے ہوئے تھے۔ چاہے اس کیلئے انہیں ادائیگی کی گئی ہو یا نہ کی گئی ہو وہ نہیں جانتے لیکن یہ ایک ایسا فیصلہ ہے جو آپ کو کرنا چاہئے۔ میں صرف آپ کو حقائق سے واقف کروا رہا ہوں۔ جس دن انتخابات ہونے والے تھے، تمام شور و ہنگامہ برپا کیا گیا۔ عدم رواداری کی یہ بحث اس وقت چھیڑی گئی جبکہ بہار انتخابات بہت قریب تھے اور ہر شخص رائے دہی کیلئے جارہا تھا۔ اس لئے اس قسم کی بحث غیرضروری تھی۔ کونسی بات غلط ہے اور کونسے لوگ ہیں جو عدم رواداری کے بارے میں بات کررہے ہیں۔ میں اس کو تحریری طور پر آپ کے سامنے پیش کرنا چاہتا ہوں۔ کیا ہوا جبکہ ایک گاندھیائی قائد (انا ہزارے) نے جن کی عمر 70 سال سے زیادہ ہوچکی ہے، کرپشن کے خلاف جنگ کرنے کا فیصلہ کیا۔ انہیں حکومت وقت نے تہاڑ جیل میں قید کردیا تھا۔ اس وقت ان افراد کی اخلاقی طاقت کہاں تھی کیونکہ انہوں نے اس کے خلاف ایک لفظ بھی نہیں کہا ۔

TOPPOPULARRECENT